فکسنگ میں ملوث کھلاڑیوں کے ملکوں پر بھی پابندی لگائی جائے؛ سابق سربراہ اینٹی کرپشن یونٹ کا انوکھا مطالبہ

بین الاقوامی کرکٹ سے کسی نہ کسی طرح وابستہ افراد کے رویے بظاہر بہت معاندانہ اور متعصب دکھائی دیتے ہیں خصوصا جب معاملہ مشرق و مغرب کا ہو۔ گزشتہ چند ماہ سے بھارت کے کرکٹ بورڈ کے بین الاقوامی کرکٹ پر پڑنے والے 'منفی' اثرات کا بڑا غلغلہ مچا ہوا تھا جس میں آسٹریلیا و انگلستان سے تعلق رکھنے والے سابق کرکٹرز خاص طور پر بہت زیادہ گرمجوش تھے اور اس معاملے پر تجزیہ کرتے ہوئے ان کے ذہن میں وہ تمام باتیں محو ہو گئیں کہ آسٹریلیا اور انگلستان کے غلبے کے دور میں بھی بین الاقوامی کرکٹ میں مسائل اور تنازعات جنم لیتے تھے، اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں تھا کہ تعصب کی بنیاد پر کسی دوسرے ملک کو مکمل طور پر رد کر دیا جائے اور نہ ہی ایسا مطالبہ کسی کی جانب سے سامنے آیا۔ اب تازہ معاملہ اسپاٹ فکسنگ کا آیا ہے تو گز گز بھر کی لمبی زبانیں ایک مرتبہ پھر باہر آ گئی ہیں۔ ایک جانب ایسے کرکٹ بورڈز جن کے اپنے کھلاڑیوں کا دامن ماضی میں داغدار رہا ہے اس معاملے پر خوب نمک چھڑک رہے ہیں تو دوسری جانب بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے ایک سابق عہدیدار نے ایک انوکھا مطالبہ بھی کر ڈالا ہے جن کا کہنا ہے کہ اگر کوئی بورڈ اپنے کھلاڑیوں کو بدعنوانی سے روکنے میں ناکام رہتا ہے تو اس ملک کے بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے پر ہی پابندی عائد کر دینی چاہیے۔

سر پال کونڈن نے اپنی سربراہی کے دوران جنوبی افریقہ کے خلاف ایسی کسی پابندی کا مطالبہ نہیں کیا (تصویر: Getty Images)

سر پال کونڈن نے اپنی سربراہی کے دوران جنوبی افریقہ کے خلاف ایسی کسی پابندی کا مطالبہ نہیں کیا (تصویر: Getty Images)

بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے اینٹی کرپشن یونٹ کے سابق سربراہ سر پال کونڈن کا یہ انوکھا مطالبہ برطانوی اخبار ٹیلی گراف میں ان کے لکھے گئے کالم میں منظر عام پر آیا ہے۔ پال کونڈن نے 2000ء میں جنوبی افریقہ کے کپتان ہنسی کرونیے کا میچ فکسنگ قضیہ سامنے آنے کےبعد آئی سی سی کے تخلیق کردہ اینٹی کرپشن یونٹ کی سربراہی سنبھالی تھی اور افسوس کی بات ہے کہ اتنے بڑے معاملے کے منظر عام پر آنے اور تمام تر اختیارات ہونے کے باوجود انہوں نے اس وقت ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا تھا اور نہ ہی کوئی قدم اٹھایا تھا۔

برطانیہ میں پاکستان کے تین کھلاڑیوں سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر کو اسپاٹ فکسنگ مقدمے میں دھوکہ دہی و بدعنوانی کا مجرم قرار دیے جانے کے بعد قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں جس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سابق سربراہ لارڈ کونڈن کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کو سخت سے سخت ترین سزا دینی چاہیے، جس میں مرکزی آپشن بین الاقوامی کرکٹ میں بورڈز پر پابندی عائد کرنا ہے۔ تازہ قضیہ اس حقیقت کا اظہار ہے کہ آئی سی سی کو مزید سخت اقدامات کرنا ہوں گے کیونکہ اب کھیل کی ساکھ کا معاملہ ہے جو اب دوراہے پر کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تینوں کھلاڑی قید کے حقدار تھے، انہوں نے اپنے ملک اور دنیا بھر میں کرکٹ سے محبت کرنے والے افراد کے ساتھ دغابازی کی۔

انہوں نے برطانوی اخبار نیوز آف دی ورلڈ کو بھی سراہا، جو اب پابندی کا شکار ہو کر بند ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اخبار نے کرکٹ کے لیے ایک عظیم خدمت انجام دی ہے۔

سر پال کونڈن نے کہا کہ کھلاڑیوں اور بورڈز کے علاوہ اگر ممکن ہو تو ٹورنامنٹ منتظمین کو بھی پابندی کا نشانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ٹوئنٹی میں ممکنہ طور پر دیگر طرز کی کرکٹ کے مقابلے میں زیادہ بے ایمانی کی جا سکتی ہے جو منتظمین کے لیے ایک نیا چیلنج ہے۔

ماضی میں ہنسی کرونیے کے علاوہ آسٹریلیا کے شین وارن اور مارک واہ بھی وہ 'گورے' کھلاڑی ہیں جو فکسنگ کے تنازع میں ملوث ہو کر پابندی و جرمانے برداشت کر چکے ہیں۔ اس لیے اب پاکستان کے تین کھلاڑیوں کی سزاؤں کے بعد اس طرح کی تجویز بچکانہ دکھائی دیتی ہے جبکہ پاکستان ان اولین ملکوں میں سے ایک تھا جنہوں نے فکسنگ کے معاملات کی باقاعدہ تحقیقات کر کے اپنے کھلاڑیوں کو تاحیات پابندیوں اور جرمانوں کی سزائیں سنائی تھیں۔

Facebook Comments