اسپاٹ فکسنگ مقدمے کا سب سے ہنگامہ خیز دن، مظہر مجید کے انکشافات، عامر نئی مصیبت میں گرفتار

کرکٹ کی تاریخ کے سب سے اہم مقدمہ کا فیصلہ کل (جمعرات کو) برطانیہ کی عدالت میں ہونے جا رہا ہے جبکہ بدھ کو لندن کی ساؤتھ وارک کراؤن کورٹ میں مقدمے کے 21 ویں روز جہاں مرکزی کردار مظہر مجید نئے ہوشربا انکشافات کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے، وہیں تینوں کھلاڑیوں سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر نے اپنے وکلا کے ذریعے اختتامی بیانات پیش کیے گئے جنہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ عدالت ان کو سزائے قید نہیں دے گی۔

یہ اس مقدمے کا پہلا دن تھا جب تمام مجرم بیک وقت عدالت میں پیش آئے اور جن میں سماعت سے قبل اعتراف جرم کرنے والے محمد عامر اور مظہر مجید اور گزشتہ روز مجرم قرار دیے گئے محمد آصف اور سلمان بٹ بھی شامل تھے۔ دن کا آغاز تباہ کن انداز میں ہوا جب مظہر مجید کے وکیل مارک ملی کین-اسمتھ نے عدالت کے سامنے الزام لگایا کہ مظہر مجید کا سٹے بازوں سے براہ راست کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ اس راستے پر انہیں سلمان بٹ نے لگایا۔

محمد عامر نے مقدمے کی باضابطہ سماعت میں پہلی بار شرکت کی اور ان کا جذباتی بیان عدالت کو سنایا گیا (تصویر: AFP)

محمد عامر نے مقدمے کی باضابطہ سماعت میں پہلی بار شرکت کی اور ان کا جذباتی بیان عدالت کو سنایا گیا (تصویر: AFP)

مارک ملی کین –اسمتھ کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ مظہر مجید کو پہلی بار فکسنگ کے بارے میں سلمان بٹ نے اس وقت بتایا جب وہ انگلستان میں منعقدہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2009ء کے دوران ایک عشائیےمیں شریک تھے۔ بعدازاں پاکستان نے یہ ٹورنامنٹ جیت کر 17 سال بعد کوئی بڑا اعزاز حاصل کیا تھا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ تینوں کھلاڑیوں کو معاملے کو طشت ازبام کرنے والے اخبار نیوز آف دی ورلڈ سے ملنے والی ڈیڑھ لاکھ برطانوی پاؤنڈز (ڈھائی کروڑ سے زائد پاکستانی روپے) میں سے 77 ہزار برطانوی پاؤنڈز (ڈیڑھ کروڑ سے زائد پاکستانی روپے) کی رقم دی گئی تھی جن میں سے ڈھائی ہزار پاؤنڈز (تقریبا ساڑھےتین لاکھ پاکستانی روپے) محمد عامر اور 10 ہزار پاؤنڈز (ساڑھے 13 لاکھ سے زائد پاکستانی روپے) سلمان بٹ کو دیے گئے تھے جبکہ 65 ہزار پاؤنڈز (تقریبا 90 لاکھ پاکستانی روپے) کی خطیر رقم محمد آصف کو دی گئی تھی۔ آصف کو اتنی بڑی رقم دینے کے حوالے سے مظہر مجید کے وکیل کا کہنا تھا کہ اس کا سبب انہیں اپنے غیر قانونی دھندے میں آصف کی موجودگی اور وفاداری برقرار رکھنا تھا کہ کہیں وہ کسی اور کا رخ نہ کر لیں۔

ان ہوشربا انکشافات کے سامنے آنے پر سلمان بٹ اور محمد آصف کے وکیلوں نے عدالت سے استدعا کی کہ اس معلومات کو ذرائع ابلاغ کے سامنے پیش ہونے سے روکا جائے کیونکہ ان دعووں میں کوئی سچائی نہیں ہے تاہم جج نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔

بعد ازاں مظہر مجید کے وکیل نے اپنے موکل کی سزا کو کم سے کم کرنے کے لیے کئی دلائل پھینکے جس کا بنیادی نکتہ یہی تھا کہ مظہر مجید صرف اور صرف ایجنٹ تھا، وہ سٹے باز نہیں تھا اور سٹے بازی کے معاملے میں اسے سلمان بٹ اور اس کے ساتھیوں نے پھنسایا۔انہوں نے خاص طور پر 2010ء کے دورۂ آسٹریلیا، ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2010ء ویسٹ انڈیز اور سری لنکا میں ہونے والے ایشیا کپ کا حوالہ دیا جہاں اس سلسلے میں مظہر مجید اور سلمان بٹ اور ساتھی کھلاڑیوں کی ملاقاتیں ہوئی تاہم ان میں کوئی معاملہ فکس نہیں کیا گیا تاہم پاکستان کے دورۂ انگلستان میں تمام تر فکسنگ پر رضامندی ظاہر کی گئی جہاں پاکستان کو پہلے آسٹریلیا اور پھر میزبان انگلستان کے خلاف کھیلنا تھا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی اور دورۂ آسٹریلیا کے درمیان مظہر مجید نے 18 سالوں میں پہلی بار پاکستان کا دورہ کیا اور خاندان کے افراد اور کھلاڑیوں سے ملاقاتیں کی۔ انہوں نے مختلف کاروباری وجوہات کی بنیاد پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے عہدیداران سے بھی ملاقاتیں کیں اور سلمان بٹ اور ایک اور کھلاڑی سے ملاقات کی۔ اس دوسرے کھلاڑی کا نام مظہر مجید کے وکیل نے آخر تک ظاہر نہیں کیا۔ اس ملاقات میں اس مثلث نے طے کیا کہ انہیں اس معاملے میں مزید کھلاڑیوں کو شامل کرنا چاہیے۔

مظہر مجید کے وکیل نے کہا کہ میرے موکل کی عزت کو شرمناک داغ لگ چکا ہے اور وہ اس پر بہت زیادہ نادم ہیں۔ وہ اعتراف جرم کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کی حرکت نے نہ صرف کھلاڑیوں بلکہ ان لاکھوں کروڑوں لوگوں کے اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچایا ہے جو کرکٹ کھیلتے اور دیکھتے ہیں۔ وکیل نے کہا کہ میرے موکل جانتے ہیں کہ انہیں اپنے کیے کی سزا ملنی چاہیے اور یہ اعتراف جرم ان کی جرات اور ندامت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقدمے کو ملنے والی تشہیر، ذرائع ابلاغ کی توجہ اور اپنے اہل خانہ کی زندگیوں پر پڑنے والے اثرات ایسے ہیں جس کی پشیمانی تاعمر رہے گی۔

دوسری جانب سے مقدمے کی باضابطہ سماعت سے قبل ہی اعتراف جرم کرنے والے دوسرے مجرم محمد عامر کے وکیل ہنری بلیکس لینڈ کا کہنا تھا کہ ان کے موکل نے زندگی میں صرف ایک مرتبہ یعنی لارڈز ٹیسٹ میں دو نوبالز پھینک کو بے ایمانی کی ہے اور اس کے علاوہ کبھی بھی سٹے بازوں کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعلق نہیں رکھا۔

اس موقع پر عدالت کی جانب سے محمد عامر کے دو پاکستانی نمبروں پر بھیجے گئے پیغامات کے بارے میں پوچھا گیا جس پر وکیل کا کہنا تھا کہ محمد عامر ان افراد کی اصلیت سامنے آنے کے بعد ان سے تعلق توڑ چکا تھا اور یہ کہنا کہ اوول ٹیسٹ میں ایک اوور میں 8 رنز دینا پہلے سے طے شدہ تھا، بالکل غلط ہے۔

تاہم جسٹس جیریمی کک کا کہنا تھا کہ پاکستان بھیجے گئے یہ دو پیغامات ثابت کرتے ہیں کہ وہ لارڈز ٹیسٹ سے پہلے اوول میں کھیلے گئے ٹیسٹ میں بھی فکسنگ میں ملوث رہے ہیں۔

اس طرح محمد عامر جو لارڈز ٹیسٹ میں اقبال جرم کر چکے ہیں، اب اوول ٹیسٹ کے معاملے پر نئی مصیبت کا شکار ہو سکتے ہیں۔

بعد ازاں دن کا سب سے افسوسناک مرحلہ آیا جب وکیل نے محمد عامر کا بیان عدالت میں پڑھ کر سنایا جس کے دوران محمد عامر کٹہرے میں کھڑے روتے رہے۔ بیان میں محمد عامر نے پہلی بار پاکستان کی نمائندگی کا موقع ملنے پر اپنے احساسات اور بعد ازاں اسپاٹ فکسنگ میں پھنسنے کے بارے میں بتایا۔ (بیان کے مکمل متن کا ترجمہ یہاں دیکھا جا سکتا ہے)

اپنے جذباتی بیان میں 19 سالہ محمد عامر نے اسپاٹ فکسنگ میں ملوث رہنے پر معافی طلب کی اور کہا کہ "میں تمام پاکستانیوں اور ان سب لوگوں سے جن کے لیے کرکٹ اہم ہے معافی چاہتا ہوں۔ میں نے غلط کیا۔ میں اپنی بے وقوفی کی وجہ سے جال میں پھنسا۔"

محمد عامر کو مذکورہ پاک-انگلستان سیریز میں سیریز کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا تھا تاہم بعد ازاں بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے انہیں سال کے ابھرتے ہوئے کھلاڑی کے سالانہ اعزاز کی فہرست سے خارج کر دیا تھا۔

دوسری جانب سلمان بٹ کے وکیل علی باجوہ نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ روز قصوروار قرار دیے جانے کے بعد سے ان کے موکل نے نہ کچھ کھایا ہے اور نہ آرام کیا ہے اور وہ شدید ذہنی پریشانی سے دوچار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت میرے موکل مکمل طور پر بے روزگار ہیں، پاکستان کی قیادت کرنا اور اس میں دو ٹیسٹ مقابلوں میں فتوحات حاصل کرنا تاعمر ان کے لیے زبردست اعزاز رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ میرے موکل ایک ہیرو سے ایسی شخصیت بن چکے ہیں جسے حقارت و ذلت کی نگاہوں سے دیکھا جارہا ہے۔ اس موقع پرانہوں نے کہا کہ قید کی سزا دیے کر کیا مل جائے گا؟ اس لیے ان کے اہل خانہ کو مزید پریشان و رسوا ہونے سے بچایا جائے۔ سلمان بٹ کی اہلیہ نے گزشتہ روز عدالت کا فیصلہ آنے سے ایک گھنٹہ قبل ایک بچے کو جنم دیا۔

بعد ازاں محمد آصف کے وکیل نے اپنے موکل کی مشکلات کا ذکر کیا اور بتایا کہ اس معاملے میں پھنسنے سے لے کر اب تک وہ اپنے وکلا سے گفتگو کے لیے ذاتی اخراجات پر چار مرتبہ انگلستان کا سفر کر چکے ہیں اور اب مقروض ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محمد آصف ایک ماہ میں 29 سال کے ہو جائیں گے اور بین الاقوامی کرکٹ میں ان کی واپسی کا کوئی امکان نہیں ہے کیونکہ ان پر 5 سال کی پابندی عائد ہے اس لیے عدالت سے استدعا کی جاتی ہے کہ انہیں سزائے قید دینے کے بجائے پاکستان واپس جانے دیا جائے تاکہ وہ اپنی ساکھ و حیثیت بحال کرنے کی کوشش کر سکیں۔

واضح رہے کہ پاکستان کے ان تینوں کھلاڑیوں کو برطانیہ میں دھوکہ دہی کی سازش اور بدعنوانی کے تحت رقوم کی وصولی کے الزامات کے تحت مجرم قرار دیا جاچکا ہے۔ ان کھلاڑیوں نے گزشتہ سال دورۂ انگلستان کے دوران مبینہ طور پر جان بوجھ کر نو بالز پھینکیں اور بدلے میں سٹے بازوں سے بھاری رقوم حاصل کیں۔ اس معاملے پر پر تینوں کھلاڑیوں پر بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی جانب سے کم از کم 5، 5 سال کی پابندی پہلے ہی عائد کی جا چکی ہے اور اب برطانیہ میں قانون کے تحت ان کو دونوں الزامات پر 9،9 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ اس لیے اس وقت تمام وکلاکا بھرپور تر زور اپنے موکلین کو قید کی سزا سے بچانا ہے۔

Facebook Comments