آسٹریلیا نیوزی لینڈ کے درمیان لفظی جنگ کا آغاز؛ کرس کیرنز کا رکی پونٹنگ پر حملہ

آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے مابین ٹیسٹ سیریز کے آغاز سے قبل دونوں ٹیموں کے درمیان روایتی 'الفاظ کی جنگ' کا آغاز ہو چکا ہے اور اس مرتبہ پہلا حملہ بحیرۂ تسمان کے اُس پار یعنی نیوزی لینڈ سے ہوا ہے جس میں سابق آل راؤنڈر کرس کیرنز نے آسٹریلیا کے تجربہ کار بلے باز رکی پونٹنگ کو زبردست تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اُن کے کرکٹ کو خیرباد کہنے کا وقت آ چکا ہے اور کرکٹ آسٹریلیا اس حقیقت سے نظریں چرا رہا ہے حالانکہ اگر وہ “ملک میں کرکٹ کو فروغ دینا چاہتا ہے تو اسے پونٹنگ کے 16 سالہ کیریئر کا خاتمہ کر دینا چاہیے۔ اس کے لیے انہوں نے انگریزی کے محاورے 'Elephant in the room' کا استعمال کیا۔

رکی پونٹنگ گزشتہ دو سال میں صرف ایک سنچری بنا پائے ہیں اور اسے بنائے ہوئے بھی تقریبا دو سال کا عرصہ گزر چکا ہے (تصویر: Getty Images)

رکی پونٹنگ گزشتہ دو سال میں صرف ایک سنچری بنا پائے ہیں اور اسے بنائے ہوئے بھی تقریبا دو سال کا عرصہ گزر چکا ہے (تصویر: Getty Images)

آسٹریلیا کے اخبار 'سڈنی مارننگ ہیرلڈ' کے مطابق کرس کیرنز کا کہنا ہے کہ تیسرے نمبر پرکھیلنے والا ایک بلے باز 27 کے اوسط کے ساتھ دو سال تک نہیں چل سکتا، میرے خیال میں اب رکی سے چھٹکارہ پانے کا وقت آ چکاہے۔ اگر ماضی کے کھلاڑیوں کا جائزہ لیں تو مارک ٹیلر، این ہیلی اور مارک واہ کو کہہ دیا گیا تھاکہ اُن کا وقت پورا ہو چکا ہے لیکن اس وقت آسٹریلین ٹیم پر ایک بوجھ رکی پونٹنگ کی صورت میں موجود ہے جس سے کوئی ٹیم کو آزاد نہیں کر رہا۔

34 سال کی عمر میں بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائر ہونے والے سابق آل راؤنڈر کا کہنا ہے کہ پونٹنگ کو خود ہی نیوزی لینڈ کے خلاف ہوبارٹ ٹیسٹ کے بعد ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دینا چاہیے۔

البتہ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میرے بیان کو غلط انداز میں نہ لیا جائے میں رکی پونٹنگ کی بہت عزت کرتا ہوں لیکن ہر کھلاڑی کے جانے کا ایک وقت ہوتا ہے اور میرے لیے نیوزی لینڈ کے خلاف ہوبارٹ میں ہونے والا ٹیسٹ اُن کا آخری مقابلہ ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا کرکٹ کے حوالے سے کوئی سودے بازی نہ کرنے والا ملک تھا لیکن میں نے محسوس کیا ہے کہ گزشتہ چند سالوں سے وہ کچھ معاملات پر سمجھوتہ کر رہا ہے۔ انہوں نے رکی کو صرف اُن کے نام کے باعث ٹیم میں برقرار رکھا ہوا ہے۔

سر ڈان بریڈ مین کے بعد آسٹریلیا کی تاریخ کے کامیاب ترین بلے باز شمار ہونے والے 37 سالہ رکی پونٹنگ رواں سال بدترین فارم کا شکار رہے ہیں اور اس عرصے کے دوران کھیلے گئے 4 ٹیسٹ مقابلوں میں 24.25 کے غیر متاثر کن اوسط سے محض 194 رنز بنا پائے ہیں۔ جن میں کوئی سنچری شامل نہیں۔ انہوں سے اس پورے عرصے کا زیادہ سے زیادہ اسکور 62 رنز حالیہ دورۂ جنوبی افریقہ میں بنایا۔جبکہ گزشتہ دو سالوں میں انہوں نے صرف ایک سنچری بنائی ہے، جس سے ان کی مستقل ناقص کارکردگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

ان کی مستقل ناقص کارکردگی کے باعث آسٹریلیا کے مختلف حلقے پر اُن پر تنقید کر رہے ہیں۔

Facebook Comments