[آج کا دن] سنچورین کا تاریخی و ’بدنام زمانہ‘ ٹیسٹ اور ہنسی کرونیے

اگر کھیل سے وابستگی، لگن، حوصلے اور قائدانہ انداز کو معیار بنا کر 90ء کی دہائی کو کسی کھلاڑی سے موسوم کیا جا سکتا ہے تو وہ جنوبی افریقہ کے کپتان ہنسی کرونیے تھے۔ اُن کی جرات مندانہ قیادت اور حوصلہ مندی نے اُنہیں دنیا بھر کے کپتانوں کے لیے مثالی بنا دیا تھا۔ 53 ٹیسٹ اور 138 ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں میں جنوبی افریقہ کی قیادت کرنے والے یہ عظیم کھلاڑی میچ فکسنگ تنازع میں ملوث ہونے کے بعد ’ہیرو سے زیرو‘ بن گئے اور بالآخر 2002ء میں محض 32 سال کی عمر میں ایک فضائی حادثے میں چل بسے۔

'اب پچھتائے کیا ہوت' ہنسی کرونیے اعتراف جرم کرتے ہوئے نادم (تصویر: AFP)

'اب پچھتائے کیا ہوت' ہنسی کرونیے اعتراف جرم کرتے ہوئے نادم (تصویر: AFP)

ہنسی کرونیے کے کیریئر کا ہی ایک تاریخی و ’بدنام زمانہ‘ مقابلہ آج سے ٹھیک 12 سال قبل جنوبی افریقہ کے سپر اسپورٹ پارک، سنچورین میں انگلستان و جنوبی افریقہ کے درمیان کھیلا گیا۔ 5 ٹیسٹ مقابلوں کی سیریز کا یہ آخری معرکہ دونوں ٹیموں کے ایک، ایک اننگز سے دستبردار ہونے کے حیران کن فیصلے کے باعث سنسنی خیز مراحل سے گزرتا ہوا انگلستان کی تاریخی فتح پر منتج ہوا لیکن بعد ازاں جنوبی افریقہ کے کپتان ہنسی کرونیے کے میچ فکسنگ اسکینڈل میں دھر لیے جانے کے بعد قضیہ کھلا کہ میزبان ٹیم کے کپتان نے ایک سٹے باز کے کہنے پر جنوبی افریقہ کے دوسری اننگز سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا اور میچ کو نتیجہ خیز بنانے کا بہانہ تراش کر انگلستان سے اپنی پہلی اننگز ڈکلیئر بھی کروائی۔

دراصل، سنچورین ٹیسٹ میں پہلے روز کے کھیل بعد تین دنوں تک شدید بارش کے باعث کھیل ممکن نہ ہو سکا تھا اور جب کرکٹ کھیلنے کے لیے موزوں موسم آیا تو میچ کا آخری روز تھا۔ جنوبی افریقہ نے 155 رنز 6 کھلاڑی آؤٹ کے اسکور کو آگے بڑھاتے ہوئے 248 رنز تک پہنچایا اور اننگز ڈکلیئر کر دی۔ پھر میچ کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے جنوبی افریقی کپتان ہنسی کرونیے نے اپنے انگلش ہم منصب ناصر حسین کو آمادہ کیا کہ وہ اپنی پہلی اننگز کو ڈکلیئر کر دیں اور ہم اپنی دوسری اننگز سے دستبردار ہو جائیں گے۔ گو مگو کی کیفیت کے بعد بالآخر انگلستان نے اس پیشکش کو قبول کیا اور امپائرز کی مرضی سے پہلے انگلستان نے اپنی پہلی اننگز صفر پر ڈکلیئر کر دی اور جنوبی افریقہ دوسری اننگز سے دستبردار ہو گیا۔ یوں انگلستان کو 76 اوورز میں 249 رنز کا ہدف ملا جو اس نے سنسنی خیز مرحلے کے بعد آخری اوور کی پہلی گیند پر ڈیرن گف کی باؤنڈری کے ذریعے حاصل کر لیا اور دو وکٹوں کے مارجن سے میچ جیتنے میں کامیاب ہو گیا۔ جنوبی افریقہ 2 ٹیسٹ جیت کر پہلے ہی سیریز اپنے نام کر چکا تھا اور اس لیے میچ سیریز کے نتیجے پر اثر انداز نہ ہوا۔

اُس وقت خاص طور پر انگلش ذرائع ابلاغ اور سابق کھلاڑیوں نے ہنسی کرونیے کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور خود ناصر حسین نے بھی میچ کے بعد اُنہیں خوب سراہا۔ لیکن بعد ازاں جب عقدہ کھلا کہ کرونیے نے یہ قدم ایک سٹے باز سے کثیر رقم حاصل کرنے کے لیے اٹھایا تھا تو گویا انگلستان کی ’تاریخی فتح‘ کا مزا کرکرا ہو گیا۔ ’دودھ میں مینگنیاں‘ پڑنے کے بعد خود ناصر حسین نے ایک اخبار میں کالم لکھا کہ ”انگلستان کی فتح کو مزا کرکرا کر دیا گیا، اس ٹیسٹ کو ہمیشہ ایسے میچ کے طور پر یاد رکھا جائے گا جو فکس تھا۔“

بہرحال، سنچورین ٹیسٹ کے محض تین ماہ بعد یعنی اپریل 2000ء میں میچ فکسنگ کا پنڈورا بکس کھل گیا اور سنچورین ٹیسٹ کے بارے میں زیر لب گفتگو زیادہ شدت کے ساتھ منظرعام پر آئی۔ انکشاف ہوا کہ ایک سٹے باز مارلن ارونسٹیم نے میچ کے بے نتیجہ ہونے کی صورت میں بڑے مالی نقصان سے دوچار ہونے کے پیش نظر ہنسی کرونیے سے رابطہ کیا تھا اور اُس نے جنوبی افریقہ کے کپتان کو پیشکش کی کہ اگر وہ میچ کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے کچھ کر سکے تو وہ ایک پیشکش کر سکتا ہے۔

یہ انکشافات ہنسی کرونیے نے ایک سال بعد میچ فکسنگ معاملے کی سماعت کرنے والے کنگ کمیشن کے روبرو کیے تھے کہ ایک سٹے باز نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ میں سنچورین ٹیسٹ کے آخری روز ناصر حسین سے جلد اننگز ختم کرنے کا مطالبہ کروں اور وہ اس پر مجھے ڈیڑھ لاکھ ڈالرز دیں گے۔ اُس وقت تو سٹے باز کے ساتھ کوئی معاملہ طے نہیں پایا لیکن اگلے روز یعنی میچ کے آخری دن ناصر حسین کی رضامندی کے بعد میں نے سٹے باز کو پیغام بھیجا کہ ”میچ اب بھی اوپن ہے۔“

میچ کے اختتام پر اس سٹے باز نے ہوٹل میں مستقل دو روز مجھ سے ملاقات کی اور ایک چمڑے کی جیکٹ مجھے دی جس میں 50 ہزار رینڈ (جنوبی افریقی کرنسی) کی رقم تھی۔

ہنسی کرونیے کا یہ تاریک پہلو دنیا کے سامنے کیسے آیا؟ دراصل مارچ 2000ء میں دورۂ بھارت کے موقع پر جب جنوبی افریقہ شاندار انداز میں میزبان ٹیم کو سیریز میں شکست دے چکا تھا تو دارالحکومت نئی دہلی کی پولیس نے دعویٰ کیا کہ ہنسی کرونیے نے سٹے بازوں کو معلومات فراہم کرنے اور میچز کو فکس کرنے کے لیے معاملات طے کیے ہیں۔ پولیس کا کہنا تھا کہ اس نے بھارتی بک میکر سنجیو چاولا اور ہنسی کرونیے کے درمیان ہونے والی گفتگو ریکارڈ کی ہے ۔ ابتداء میں تو عام طور پر یہی سمجھا گیا کہ بھارت اپنی ہارنے کی خفت مٹانے کی کوشش کر رہا ہے اور جنوبی افریقی ٹیم کی توجہ فتوحات سے ہٹانا چاہتا ہے۔ دوسری جانب جنوبی افریقی کرکٹ بورڈ نے بھی سختی سے کہہ دیا کہ اُن کا کوئی کھلاڑی پولیس کے ہاتھ نہیں لگنا چاہیے، اگر کوئی ایسی بات موجود بھی ہے تو شواہد پیش کیے جائیں ، ہم خود تحقیقات کریں گے۔

لیکن دورے کے اختتام پر اور ثبوت مہیا کیے جانے پر کرکٹ ساؤتھ افریقہ نے عدالت عالیہ کے ایک جج کی زیر نگرانی کمیشن تشکیل دیا جسے ”کنگ کمیشن“ کا نام دیا گیا۔ کمیشن کی جانب سے چار روز کی تفتیش کے بعد کرونیے نے بالآخر ایک رات 3 بجے یونائیٹڈ کرکٹ بورڈ آف ساؤتھ افریقہ کے اُس وقت کے مینیجنگ ڈائریکٹر علی باقر کو فون کیا اور اپنے جرائم کا اعتراف کر لیا۔ انہیں فوری طور پر قیادت سے ہٹا دیا گیا اور بعد ازاں کمیشن کے سامنے ہوشربا انکشافات کیے کہ وہ کس طرح اپنے کھلاڑیوں کو سٹے بازی پر راضی کرتے تھے۔ بالآخر کرونیے پر تاحیات پابندی عائد کر دی۔ یوں ایک عظیم کھلاڑی ہمیشہ کے لیے کھیل کو بدعنوانی کی غلاظت میں دھکیلنے والے شخص کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا۔ انکشافات کے بعد کرونیے کی زندگی تک خطرے میں آ گئی اور ہو سکتا ہے کہ محض 2 سال بعد اُن کی ہلاکت حادثاتی نہ ہو۔

کرونیے نے مجموعی طور پر 68 ٹیسٹ اور 188 ایک روزہ بین الاقوامی میں جنوبی افریقہ کی نمائندگی کی ۔ ان کے شاندار کپتانی کے ریکارڈ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے ان کی زیر قیادت کھیلی گئی 19 میں سے 13 سیریز جنوبی افریقہ نے جیتیں اور اسے صرف 4 میں شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ مجموعی طور پر انہوں نے 53 ٹیسٹ مقابلوں میں ملک کی نمائندگی کی اور 27 ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کی اور صرف 11 میں جنوبی افریقہ کو شکست ہوئی۔ اس دوران جنوبی افریقہ نے سوائے آسٹریلیا کے ہر ملک کے خلاف ہر سیریز جیتی۔ ایک روزہ میں اُن کا ریکارڈ اور بھی شاندار ہے۔ ان کی زیر قیادت جنوبی افریقہ نے 138 مقابلوں میں 99 فتوحات حاصل کیں اور ایک مقابلہ برابر قرار پایا اور صرف 38 مقابلے ایسے تھے جن میں حریف اُن پر قابو پانے میں کامیاب ہوا۔

انگلش ٹیم سنچورین ٹیسٹ جیتنے کے بعد خوشی سے مسرور، لیکن یہ خوشی زیادہ عرصے برقرار نہ رہی (تصویر: Getty Images)

انگلش ٹیم سنچورین ٹیسٹ جیتنے کے بعد خوشی سے مسرور، لیکن یہ خوشی زیادہ عرصے برقرار نہ رہی (تصویر: Getty Images)

انہوں نے جاتے جاتے ایک ایسا کارنامہ انجام دیا جو آج بھی دنیا بھر کے کپتانوں کا خواب ہے یعنی بھارت کو اُسی کی سرزمین پر ٹیسٹ سیریز میں شکست دینا۔ انہوں نے 2000ء میں بھارت کو 2-0 سے زیر کر کے اس کا 13 سال تک ہوم گراؤنڈ پر ناقابل شکست رہنے کا ریکارڈ توڑ دیا۔ بھارت کو مسلسل 14 سیریز تک کسی حریف ٹیم کے ہاتھوں شکست کا داغ نہیں لگا لیکن یہ یادگار لمحہ بعد ازاں ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوا۔ ہنسی کرونیے کے بھارتی سٹے باز سنجیو چاولا کے ساتھ معاملات چل رہے تھے اور حتی کہ پہلے ٹیسٹ میں ہنسی نے ٹیم کے ایک رکن پیٹر اسٹرائیڈم کو ناقص کارکردگی دکھانے اور اس کے بدلے میں رقم کی لالچ بھی دی لیکن وہ ناکام رہے۔ دوسرے ٹیسٹ سے قبل انہوں نے مارک باؤچر، ژاک کیلس اور لانس کلوزنر سے پوچھا کہ کیا وہ پیسوں کے لیے میچ ہارنا پسند کریں گے۔ تینوں کھلاڑیوں نے کرونیے کی باتوں کو مذاق سمجھتے ہوئے اسے سنجیدہ نہیں لیا۔ بالآخر ہنسی نے ایک جگہ جا کر کچھ کھلاڑیوں کو پھنسا ہی لیا ناگ پور میں کھیلے گئے سیریز کے آخری ایک روزہ مقابلے میں انہوں نے 15 ہزار ڈالرز کی لالچ پر ہرشل گبز اور ہنری ولیمز سے معاملات طے کر لیے۔ میچ میں گبز کو 20 سے کم رنز اسکور کرنے اور ولیمز کو گیند باز کرتے ہوئے 50 سے زائد رنز دینے کی ہدایت کی گئی۔ اصل میں کرونیے نے سنجیو چاولہ سے 25 ہزار ڈالرز فی کھلاڑی مانگے تھے اور بعد ازاں معاملہ 20 ہزار ڈالرز پر طے ہوا اس طرح 5 ہزار ڈالرز ہنسی کرونیے سے اپنی جیب میں ڈالنے کا منصوبہ بنایا۔ ہرشل گبز اور ولیمز پر بعد ازاں 6،6 ماہ کی پابندی لگی۔

کنگ کمیشن کے روبرو ہنسی کرونیے نے بتایا کہ انہوں نے بک میکرز سے کل ایک لاکھ 40 ہزار ڈالرز کی رقم وصول کی جس میں ٹیم سلیکشن، روزانہ کی پیش بندیاں اور دیگر معلومات شامل تھی، اس کے علاوہ انہوں نے جنوری 1997ء میں سٹے بازوں کو یہ بھی بتایا کہ کیپ ٹاؤن میں بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ کے دوران وہ اننگز کب ڈکلیئر کریں گے ۔ البتہ انہوں نے کمیشن کے روبرو واضح کیا کہ میں نے کبھی میچ کے نتیجے پر کوئی سودے بازی نہیں کی۔

بظاہر بھرپور نظم و ضبط، جفاکشی اور سخت محنت سے عبارت زندگی کے پیچھے ہنسی کرونیے کا نیا روپ دنیا بھر کے کرکٹ شائقین کے لیے ایک صدمے سے کم نہ تھا۔ وہ نسل پرست حکومت کے باعث 22 سال کی پابندی کے بعد پہلا بین الاقوامی میچ کھیلنے والے جنوبی افریقی دستے کے رکن تھے جس نے عالمی کپ 1992ء کے دوران سڈنی کے تاریخی میدان میں آسٹریلیا کو حیران کن شکست دی تھی بلکہ اگر سیمی فائنل میں ناقص قانون آڑے نہ آتا تو ہو سکتا ہے کہ 1992ء کا عالمی کپ پاکستان کے بجائے جنوبی افریقہ کے ہاتھوں میں ہوتا۔

میچ فکسنگ تنازع میں تاحیات پابندی کے بعد محض 32 سال کی عمر میں حادثے میں انتقال کے باعث بھی دنیا بھر میں اُن کے لیے ہمدردی پائی جاتی ہے۔

18 جنوری 2000ء کو سنچورین کا یادگار ٹیسٹ اب انگلستان کی شاندار فتح کے باعث نہیں بلکہ فکسنگ کے باعث یاد کیا جاتا ہے۔ کرکٹ پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین اور شائقین آج بھی تقسیم ہیں کہ وہ ہنسی کرونیے کو ایک ہیرو کے طور پر یاد کریں یا غدار کی حیثیت سے۔

Facebook Comments