ویسٹ انڈیز کو اننگز سے شکست، بھارت سیریز جیتنے میں کامیاب

بھارت نے نہ صرف بلے بازی بلکہ اسپن گیند بازی میں بھی اپنی قوت کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے ویسٹ انڈیز کے کھیل کے تمام شعبوں میں چت کر دیا اور کولکتہ کے تاریخی میدان میں کھیلا گیا دوسرا ٹیسٹ با آسانی ایک اننگز اور 15 رنز سے جیت لیا۔ یوں بھارت نے سیریز 2-0 سے اپنے نام کر لی۔ ویسٹ انڈیز کی جانب سے دوسری اننگز میں زبردست مزاحمت کی گئی لیکن ڈیرن براوو 136 اور مارلون سیموئلز کے 84 رنز میچ کو ویسٹ انڈیز کے حق میں پلٹانے کے لیے کافی نہیں تھے۔ یہ بھارت کی ویسٹ انڈیز کے خلاف تاریخ کی محض دوسری اننگز فتح تھی۔

بھارت کی شاندار کارکردگی کے باوجود یہ مقابلہ ایک لحاظ سے مایوس کن رہا کیونکہ ایڈن گارڈنز کے تاریخی میدان میں بھارت کی اس فتح کو دیکھنے کے لیے تماشائی نہ ہونے کے برابر تھے۔ ایک وقت تھا جب ایڈن گارڈنز میں ایک لاکھ تماشائیوں کی گنجائش ہوتی تھی اور ٹیسٹ مقابلے کے تمام پانچوں ایام میں یہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی تھی لیکن آج اسی میدان کو خالی دیکھنا شائقین خصوصاً ٹیسٹ کرکٹ سے محبت کرنے والوں کے لیے ایک افسوسناک نظارہ تھا۔ یہ ٹی ٹوئنٹی جیسے تیز فارمیٹ کے باعث ٹیسٹ کرکٹ پر پڑنے اثرات کا بھی عکاس ہے۔

لکشمن اننگز ڈکلیئر قرار دیے جانے کے باعث ڈبل سنچری سے محروم ہو گئے،انہوں نے 176 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی (تصویر: AFP)

لکشمن اننگز ڈکلیئر قرار دیے جانے کے باعث ڈبل سنچری سے محروم ہو گئے،انہوں نے 176 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی (تصویر: AFP)

بھارت کے مایہ ناز بلے باز سچن ٹنڈولکر، جو اپنی 100 ویں بین الاقوامی سنچری کی تلاش میں مہینوں سے سرگرداں ہیں، بھارت کی واحد اننگز میں محض 38 رنز بنا سکے اور یوں ان کا انتظار طویل سے طویل تر ہوتا جا رہا ہے۔ اب اُن کے پاس موقع ہے کہ وہ ممبئی کے وانکھیڑے اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے تیسرے مقابلے میں سنچری بنا کر اپنے ہوم گراؤنڈ کے تماشائیوں کو یادگار تحفہ دیں۔ سچن کا تعلق ممبئی سے ہے اور وہ اسی میدان پر کھیل کر بین الاقوامی کرکٹ میں پہنچے تھے اس لیے اُن کے لیے ممبئی ٹیسٹ میں سنچری سے بڑا کوئی یادگار لمحہ نہیں ہو سکتا۔ “

میچ محض چار روز میں اپنے اختتام کو پہنچا، گو کہ ویسٹ انڈیز نے دوسری اننگز میں براوو، سیموئلز کے علاوہ ایڈرین بارتھ اور کرک ایڈورڈز کی نصف سنچریوں کی بدولت 463 رنز جوڑے لیکن پہلی اننگز میں 153 رنز پر آل آؤٹ ہونے کی اُنہیں بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑی اور دوسری اننگز کا اسکور بھی اس کا ازالہ کرنے کو کافی ثابت نہیں ہوا۔ یہ ویسٹ انڈیز کا دوسری اننگز میں بھارت کے خلاف سب سے بڑا اسکور تھا۔ اس نے آخری مرتبہ 1958ء کے کانپور ٹیسٹ میں بھارت کے خلاف 443 رنز بنائے تھے لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ کانپور میں ویسٹ انڈیز نے 203 رنز کی شاندار فتح حاصل کی تھی لیکن یہاں کولکتہ میں اسے اننگز اور 15 رنز کی ذلت آمیز شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔

بھارت نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا اور وی وی ایس لکشمن کے ناقابل شکست 176، مہندر سنگھ دھونی کے 144 اور راہول ڈریوڈ کے 119 رنز کی بدولت 631 رنز کا ہمالیہ جیسا اسکور مرتب کیا۔ تہرے ہندسے کی ان شاندار اننگز کے علاوہ گوتم گمبھیر نے 65 رنز کی باری بھی نمایاں رہی بھارت نے دوسرے روز چائے کے وقفے کے بعد اننگز ڈکلیئر کرنے کا فیصلہ کیا اور لکشمن کو ممکنہ ڈبل سنچری سے محروم کر دیا جنہیں 176 رنز پر بغیر آؤٹ ہوئے ہی پویلین لوٹنا پڑا۔ دھونی اور لکشمن کے درمیان ساتویں وکٹ پر 224 رنز کی زبردست شراکت قائم ہوئی جس نے میچ کے نتیجے پر کلیدی اثرات ڈالے۔اس شراکت کے دوران لکشمن کی اننگز کی اور بات لیکن دھونی نے کمال مہارت سے ایک بہترین باری کھیلی جس میں انہوں نے 175 گیندوں پر 5 چھکوں اور 10 چوکوں کی مدد سے شاندار 144 رنز بنائے۔ ان کے آؤٹ ہونے کے کچھ ہی دیر بعد بھارت نے اننگز 631 رنز 7 کھلاڑی آؤٹ پر ڈکلیئر کرنے کا اعلان کر دیا۔

ویسٹ انڈیز کی جانب سے تقریباً تمام ہی گیند باز مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئے خصوصاً کپتان ڈیرن سیمی جن کے 25 اوورز میں بھارتی بلے بازوں نے 132 رنز لوٹے جبکہ کیمار روچ کے 26 اوورز میں 106 رنز بنائے۔ دونوں نے دو، دو حریف بلے بازوں کو آؤٹ کیا جبکہ ایک، ایک وکٹ فیڈل ایڈورڈز، دیوندر بشو اور کریگ بریتھویٹ کو بھی ملی۔

اتنے بڑے اسکور کے جواب میں ویسٹ انڈین بلے باز بھارت کے بچھائے گئے اسپن جال میں پھنس گئے اور پوری ٹیم محض 153 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ اس میں اہم ترین کردار اسپنرز پراگیان اوجھا اور روی چندر آشون کا تھا۔ اوجھا نے 64 رنز دے کر ویسٹ انڈین اننگزکے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا جبکہ آشون نے شیونرائن چندرپال اور کریگ بریتھویٹ کی اہم وکٹیں حاصل کیں۔ ان دونوں کے علاوہ اُمیش یادیو کی کاری ضربوں نے بھی ویسٹ انڈین خوابوں کو چکناچور کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا جنہوں نے ایڈرین بارتھ، ڈیرن براوو اور مارلون سیموئلز کی قیمتی وکٹیں اپنے نام کیں۔ ویسٹ انڈیز کی جانب سے سب سے زیادہ اسکور ڈیرن براوو نے بنایا جو محض 30 رنز تھا جبکہ 25 رنز مارلون سیموئلز نے بنائے۔ ان دونوں کے علاوہ کوئی ویسٹ انڈین بلے باز 20 رنز بنانے کا 'اعزاز' بھی حاصل نہ کر پایا۔

ڈیرن براوو کی عمدہ اننگز بھی ویسٹ انڈیز کی بدترین شکست کو نہ روک سکی (تصویر: AFP)

ڈیرن براوو کی عمدہ اننگز بھی ویسٹ انڈیز کی بدترین شکست کو نہ روک سکی (تصویر: AFP)

البتہ فالو آن کا شکار ہو جانے ویسٹ انڈیز نے نسبتاً بہتر بلے بازی دکھائی۔ گو کہ اسے 23 پر اوپنر بریتھویٹ سے محروم ہونا پڑا لیکن بعد میں آنے والے بلے بازوں نے بہت ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ جن میں ایڈرین بارتھ کے 62، کرک ایڈورڈز کے 60، ڈیرن براوو کے شاندار 136، شیونرائن چندرپال کے 47 اور مارلون سیموئلز کے 84 رنز شامل تھے لیکن لوئر مڈل آرڈر اوپر کے بلے بازوں کے نقش قدم پر نہ چل پایا۔ ایک موقع پر ویسٹ انڈیز کے 401 رنز پر چار کھلاڑی آؤٹ تھے لیکن براوو کے واپس لوٹتے ہی اننگز لڑکھڑا گئی اور 62 رنز کے اضافے کے ساتھ ویسٹ انڈیز کی 6 وکٹیں گر گئیں اور میچ اپنے اختتام کو پہنچا۔ اننگز کے قلب میں یہ کاری وار لگانے والے اسپنرز تھے جنہوں نے محض 16 رنز کے اضافے سے براوو، با اور سیموئلز کو ٹھکانے لگانے کر ویسٹ انڈین مزاحمت کو کچل دیا۔ ڈیرن براوو، جن کا کھیلنے کے انداز ہو بہو ماضی کے عظیم بلے باز برائن لارا جیسا ہے، کو میچ کے بعد ایک انوکھے اتفاق کا سامنا کرنا پڑا۔ 12 ٹیسٹ مقابلوں کے بعد وہ 47.05 کے اوسط سے 941 رنز بنا چکے ہیں جو ہو بہو برائن لارا کے ابتدائی 12 ٹیسٹ مقابلوں کے اعداد و شمار ہیں۔ لارا نے بھی ابتدائی 12 مقابلوں میں 47.05 کی اوسط سے 941 رنز بنائے تھے۔

بھارت کی جانب سے نوجوان اُمیش یادیو نے دوسری اننگز میں بھی عمدہ گیند بازی کی اور بریتھویٹ، چندرپال اور ڈیرن سیمی کی قیمتی وکٹوں سمیت کل چار وکٹیں سمیٹیں جبکہ دو، دو وکٹیں پراگیان اوجھا، روی چندر آشون اور ایشانت شرما کو ملیں۔

وی وی ایس لکشمن کو فیصلہ کن اننگز کھیلنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ دونوں ٹیمیں اب 22 نومبر سے ممبئی میں آمنے سامنے ہوں گی جہاں سچن ٹنڈولکر اپنی سوویں سنچری تلاش کریں گے جبکہ ویسٹ انڈیز رہی سہی عزت بچانے کی کوشش کرے گا۔

بھارت بمقابلہ ویسٹ انڈیز، دوسرا ٹیسٹ

14 تا 17 نومبر 2011ء

بمقام: ایڈن گارڈنز، کولکتہ، بھارت

نتیجہ: بھارت اننگز اور 15 رنز سے کامیاب

میچ کے بہترین کھلاڑی: وی وی ایس لکشمن(بھارت)

بھارت پہلی اننگز رنز گیندیں چوکے چھکے
گوتم گمبھیر ک بارتھ ب فیڈل ایڈورڈز 65 103 8 0
وریندر سہواگ ک بارتھ ب سیمی 38 33 8 0
راہول ڈریوڈ ک بریتھویٹ 119 207 9 2
سچن ٹنڈولکر ک سیموئلز ب بشو 38 71 5 0
وی وی ایس لکشمن ناٹ آؤٹ 176 280 12 0
ایشانت شرما ک با ب روچ 0 1 0 0
یووراج سنگھ ایل بی ڈبلیو ب سیمی 25 35 5 0
مہندر سنگھ دھونی ک با ب روچ 144 175 10 5
روی چندر آشوِن ناٹ آؤٹ 4 12 0 0
فاضل رنز ب 6، ل ب 5، و 2، ن ب 9 22
مجموعہ 151.2 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر ڈکلیئر 631

 

ویسٹ انڈیز (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
فیڈل ایڈورڈز 22.2 1 81 1
ڈیرن سیمی 25 0 132 2
کیمار روچ 26 1 106 2
مارلون سیموئلز 27 0 104 0
دیوندر بشو 45 2 154 1
کریگ بریتھویٹ 6 0 43 1

 

 ویسٹ انڈیزپہلی اننگز رنز گیندیں چوکے چھکے
ایڈرین بارتھ ک سہواگ ب یادیو 1 4 0 0
کریگ بریتھویٹ ک گمبھیر ب آشون 17 31 2 0
کرک ایڈورڈز ایل بی ڈبلیو ب اوجھا 16 47 2 0
ڈیرن براوو ب یادیو 30 56 6 0
شیونرائن چندرپال ایل بی ڈبلیو ب آشون 4 6 1 0
مارلون سیموئلز ب یادیو 25 51 3 0
کارلٹن با ایل بی ڈبلیو ب اوجھا 13 27 1 0
ڈیرن سیمی ک دھونی ب اوجھا 18 14 2 1
کیمار روچ رن آؤٹ 2 8 0 0
فیڈل ایڈورڈز ایل بی ڈبلیو ب اوجھا 16 16 3 0
دیوندر بشو ناٹ آؤٹ 8 28 1 0
فاضل رنز 3
مجموعہ 48 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر 153

 

بھارت (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
پراگیان اوجھا 22 5 64 4
امیش یادیو 7 1 23 3
روی چندر آشون 14 3 49 2
ایشانت شرما 5 2 14 0

 

ویسٹ انڈیز دوسری اننگز؛ فالو آن رنز گیندیں چوکے چھکے
ایڈرین بارتھ ک لکشمن ب شرما 62 105 10 0
کریگ بریتھویٹ ک دھونی ب یادیو 9 15 1 0
کرک ایڈورڈز ایل بی ڈبلیو ب شرما 60 128 6 1
ڈیرن براوو ک ڈریوڈ ب اوجھا 136 230 16 4
شیونرائن چندرپال ب یادیو 47 94 6 0
مارلون سیموئلز ایل بی ڈبلیو ب آشون 84 111 13 1
کارلٹن با ک ڈریوڈ ب اوجھا 3 19 0 0
ڈیرن سیمی ب یادیو 32 28 1 3
کیمار روچ ب آشون 1 13 0 0
فیڈل ایڈورڈز ناٹ آؤٹ 15 15 3 0
دیوندر بشو ب یادیو 0 1 0 0
فاضل رنز 14
مجموعہ 126.3 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر 463

 

بھارت (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
امیش یادیو 17.3 1 80 4
ایشانت شرما 25 4 95 2
پراگیان اوجھا 32 5 104 2
روی چندر آشون 40 4 137 2
یووراج سنگھ 3 0 14 0
وریندر سہواگ 9 2 20 0

Facebook Comments