مظہر مجید

اسپاٹ فکسنگ مقدمے کا سب سے ہنگامہ خیز دن، مظہر مجید کے انکشافات، عامر نئی مصیبت میں گرفتار

کرکٹ کی تاریخ کے سب سے اہم مقدمہ کا فیصلہ کل (جمعرات کو) برطانیہ کی عدالت میں ہونے جا رہا ہے جبکہ بدھ کو لندن کی ساؤتھ وارک کراؤن کورٹ میں مقدمے کے 21 ویں روز جہاں مرکزی کردار مظہر مجید نئے

جیوری دو روز بعد بھی کسی فیصلے تک نہ پہنچ سکی، اجلاس سوموار تک ملتوی

پاکستانی کھلاڑیوں سلمان بٹ اور محمد آصف کے خلاف مبینہ اسپاٹ فکسنگ کے مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت دو روز کے غور و خوض کے باوجود کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکی۔ اس لیے جیوری کا اجلاس مزید مؤخر

عامر اور مجید اسپاٹ فکسنگ میں ملوث تھے، عدالت؛ وکلائے دفاع کے حتمی دلائل مکمل

برطانیہ کی عدالت نے کہا ہے کہ مظہر مجید اور محمد عامر اسپاٹ فکسنگ میں ملوث تھے اور کیونکہ اس بات پر مقدمے کے تمام فریق متفق ہیں۔ اسی کو بنیاد بنا کر جیوری کے اراکین مقدمے کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔

کامران اور وہاب بھی مشتبہ، عامر قربانی کا بکرا، استغاثہ کے دلائل مکمل

کرکٹ کی دنیا میں تہلکہ مچا دینے والے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کا مقدمہ برطانیہ کی عدالت میں اپنے اختتامی مرحلے کی جانب گامزن ہے اور سماعت کے چودہویں روز استغاثہ نے اپنے دلائل مکمل کیے اور کہا کہ ان کے

اسپاٹ فکسنگ مقدمہ ڈرامائی مرحلے میں داخل، سلمان بٹ کے لیے دفاع مشکل ہو گیا

برطانیہ کی عدالت میں پاکستان کے تین کھلاڑیوں پر کھیل کے دوران دھوکہ دہی و بدعنوانی کا دائر مقدمہ ڈرامائی موڑ لیتا ہوا فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں سابق کپتان سلمان بٹ کے لیے اپنا دفاع

مظہر مجید نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2010ء کا ایک میچ فکس کرنے کا کہا تھا؛ سلمان بٹ

اسپاٹ فکسنگ کے الزامات کے تحت برطانیہ کی عدالت میں مقدمہ کا سامنا کرنے والے پاکستان کے سابق کپتان سلمان بٹ کا کہنا ہے کہ ان کے ایجنٹ مظہر مجید نے 2010ء کے ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ کے دوران انہیں جنوبی

کسی کو بے ایمانی پر نہیں اکسایا، سلمان بٹ؛ مظہر مجید کے 27 بینک کھاتے ہیں؛ پولیس

پاکستان کے سابق کپتان سلمان بٹ نے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ انہوں نے محمد آصف اور محمد عامر کو بے ایمانی کرنے کے لیے اکسایا تھااور جان بوجھ کر نو بالز کروائیں، جبکہ محمد آصف کا کہنا ہے کہ