سری لنکا کے کھلاڑیوں کو عالمی کپ کے بعد سے تنخواہ نہیں ملی

عالمی کپ 2011ء کی میزبانی سری لنکا کرکٹ کے لیے مالی طور پر انتہائی ضرر رساں ثابت ہوئی ہے اور وہ اب تک اس کے اثرات سے باہر نہیں نکل پایا۔ گو کہ آسٹریلیا کے خلاف حالیہ ہوم سیریز میں اخراجات نکلنے کی توقع تھی تاہم سری لنکا کی ناقص کارکردگی کے باعث یہ موقع بھی ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ اب کرکٹ بورڈ کی تمام تر نظریں بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے عالمی کپ کے سلسلے میں ملنے والی بقیہ رقم پر مرکوز ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے 'بی بی سی' نے بتایا ہے کہ عالمی کپ 2011ء کے بعد سے اب تک بورڈ نے قومی کرکٹ ٹیم کے چند کھلاڑیوں سمیت تقریباً 100 کھلاڑیوں کو تنخواہیں ادا نہیں کی ہیں اور اگلے دو ماہ تک بھی ان کو ادائیگی کے امکانات نظر نہیں آ رہے۔

پالی کیلے کا خوبصورت میدان، نئے اسٹیڈیمز کی تعمیر سری لنکن کرکٹ کے لیے مالی لحاظ سے بڑا بوجھ ثابت ہوئی ہے

پالی کیلے کا خوبصورت میدان، نئے اسٹیڈیمز کی تعمیر سری لنکن کرکٹ کے لیے مالی لحاظ سے بڑا بوجھ ثابت ہوئی ہے

سری لنکا کرکٹ کے چیئرمین اُپالی دھرماسینا نے ذرائع ابلاغ کی ان خبروں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کو سری لنکا کو 4 سے 5 ملین ڈالرز کی ادائیگی کرنی ہے اور جیسے ہی رقم موصول ہوتی ہے کھلاڑیوں کو تنخواہ ادا کر دی جائے گی۔

سری لنکا کرکٹ نے عالمی کپ 2011ء کی میزبانی کے لیے نہ صرف کولمبو میں موجود پریماداسا اسٹیڈیم کی تزئین و آرائش کی تھی بلکہ پالی کیلے اور ہمبنٹوٹا میں دو نئے میدان بھی بنائے گئے جس پر اُس وقت بھی ملک کے کرکٹ حلقوں نے شدید تنقید کی تھی کہ عالمی کپ کے مقابلوں کا انعقاد پہلے سے تعمیر شدہ میدانوں پر ہونا چاہیے بجائے اس کے کہ دور دراز کے علاقوں میں اتنے بڑے اسٹیڈیمز تعمیر کرنے پر اربوں روپے خرچ کیے جائیں۔

Facebook Comments