مالنگا اور جے وردھنے نے سری لنکا کو فتح دلا دی، سیریز 1-1 سے برابر

سری لنکا نے عمدہ گیند بازی کے ذریعے پاکستان کو دوسرے ایک روزہ میں 25 رنز سے شکست دے کر ایک روزہ مقابلوں کی سیریز 1-1 سے برابر کر دی۔ پاکستان لاستھ مالنگا کے ابتدائی کرارے وار نہ سہہ سکا اور بعد ازاں عمر اکمل کی 91 رنز کی فائٹنگ اننگز بھی اسے شکست سے نہ بچا سکی۔ میچ میں باؤلنگ کے ساتھ ساتھ سری لنکا کی فیلڈنگ بھی عمدہ رہی جنہوں نے شاہد آفریدی اور عبد الرزاق جیسے اہم بلے بازوں سمیت پاکستان کے تین کھلاڑیوں کو رن آؤٹ کیا۔

دبئی اسپورٹس سٹی اسٹیڈیم میں 236 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کو پہلے ہی اوور میں لاستھ مالنگا کی ایسی ضربیں سہنا پڑیں، جن سے وہ آخر تک باہر نہ نکل پایا۔ مالنگا نے اننگز کی تیسری گیند پر محمد حفیظ کو وکٹوں کے پیچھے سنگاکارا کے ہاتھوں آؤٹ کروایا اور بعد ازاں پانچویں گیند یونس خان کو بھی اسی انداز سے چلتا کر کے تہلکہ مچا دیا۔ رہی سہی کسر دوسرےاینڈ سے تھیسارا پیریرا نے پوری کر دی جنہوں نے چوتھے اوور کی دوسری گیند پر عمران فرحت کو چلتا کر کے 11 کے اسکور پر پاکستان کے ابتدائی تین بلے بازوں کا کام تمام کر دیا۔

لاستھ مالنگا کے پہلے اوور میں لگائی گئی ضربوں سے پاکستان آخر تک باہر نہ نکل پایا اور بالآخر شکست سے دوچار ہوا (تصویر: AFP)

لاستھ مالنگا کے پہلے اوور میں لگائی گئی ضربوں سے پاکستان آخر تک باہر نہ نکل پایا اور بالآخر شکست سے دوچار ہوا (تصویر: AFP)

اس صورتحال میں مصباح الحق اور عمر اکمل نے اننگز کو سنبھالا دیا۔ عمر اکمل اس لحاظ سے خوش قسمت رہے کہ انہیں ابتداء ہی میں زندگی مل گئی جس کی وجہ سے وہ بہت عمدہ اننگز کھیلنے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے مصباح کے ساتھ اسکور میں 64 رنز کااضافہ کیا لیکن 53 گیندوں پر محض 21 رنز بنانے والے مصباح کے فرنانڈو کے شکار بننے کے بعد بھاری ذمہ داری ان کے نوجوان کاندھوں پر آ گئے۔ تجربہ کار عبد الرزاق بھی زیادہ دیر ان کا ساتھ نہیں نبھا پائے اور محض 11 رنز بنا کر پاکستان کے پہلے رن آؤٹ بنے۔ یہ سری لنکن فیلڈرز کا پہلا وار تھا جنہوں نے بعد ازاں شاہد آفریدی کی اہم ترین وکٹ حاصل کر کے میچ مکمل طور پر اپنے حق میں پلٹایا۔ عمر اکمل بدقسمتی سے کیریئر کی دوسری سنچری مکمل نہ کر سکے اور مسلسل تین چوکے لگانے کے بعد چوتھی مرتبہ گیند کو باؤنڈری کی راہ دکھانے کی غلطی انہیں مہنگی پڑ گئی اور وہ مڈ آن پر دنیش چندیمال کے ہاتھوں جکڑ لیے گئے۔ عمر نے 102 گیندوں پر ایک چھکے اور 8 چوکوں کی مدد سے 91 رنز بنائے اور جب تک کریز پر موجود رہے پاکستان کی فتح کی امید کا دیا جلائے رکھا۔ ان کے پویلین لوٹتے ہی پاکستان کے فتح کے امکانات نصف ہو گئے۔ تاہم انہوں نے ایک عمدہ اننگز کھیل کر اپنی سلیکشن کو درست ثابت کر دکھایا، اگر وہ سنچری داغنے میں کامیاب ہو جاتے تو یہ ان کے ناقدین کے لیے بھرپور جواب ہوتا۔

دوسری جانب وکٹ کیپر بلے باز سرفراز احمد نے چھٹی وکٹ پر عمر اکمل کا بھرپور ساتھ دیا تھا اور دونوں نے 62 رنز کا اضافہ کر کے پاکستان کو فتح کی راہ پر ڈالنے کی کوشش کی تھی لیکن عمر کے پویلین لوٹتے ہی اگلی گیند پر سرفراز احمد بھی مالنگا کے ہاتھوں ایل بی ڈبلیو ہو گئے اور یوں دو سیٹ بلے بازوں کے لوٹنے کے بعد تمام تر ذمہ داری شاہد خان آفریدی کے پاس آ گئی۔

انہوں نے روایتی انداز میں رنز بنانے کی رفتار برقرار رکھنے کی بھرپور کوشش کی اور اس کے لیے انہوں نے چار مرتبہ گیند کو میدان بدر بھی کیا، جس میں ایک چھکا بھی شامل تھا لیکن ایک مشکل رن لینے کی کوشش میں وہ دلشان کی براہ راست تھرو کا نشانہ بن گئے۔ انہوں نے 31 گیندوں پر 29 رنز بنائے۔

بالآخر 47 ویں اوور میں پاکستان کے آخری کھلاڑی اعزاز چیمہ بھی رن آؤٹ ہو گئے اور پاکستان کی اننگز 210 رنز پر تمام ہوئی۔

سری لنکا کی جانب سے مالنگا نے 3 وکٹیں حاصل کیں جبکہ دو، دو وکٹیں تھیسارا پیریرا اور دلہارا فرنانڈو کو ملیں۔

قبل ازیں سری لنکا نے ایک مرتبہ پھر ٹاس جیت کر بلے بازی کا فیصلہ کیا۔ گو کہ ابتدا میں سری لنکن بلے باز حسب معمول بجھے بجھے دکھائی دیے تاہم اوپنر اوپل تھارنگا اور تجربہ کار مہیلا جے وردھنے نے انہیں مکمل تباہی سے بچا لیا اور پاکستان کے خطرناک باؤلنگ اٹیک کے سامنے سری لنکا 235 رنز کا مناسب مجموعہ اکٹھا کرنے میں کامیاب ہوا جو گزشتہ میچ کی شرمناک کارکردگی سے کہیں بہتر تھا۔ تھارنگا اور کپتان تلکارتنے دلشان نے 56 رنز کا اچھا آغاز فراہم کیا لیکن اس کے بعد لنکن شیر سست پڑ گئے اور اننگز نصف زائد اوورزسے ختم ہونے کے باوجود ان کے رنز کی تعداد تہرے ہندسے میں داخل نہیں ہو پائی تھی۔

عمر اکمل کی اننگز دو لحاظ سے مایوس کن رہی، ایک تو وہ سنچری سے محروم رہے، دوسرا پاکستان شکست سے دوچار ہوا، تاہم 91 رنز بنا کر انہوں نے اپنی سلیکشن کو درست ثابت کر دکھایا ہے (تصویر: AFP)

عمر اکمل کی اننگز دو لحاظ سے مایوس کن رہی، ایک تو وہ سنچری سے محروم رہے، دوسرا پاکستان شکست سے دوچار ہوا، تاہم 91 رنز بنا کر انہوں نے اپنی سلیکشن کو درست ثابت کر دکھایا ہے (تصویر: AFP)

آخری پاور پلے میں جو نئے قوانین کے مطابق 40 اوورز سے قبل لیا جانا ضروری ہے، سری لنکا نے 48 رنز حاصل کیے اور کوئی وکٹ بھی نہ گرنے دی، یہی قیمتی رنز سری لنکا کو ایک نسبتاً اچھے مجموعے تک پہنچانے میں کامیاب ہوئے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں پاکستان آخری پاور پلے میں محض 26 رنز بنا پایا اور تین قیمتی وکٹوں سے ہاتھ دھوئے اور اسی وجہ سے میچ بھی گنوا بیٹھا۔ بحیثیت مجموعی سری لنکانے آخری 20 اوورز میں 136 رنز حاصل کیے اور یوں جہاں وہ ایک موقع پر 200 تک پہنچتا بھی نہیں دکھائی دے رہا تھا 235 کے اچھے مجموعے تک رسائی میں کامیاب ہو گیا۔ سری لنکاکی جانب سے تھارنگا اور جے وردھنے نے چوتھی وکٹ پر 85 رنز کی قیمتی شراکت قائم کی۔

تھارنگا 120 گیندوں پر 8 چوکوں کی مدد سے 77 رنز بنانے کے بعد پویلین لوٹے۔ مہیلا 48 ویں اوور کی پہلی گیند پر سعید اجمل کے ہاتھوں بولڈ ہوئے تاہم تب تک وہ ٹیم کو محفوظ علاقے میں لا چکے تھے، اس مقام پر جہاں سری لنکن باؤلرز پر انحصار کیا جا سکتا تھا اور وہ اپنے اہم گیند بازوں کو استعمال کر کے ہدف کا دفاع کر سکتا تھا۔ مہیلا نے 57 گیندوں پر 5 چوکوں کی مدد سے 57 رنز بنائے۔

سعید اجمل کی جانب سے کرائے گئے اننگز کے آخری اوور میں سری لنکن بلے بازوں نے 17 رنز لوٹے جس میں چوتھی گیند پر تھیسارا پیریرا کا لانگ آف پر لگایا گیا بلند و بالا چھکا بھی شامل تھا۔

بلاشبہ دوسرے ایک روزہ میں پاکستان کے گیند باز گزشتہ کارکردگی کو دہرانے میں ناکام رہے خصوصا سعید اجمل نے جنہوں نے گو کہ سب سے زیادہ یعنی 3 وکٹیں حاصل کیں، لیکن اپنے مقررہ 10 اوورز میں 61 رنز دیے جن میں 5 وائیڈز کے فاضل رنز بھی شامل تھے جبکہ دوسرے اسٹرائیک باؤلر اعزاز چیمہ کے 8 اوورز میں سری لنکن گیند بازوں نے 56 رنز لوٹے۔ انہوں نے بھی وائیڈ کی صورت میں چار فاضل رنز حریف ٹیم کو دیے۔ پاکستان نے 16 وائیڈز اور 1 نو بال کی صورت میں 25 فاضل رنز سری لنکا کو تحفے میں پیش کیے اور بعد ازاں یہی رنز حد فاصل ثابت ہوئے اور پاکستان شکست سے دوچار ہوا۔ شاہد آفریدی نے عمدہ گیند بازی کی اور مقررہ 10 اوورز میں محض 35 رنز دے کر 2 حریف کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ جبکہ عبد الرزاق نے بھی عمدہ باؤلنگ کی اور اپنے 7 اوورز میں محض 18 رنز دے کر کمار سنگاکارا کی اہم ترین وکٹ حاصل کی۔

لاستھ مالنگا کو اہم ترین بلے بازوں کو ٹھکانے لگانے اور سری لنکن فتح کی بنیاد ڈالنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ اب دونوں ٹیمیں 18 نومبر کو ایک مرتبہ پھر اسی میدان میں آمنے سامنے ہوں گی۔

پاکستان کو ایک روزہ کرکٹ میں اپنی عالمی درجہ بندی بہتر بنانے کے لیے اگلے تینوں میچز جیتنا ہوں گے تاکہ وہ 4-1 کے مارجن سے جیت کر درجہ بندی میں پانچواں مقام حاصل کر سکے۔ البتہ چوتھی پوزیشن حاصل کرنے کا موقع پاکستان نے دوسرا ایک روزہ ہار کر گنوا دیا، کیونکہ اس کے حصول کے لیے پاکستان کو کلین سویپ کرنا ضروری تھا۔

پاکستان بمقابلہ سری لنکا: دوسرا ایک روزہ بین الاقوامی مقابلہ

بتاریخ: 14 نومبر 2011ء

بمقام: دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم، دبئی، متحدہ عرب امارات

نتیجہ: سری لنکا 25 رنز سے فتحیاب

میچ کے بہترین کھلاڑی: لاستھ مالنگا (سری لنکا)

سری لنکا رنز گیندیں چوکے چھکے
اوپل تھارنگا ک یونس خان ب شاہد آفریدی 77 120 8 0
تلکارتنے دلشان ب شاہد آفریدی 28 40 4 0
کمار سنگاکارا ک و ب عبد الرزاق 5 13 0 0
دنیش چندیمال ب سعید اجمل 15 37 1 0
مہیلا جے وردھنے ب سعید اجمل 50 57 5 0
اینجلو میتھیوز ک سرفراز ب اعزاز چیمہ 3 4 0 0
اجنتھا مینڈس ناٹ آؤٹ 17 17 1 0
تھیسارا پیریرا ک سرفراز ب سعید اجمل 13 12 0 1
لاستھ مالنگا ناٹ آؤٹ 2 1 0 0
فاضل رنز ل ب 8، و 16، ن ب 1 25
مجموعہ 50 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 235

 

پاکستان (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹ
عمر گل 7 1 35 0
اعزاز چیمہ 8 0 56 1
سعید اجمل 10 0 61 3
عبد الرزاق 7 1 18 1
شاہد آفریدی 10 1 35 2
محمد حفیظ 8 1 22 0

 

پاکستان ہدف: 236 رنز رنز گیندیں چوکے چھکے
محمد حفیظ ک سنگاکارا ب مالنگا 4 3 1 0
عمران فرحت ایل بی ڈبلیو ب پیریرا 3 10 0 0
یونس خان ک سنگاکارا ب مالنگا 0 2 0 0
مصباح الحق ایل بی ڈبلیو ب فرنانڈو 21 53 0 0
عمر اکمل ک چندیمال ب فرنانڈو 91 102 8 1
عبد الرزاق رن آؤٹ 11 22 0 0
سرفراز احمد ایل بی ڈبلیو ب مالنگا 24 37 1 0
شاہد آفریدی رن آؤٹ 29 14 3 1
عمر گل ایل بی ڈبلیو ب پیریرا 0 5 0 0
سعید اجمل ناٹ آؤٹ 8 20 0 0
اعزاز چیمہ رن آؤٹ 6 11 1 0
فاضل رنز ب 1، ل ب 5، و 7 13
مجموعہ 46.3 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر 210

 

سری لنکا (گیند بازی) اوور میڈن رنز وکٹ
لاستھ مالنگا 9 1 36 3
تھیسارا پیریرا 9 1 30 2
دلہارا فرنانڈو 9 0 54 2
سیکوگے پرسنا 9.3 1 38 0
تلکارتنے دلشان 1 0 3 0
اجنتھا مینڈس 9 0 43 0

Facebook Comments