سچن کی 100 ویں سنچری؛ دنیا کھڑی ہوئی ہے ترے انتظارمیں

ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلا ٹیسٹ 5 وکٹوں اور دوسرا باری اور 15 رنوں سے جیت جانے کے بعد بھارتی کرکٹ ٹیم کے حوصلے ممبئی میں کھیلے جا رہے تیسرے اور آخری ٹیسٹ میچ میں یقینی طور پر بلندیوں پر پرواز کر رہے ہوں گے۔لیکن ٹیم کے ایک اہم رکن کی اعصابی اورذہنی حالت ان کامیابیوں کے باوجود اس آخری ٹیسٹ میچ میں معمول پر نہیں ہوگی۔عالمی کپ کے بعد سے 99 کے ہندسے پر اٹکی سچن کی سنچریوں کی تعداد کے ساتھ ساتھ ان کی اور ان کے شائقین کی سانسیں بھی تھم سی گئیں ہیں۔

دورۂ انگلستان میں اس اعزاز کو حاصل کرنے میں ملی ناکامی کے بعد یہ امید کی جارہی تھی کہ گھریلو میدانوں پر سچن تندولکر ویسٹ انڈیز جیسی قدرے کمزور ٹیم کے خلاف یہ کارنامہ انجام دے دیں گے۔ لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا جا رہا ہے شائقین کی بیتابی اور سچن کی بے چینی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ شائقین کی بے قراری اب ایک ایسے مقام پر پہنچ گئی ہے جہاں خود سچن بھی اس صبر آزما انتظار کا خاتمہ کر دینے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دینا چاہیں گے۔

سچن کا انتظار طویل تر ہوتا جا رہا ہے، وہ حالیہ دورۂ انگلستان کے چوتھے ٹیسٹ و آخری میں 91 پر آؤٹ ہوئے تھے (تصویر: Getty Images)

سچن کا انتظار طویل تر ہوتا جا رہا ہے، وہ حالیہ دورۂ انگلستان کے چوتھے و آخری ٹیسٹ میں 91 پر آؤٹ ہوئے تھے (تصویر: Getty Images)

بھارتی کرکٹ ٹیم ویسٹ انڈیز کے خلاف سیزیر جیت چکی ہے اور اب دنیا کی نگاہیں صرف سچن پر مرکوز ہیں کیونکہ وہ یہ ٹیسٹ میچ اپنے ہوم گراؤنڈ پر کھیل رہے ہیں۔ وانکھڑے اسٹیڈیم، ممبئی میں اگر سچن تندولکر اپنی سنچریوں کی سنچری پوری کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ان کے شائقین کیلئے اس سے زیادہ خوشی کی بات کوئی اور نہیں ہو سکتی۔ دہلی ٹیسٹ میچ میں عمدہ اننگز کھیلنے کے بعد جہاں سچن کے حوصلے بلند ہوں گے وہیں وانکھڑے اسٹیڈیم میں ان کے حامیوں کا جم غفیر ان کے عزم کو مزیدپختہ کرنے کے لئے کافی ہوگا۔ لیکن اس امر سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ ذاتی ریکارڈز کے قریب پہنچ کر سچن جیسے عظیم بلے باز کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں۔

نروس نائنٹیز کا شکار ہونے والوں میں اسی لئے سچن تندولکر کا شمار سر فہرست ہوتا ہے۔اگر وہ یک روزہ میچوں میں 18 مرتبہ اور ٹیسٹ میچوں میں 9 مرتبہ 90 سے 99کے اسکور پر نہ آؤٹ ہوئے ہوتے تو ان کی سنچریوں کی سنچری کی تعداد کب کی مکمل ہو چکی ہوتی۔

12 مارچ 2011ء کو جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلے گئے یک روزہ میچ میں سچن نے اپنے بین الاقوامی کیریئر کی99ویں سنچری پوری کی تھی۔ تب سے اب تک7ٹیسٹ ،4 ایک روزہ بین الاقوامی مقابلے اور 8 ماہ کا طویل عرصہ گزر چکا اور شائقین کرکٹ کا انتظار ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔ جس طرح سچن کو اپنے کیریئر کی پہلی سنچری بنانے کا اعزاز حاصل کرنے کے لئے 16 میچوں کا طویل انتظار کرنا پڑا تھا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب کیرئیر کی100ویں سنچری کی تکمیل کیلئے بھی کچھ اسی قسم کا انتظار درکار ہے۔

اگر ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلی جانے والی آئندہ ایک روزہ میچوں کی سیریز کوچھوڑ دیا جائے تو شاید یہ انتظار مزید طویل ہو جائے۔ کیونکہ اس کے بعد بھارتی ٹیم کو آسڑیلیا جیسے مضبوط اور مستحکم حریف کا سامنا کرنا ہے۔

ممبئی کی سرزمین پر ٹیسٹ میچوں میں اس منفرد اعزاز کو حاصل کرنے کا لطف کیسا ہوگا اس کا اندازہ خود سچن سے زیادہ کوئی نہیں کر سکتا۔ ایسا گمان بھی کیا جا رہاہے کہ 38سالہ اس عظیم بلے باز کا ممبئی کے گراؤنڈ پر یہ آخری ٹیسٹ میچ ہو۔اس طرح سچن کی پوری بین الاقوامی تاریخ کا یہ انتہائی سنہرا لمحہ بن گیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سچن اسے یادگار بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا ایک دفعہ پھر شائقین کو انتظار کے طویل لمحے سونپ کر مایوس کر جاتے ہیں۔
(سلمان غنی، پٹنہ، بھارت)

Facebook Comments