کیا دورۂ بنگلہ دیش محسن خان کا بطور کوچ آخری دورہ ہوگا؟

عبوری کوچ محسن حسن خان کی زیر تربیت پاکستان نے سری لنکا کے خلاف فتوحات کے جھنڈے گاڑے ہیں اور ٹیسٹ اور ایک روزہ دونوں سیریز میں کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہوا ہے لیکن اس کے باوجود بطور ہیڈ کوچ محسن خان کی مستقل تقرری کے امکانات واضح نہیں ہیں کیونکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا رحجان غیر ملکی کوچ کی جانب ہے تاہم ممکن ہے کہ اُنہیں بیٹنگ کوچ کی ذمہ داری دے دی جائے۔

محسن خان کی زیر نگرانی پاکستان نے سری لنکا جیسی مضبوط ٹیم کے خلاف زبردست کامیابیاں سمیٹیں (تصویر: AFP)

محسن خان کی زیر نگرانی پاکستان نے سری لنکا جیسی مضبوط ٹیم کے خلاف زبردست کامیابیاں سمیٹیں (تصویر: AFP)

پاکستان کرکٹ بورڈ نے ابتدا میں محسن خان کو صرف سری لنکا کے خلاف سیریز کے لیے مقرر کیا تھا لیکن نئے و مستقل کوچ کی تقرری میں تاخیر کے باعث انہیں دورۂ بنگلہ دیش کے لیے بھی ذمہ داری سونپ دی گئی۔ لیکن سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ اور ایک روزہ دونوں سیریز میں شاندار کامیابیوں کے بعد کرکٹ حلقوں میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئی تھیں کہ شاید محسن خان کو مستقل کوچ مقرر کر دیا جائے۔ تاہم ذرائع نے بتایا ہے کہ سری لنکا اور بنگلہ دیش کے خلاف نسبتاً آسان سیریز کے بعد پاکستان کا ٹکراؤ ٹیسٹ کی نمبر ایک ٹیم انگلستان سے ہوگا اور نئے چیئرمین ذکا اشرف اس اہم سیریز سے قبل ایک پیشہ ور ہیڈ کوچ کا تقرر چاہتے ہیں کیونکہ انگلستان کے خلاف سیریز کے بعد ایشیا کپ اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیسے انتہائی اہم ٹورنامنٹس منعقد ہوں گے اور اس کے لیے ناتجربہ کار کوچ کا تقرر ٹیم کی کارکردگی پر برا اثر ڈال سکتا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ اس وقت ہیڈ کوچ کے ساتھ ساتھ کھیل کے تینوں شعبوں یعنی بلے بازی، گیند بازی اور فیلڈنگ کے لیے علیحدہ کوچز کا بھی خواہاں ہے اور اس سلسلے میں پی سی بی کی ویب سائٹ پر بذریعہ اشتہار درخواستیں بھی طلب کر لی گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق ذکا اشرف کسی غیر ملکی فرد کو قومی کرکٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ بنانا چاہتے ہیں جبکہ دیگر کوچز کے عہدے مقامی امیدواروں کو دیے جا سکتے ہیں جیسا کہ باؤلنگ کوچ کا عہدہ عاقب جاوید اور فیلڈنگ کوچ کا عہدہ اعجاز احمد کو مل سکتا ہے جبکہ محسن خان کو بیٹنگ کوچ مقرر کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان کے گزشتہ کوچ وقار یونس نے دورۂ زمبابوے کے بعد ذاتی وجوہات کی بنیاد پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا جس کے بعد پاکستان نے انتخاب عالم کی زیر قیادت ایک کوچ تلاش کمیٹی مقرر کی تھی، جو ماضی کے عظیم بلے باز ظہیر عباس اور کرکٹ منتظم کرنل (ر) نوشاد علی مشتمل تھی، جس نے سابق بلے باز اور معروف کمنٹیٹر رمیز راجہ کی معاونت سے 5 حتمی امیدواروں کی فہرست پاکستان کرکٹ بورڈ کو پیش کی جس میں عاقب جاوید، عبد القادر اور اعجاز احمد جیسے مقامی ناموں کے علاوہ آسٹریلیا کے ڈین جونز اور انگلستان کے ڈرمٹ ریوبھی شامل ہیں۔

قومی کرکٹ ٹیم 29 نومبر سے دورۂ بنگلہ دیش کا باضابطہ آغاز کر رہی ہے۔ دونوں ٹیموں کے درمیان دو ٹیسٹ، تین ایک روزہ اور ایک ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی مقابلہ کھیلا جائے گا۔

Article Tags

Facebook Comments