صرف کھلاڑی ہی نہیں امپائر بھی فکسنگ میں ملوث ہوتے ہیں؛ للت مودی کا انکشاف

بھارتی پریمیئر لیگ کے سابق کمشنر للت مودی نے انکشاف کیا ہے کہ میچ فکسنگ میں محض کھلاڑی ہی نہيں بلکہ امپائر اور منتظمین بھی شامل ہوتے ہیں۔

للت مودی کا یہ بیان اس سمت میں بہت اہم ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ وہ دنیا کی سب سے بڑی لیگ کے اس عہدے پر رہے ہیں جہاں سے معاملات کو بہت قریب سے دیکھتے ہوں گے۔ بین الاقوامی کرکٹ کے مقابلے میں اک ایسی لیگ کرکٹ میں میچ یا اسپاٹ فکسنگ کے امکانات کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں جہاں بڑے بڑے کاروباری اداروں کی ٹیمیں ایک دوسرے سے نبرد آزما ہوں۔ اس میں بلاشبہ زیادہ بڑے اور اثر و رسوخ رکھنے والے ادارے سٹے بازوں کے ذریعے اپنی ٹیموں کے آگے بڑھنے کا راستہ بناتے ہوں گے

للت مودی دنیا کی سب سے بڑی لیگ کے اعلیٰ ترین عہدیدار رہ چکے ہیں اس لیے ان کا بیان بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے (تصویر: Getty Images)

للت مودی دنیا کی سب سے بڑی لیگ کے اعلیٰ ترین عہدیدار رہ چکے ہیں اس لیے ان کا بیان بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے (تصویر: Getty Images)

بہرحال، لندن میں پاکستان کے تین کھلاڑیوں پر اسپاٹ فکسنگ کے ذریعے سٹے بازوں سے رقوم حاصل کرنے کا جرم ثابت ہونے کے بعد اپنے ٹویٹر پیغامات میں للت مودی کا کہنا تھا کہ امپائروں اور منتظمین کی ان حرکات سے قطع نظر کیا جاتا ہے حالانکہ ان پر بھی اتنا ہی دھیان دینے کی ضرورت جتنا کہ کھلاڑیوں پر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میچ اور اسپاٹ فکسنگ میں شامل عناصر اور حقیقت کو سامنے آنے سے روکنے والے افراد دونوں فکسنگ کے اس سرطان کے بڑھنے کے ذمہ دار ہیں۔

انہوں نے میچ فکسنگ میں ملوث افراد کے لیے کڑی سے کڑی سزا کا مطالبہ کیا اور کہا کہ انہیں کسی بھی سطح پر کھیل میں حصہ لینے سے تاحیات روک دیا جانا چاہیے۔ اسپاٹ فکسنگ کے معاملے پر رتی برابر بھی رعایت نہیں ہونی چاہیے۔

واضح رہے کہ پاکستان کے تین کھلاڑی سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر کو گزشتہ روز برطانیہ کی عدالت نے بدعنوانی کے ذریعے رقوم حاصل کرنے اور دھوکہ دہی کے مقدمے میں مجرم قرار دیا تھا۔ تینوں کھلاڑی پہلے ہی بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی جانب سے کم از کم 5،5 سال کی پابندی بھگت رہے ہیں۔

اس سلسلے میں برطانوی عدالت نے اب تک تینوں کھلاڑیوں کے خلاف سزاؤں کا اعلان نہیں کیا ہے اور آج عدالت کے اگلے اجلاس میں اس امر کا فیصلہ کیا جائے گا۔

Facebook Comments