شاہد آفریدی کی ذکا اشرف سے ملاقات، ٹیم میں واپسی کے لیے پراُمید

پاکستان کے سابق کپتان شاہد خان آفریدی ایک مرتبہ پھر قومی ٹیم میں شمولیت کے لیے پر تول رہے ہیں اور سری لنکا کے خلاف ایک روزہ سیریز کے لیے دستے کے اعلان میں تاخیر کی وجہ بھی شاید اُن کی شمولیت کے حوالے سے معاملات واضح ہونے کا انتظار ہو۔ اسی سلسلے میں شاہد آفریدی نے بدھ کی صبح پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے چیئرمین ذکا اشرف سے لاہور میں ملاقات کی اور وہ ٹیم میں واپسی کے حوالے سے بہت زیادہ پرامید دکھائی دیتے ہیں۔ چیئرمین ذکا اشرف سے چند روز قبل کہا تھا کہ وہ پاکستان میں کرکٹ کی اصلاح کے لیے سابق کرکٹرز سے ملاقاتیں اور مشورے کریں گے اور اس سلسلے میں انہوں نے شاہد آفریدی کا نام لیتے ہوئے کہا تھا کہ اُن میں ابھی چند سال کی کرکٹ باقی ہے۔

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان 5 ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں کی سیریز کا آغاز 11 نومبر سے ہو رہا ہے جبکہ دونوں ٹیمیں اس وقت ٹیسٹ مرحلے میں آمنے سامنے ہیں۔

ہو سکتا ہے کہ سری لنکا کے خلاف سیریز کے لیے ٹیم کے اعلان میں تاخیر کا سبب شاہد آفریدی کا انتظار ہو (تصویر: Reuters)

ہو سکتا ہے کہ سری لنکا کے خلاف سیریز کے لیے ٹیم کے اعلان میں تاخیر کا سبب شاہد آفریدی کا انتظار ہو (تصویر: Reuters)

چیئرمین پی سی بی سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق کپتان شاہد خان کا کہنا تھا کہ نئے چیئرمین کے ساتھ اپنے خیالات پیش کر کے میں بہت پرامید ہیں۔ گو کہ انہوں نے میری شمولیت کے حوالے سے براہ راست کوئی بات نہیں کی لیکن مجھے یقین ہے کہ میں جلد بین الاقوامی کرکٹ میں واپس آؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ مجھ میں ابھی کافی کرکٹ باقی ہے اور میں اس عرصے کو قوم کی نمائندگی کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ مجھے ٹیم کی قیادت میں اب کوئی دلچسپی نہیں ہے، میں صرف اور صرف پاکستان کی جانب سے کھیلنے کا خواہاں ہوں اور مصباح الحق کی زیر قیادت بھی کھیلوں گا۔ انہوں نے کہا کہ مصباح نے رواں سال عالمی کپ کے دوران میری بہت مدد کی تھی۔ انہوں نے ازراہِ مذاق کہا کہ قومی کرکٹ ٹیم کی قیادت اِس وقت 'قربانی کا بکرا' بننے والی بات ہے اور بہرحال یہ بورڈ کا معاملہ ہے کہ وہ قیادت جس کے سپرد کرے تاہم میں اس کا امیدوار نہیں ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں خود کو ٹیسٹ کرکٹ کے قابل نہیں سمجھتا اس لیے اس سے بدستور ریٹائر رہوں گا اور صرف محدود اوورز کی کرکٹ پر اپنی توجہ مرکوز رکھوں گا۔

اسپاٹ فکسنگ مقدمے میں پاکستان کے تین کھلاڑیوں کو مجرم قرار دیے جانے کے معاملے پر شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ یہ تمام کھلاڑیوں کے لیے سبق ہے تاہم انہیں کھلاڑیوں کے اہل خانہ کے ساتھ بہت ہمدردی ہے۔

قومی کرکٹ ٹیم کے لیے بیٹنگ، باؤلنگ اور فیلڈنگ کے الگ الگ کوچز کی تقرری کے حوالے سے چیئرمین ذکا اشرف کے بیان کو شاہد آفریدی نے خوش آئند قرار دیا۔

شعلہ فشاں بلے باز کو رواں سال دورۂ ویسٹ انڈیز کے دوران کوچ وقار یونس اور ٹیم انتظامیہ سے الجھنے کے باعث قیادت اور ٹیم میں جگہ دونوں سے ہاتھ دھونا پڑ گئے تھے۔ بورڈ کے ساتھ معاملات خراب ہونے کے بعد انہوں نے احتجاجاً بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لی تاہم اُسی وقت کہہ دیا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور ٹیم انتظامیہ میں تبدیلی کے بعد وہ پاکستان کے لیے ایک مرتبہ پھر کھیلنے پر غور کریں گے اور اب جبکہ ہوائیں اُن کے رخ پر چلنے لگی ہیں اور ان کے دو اہم حریف اعجاز بٹ اور وقار یونس 'سابق' ہو چکے ہیں، شاہد آفریدی کو ایک مرتبہ پھر میدان صاف نظر آ رہا ہے اور آج ان کی ذکا اشرف سے ہونے والی ملاقات اس سلسلے میں اہم پیشرفت کا سبب بن سکتی ہے۔

Facebook Comments