عالمی کپ 1996ء کے سیمی فائنل پر ونود کامبلی کا بیوقوفانہ تجزیہ

سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر کو برطانوی عدالت نے سزا کیا سنائی کہ دنیائے کرکٹ کی کئی بے لگام زبانیں حرکت میں آگئیں۔ کسی کے سزا یافتہ کھلاڑیوں کے ملک سے بغض و عداوت کے جذبہ نے جوش مارا تو وہ اس ملک کے کرکٹ کھیلنے پر ہی پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کرنے لگا۔ تو کسی کوماضی میں کھیلے گئے کسی میچ کے نتیجہ پر شک ہو نے لگا۔

ونود کامبلی (فائل فوٹو: اے ایف پی)

گزشتہ دنوں بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق رکن ونود کامبلی کی غیرت بیدار ہوئی تو انہیں اس بات کا احساس ہوا کہ اب انہیں خواب غفلت سے جاگ کر اس بات کا انکشاف کر دینا چاہئے جسے وہ 15 برسوں سے ظاہر کرنے کی ہمت نہیں کر پا رہے تھے۔ ایڈن گارڈن کے گراؤنڈ پر شاید ونود کامبلی کو آج سے 15 برس قبل 1996ء کے عالمی کپ کے سیمی فائنل میں اسی لئے آنکھ سے آنسو نکل گئے تھے کیونکہ وہ چاہ کر بھی اس میچ پراپنے شبہ کا اظہار نہ کر سکے تھے۔ لیکن فکسنگ کا بھوت بوتل سے باہر نکل جانے کے بعد انہیں بھی اپنی زبان کھولنے کا حوصلہ مل گیا۔

بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے انسداد بدعنوانی (اینٹی کرپشن) یونٹ کے سابق سربراہ سر پال کونڈن کے حالیہ انکشافات پر مبنی ایک مباحثہ کے دوران جناب کامبلی نے اس بات کا انکشاف کیا کہ 1996ء کے سیمی فائنل میں انہیں انتہائی تعجب ہوا تھا جب کپتان اظہر الدین نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ پچ بلے بازی کیلئے سازگار تھی۔ انہوں نے کہا کہ مقررہ ہدف کے تعاقب کے دوران جب وہ کریز پر موجود تھے تو ان کے ساتھی کھلاڑی انہیں اس بات کا یقین دلا رہے تھے کہ وہ ہدف کوعبور کر لیں گے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی وکٹوں کے زوال کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ انہیں اسی وقت اس بات کا احساس ہواتھا کہ کچھ گڑبڑ ہے۔ لیکن انہیں اپنے ان خیالات کا اظہار کرنے کا موقع نہ مل سکا اور اس مایوس کن میچ کے فوراً بعد ہی انہیں ٹیم سے باہر کر دیا گیا۔

ونود کامبلی نے یہاں تک کہا کہ ٹیم مینجر واڈیکر کو ان تمام باتوں کا بخوبی علم تھا۔وہیں اجیت واڈیکر نے کامبلی کے اس الزام پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اس میچ کو ہارنے کی وجہ صرف یہ تھی کہ ہم نے پچ کا غلط اندازہ لگایا تھا اور ہم پاکستان کو ہرانے کے بعد کچھ زیادہ ہی جوش میں تھے۔ میچ میں ایسا کچھ نہیں تھاجس پر شک کیا جائے۔ اگر ونود کامبلی کو واقعی ٹیم مینجمنٹ کے کسی فیصلہ پر اعتراض تھاتو انہیں اسی وقت اس کا برملا اظہار کرنا چاہئے تھا۔ بعد میں بھی وہ کئی دفعہ ونود کامبلی سے ملے لیکن انہوں نے کبھی اس کا تذکرہ تک نہیں کیا۔ ورنہ وہ اسی وقت اس معاملے کو بورڈ کے سامنے پیش کرتے۔

دوسری جانب سابق کپتان محمد اظہر الدین نے بھی کامبلی کے بیان پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے انکی باتوں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاید کامبلی اس وقت سو رہے تھے جب فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ سب کے اتفاق سے لیا گیا تھا۔

یہ واقعی انتہائی اہم سوال ہے کہ ونود کامبلی آخر 15برسوں تک کیوں خاموش رہے ۔ آج انہیں کس بات نے دنیا کے سامنے اس پرانے راز کو افشا کرنے پر مجبور کیا جسے وہ اپنے سینے میں چھپائے ہوئے تھے۔ دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ وہ اس میچ کی تفصیل میڈیا کے سامنے پیش کرنے سے کیوں گریز کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ آخر انہیں کس پر شک تھا۔اور کن وجوہات کی بنیاد پرانہیں اس میچ کے نتیجہ پراعتراض ہے۔ جس انداز سے انہوں نے اپنے شکوک کا اظہار کیا ہے اس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں کپتان اور ٹیم مینجر کی نیت پر شک تھا۔

سابق کپتان محمد اظہر الدین نے بھی کامبلی کے بیان کو بے بنیاد قرار دیا ہے (تصویر: پی ٹی آئی)

اصل واقعہ یہ ہے کہ اسپاٹ فکسنگ سانحہ اور تین پاکستانی کھلاڑیوں کی رسوائی کے بعد ماضی میں کھیلے گئے اکثر میچوں پر سوالیہ نشان لگتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ ہر ہائی پروفائیل میچ میں سٹہ باز کسی نہ کسی طریقہ سے ملوث ہوتے ہیں۔ اور اگر انہیں ٹیم میں کوئی ضمیر فروش پیسہ پرست نظر آگیا تو وہ اسے بھی اپنے جال میں پھنسانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ کبھی کبھی میڈیا کی چوکس نگاہیں ان کی کارستانی کو منظر عام پر لے آتیں ہیں ۔ضروری نہیں کہ ہر وہ میچ جو غیر روایتی طریقہ سے انجام پذیر ہو یا جس میں کچھ عجیب و غریب نشیب و فراز دیکھنے کو ملیں وہ فکس ہی ہو۔ لیکن اگر ایسے میچ پر کوئی تشویش کا اظہار کرے تو اس کی با ت سرے سے رد بھی نہیں کی جا سکتی

ونود کامبلی کو پورا حق ہے کہ وہ ان سوالات کو اٹھائیں جن کے جوابات وہ چاہتے ہیں اور اپنے شکوک و شبہات اور اعتراضات کو پیش کریں لیکن اس کے ساتھ انہیں اس بات سے بھی باخبر رہنا چاہئے کہ ان کی طویل خاموشی اور اعتراضات کی کوئی معقول وجہ نہ پیش کرنے کی صورت میں نہ خود ان کی شبیہ خراب ہو سکتی ہے بلکہ ان کی پوزیشن پر بھی سوالات کھڑے ہو سکتے ہیں۔ خاص کر ونود کامبلی کے سوالات کھڑے کرنے کا یہ وقت بالکل بھی موزوزں نہیں ہے۔ ایسے سوالات تو ایشیائی ممالک کے بورڈز کو حالیہ دنوں جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے گئے غیر فطری ٹیسٹ میچ پر اٹھانے چاہئے تھے۔ جس کسی نے بھی آسٹریلیا کے 21 رنز پر 9 وکٹوں کا اسکور دیکھا ہوگا اس نے یہی اندازہ لگایا ہوگا کہ وکٹ یقینی طور پر کھیلنے لائق نہیں۔ لیکن ٹھیک اس کے دوسرے دن میزبان نے 236 رنز کے ہدف کو کس طرح عبور کر لیا یہ کسی کے سمجھ میں نہیں آسکا۔اس میچ پر چند بے با ک زبانوں نے سوالات تو اٹھائے لیکن چونکہ یہ میچ غیر جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان کھیلا گیا تھا اس لئے اس پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی

یقین جانیئے اگر ایسا ہی میچ ہندوستان یا خاص کر پاکستان کی ٹیمیں ہار تیں تو چہار جانب ان پر انگلیاں اٹھ چکی ہوتیں۔ ونود کامبلی ایک ایسے وقت اپنی ہی ٹیم پر غیر ضروری بیوقوفانہ اور احمقانہ تبصرہ کر رہے ہیں جب انہیں نہ صرف اپنی قوم بلکہ جنوبی ایشائی ممالک پر لگے میچ فکسنگ کے بدنما داغ کو مٹانے کی کوشش کرنی چاہئے۔

(تحریر: سلمان غنی، پٹنہ، بھارت)

Facebook Comments