آسٹریلیا نے مکی آرتھر کو نیا کوچ منتخب کر لیا

بالآخر عقدہ کھل گیا کہ جنوبی افریقہ کے سابق کوچ مکی آرتھر آخر کیوں پاکستان کی کوچنگ میں دلچسپی نہیں دکھا رہے تھے کیونکہ انہیں دنیا کی عظیم ٹیموں میں سے ایک آسٹریلیا کی کوچنگ مل گئی ہے۔ یوں آسٹریلیا کی ہمیشہ ملکی کوچ مقرر کرنے کی طویل روایت کا خاتمہ ہو گیا۔

مکی آرتھر یکم دسمبر سے نیوزی لینڈ کے خلاف شروع ہونے والے پہلے ٹیسٹ سے ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ ان کا معاہدہ مشترکہ طور پر آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں منعقد ہونے والے 2015ء کے عالمی کپ کے اختتام تک رہے گا۔

مکی آرتھر طویل عرصے تک جنوبی افریقہ کی کوچنگ کر چکے ہیں (تصویر: Tony Marshall/Empics)

مکی آرتھر طویل عرصے تک جنوبی افریقہ کی کوچنگ کر چکے ہیں (تصویر: Tony Marshall/Empics)

2005ء سے 2010ء تک جنوبی افریقہ کی کوچنگ کرنے والے مکی آرتھر نے بورڈ سے اختلافات کے باعث اپنے آبائی وطن کی کوچنگ سے استعفیٰ دے دیا تھا اور اس کے بعد سے ویسٹرن آسٹریلیا واریئرز کی کوچنگ کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ ماہِ گزشتہ میں یہ خبریں سامنے آئیں کہ مستقل کوچ کی تلاش میں سرگرداں پاکستان کی جانب سے موزوں امیدواروں کی جو فہرست مرتب کی گئی ہے اس میں آسٹریلیا کے ڈین جونز اور انگلستان کے ڈرمٹ ریو کے علاوہ مکی آرتھر کا نام بھی شامل ہے۔ تاہم اب تک سوائے ڈین جونز کے کسی امیدوار نے اپنی بھرپور خواہش کا اظہار نہیں کیا۔ درمیان میں مکی آرتھر کی طرف سے اس طرح کے بیانات بھی سامنے آئے جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ انہیں پاکستان کی کوچنگ میں دلچسپی نہیں ہے۔

آسٹریلیا نے کوچنگ کے خواہاں دیگر امیدواروں ٹام موڈی، جسٹن لینگر اور اسٹیو رکسن گزشتہ ہفتہ حتمی انٹرویو کیے تھے جس کے بعد آج مکی آرتھر کی تقرری کا فیصلہ سامنے آیا ہے۔ وہ آسٹریلیا کی کوچنگ کے ساتھ ساتھ کوچ کو ملنے والے نئے اختیارات کے تحت سلیکشن میں بھی بنیادی کردار ادا کریں گے۔ یہ اختیارات رواں سال کے اوائل میں انگلستان کے ہاتھوں ایشیز میں ذلت آمیز شکست کے اسباب جاننے کے لیے قائم کردہ آرگس کمیشن نے تجویز کیے تھے جن کے تحت کوچ اور کپتان کے اختیارات میں اضافہ کیا گیا تھا۔

آرتھر نے ایک اور بین الاقوامی ٹیم کے لیے کوچنگ کا موقع ملنے خصوصاً آسٹریلیا کے پائے کی ٹیم میں شمولیت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے قابل فخر قرار دیا ہے ۔

Facebook Comments