Controversially Yours

شعیب اختر کی آئی پی ایل کہانی

آئی سی ایل ایک باغی لیگ تھی جسے آئی سی سی کی تائید حاصل نہ تھی اور ہمارے چیئرمین کھلاڑیوں کو اِس لیگ سے دور رہنے کی تاکید کر رہے تھے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آئی سی ایل میں کھیلنے کو ترجیح دینے

سچن مجھ سے کنی کترا گیا

ہمیں سیریز میں ایک حوصلہ شکن ہار ضرور سہنا پڑی لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم نے سچن ٹنڈولکر کو لگام دیے رکھی۔ یہ بات ہمارے حق میں رہی کہ سیریز کے دوران سچن کو کہنی کی تکلیف تھی؛ جس نے عظیم بلے باز کو

مثبت ڈوپ ٹیسٹ اور کرب و ابتلا کے ایام

سال کے اختتام پر ہم چیمپئنز ٹرافی کھیلنے کے لیے بھارت روانہ ہوئے۔ حسب معمول جے پور میں بھارتی شائقین نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کا زبردست استقبال کیا، جو آفریدی، میرے اور چند دیگر کھلاڑیوں کے خصوصی

آدھے بھارتی بلے باز مجھ سے پریشان تھے

بیشتر بلے باز جن کو میں نے باؤلنگ کی میرا سامنا کرتے ہوئے پریشانی محسوس کرتے تھے۔ اور آخر کیوں نہ کرتے --- میں باؤلنگ جو تقریباً 100 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے کرتا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ بھارتی

میں اور عظیم لارا!

میں ستمبر میں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کھیلنے کے لیے ایک مرتبہ پھر انگلستان واپس آ چکا تھا۔ اُس وقت تک مجھے برائن لارا کے خلاف باؤلنگ کرنے کا موقع نہیں ملا تھا، گو کہ ہم ویسٹ انڈیز کے خلاف متعدد

سچن ڈریوڈ ’فتح گر‘ کھلاڑی نہیں

ہو سکتا ہے میں غلط ہوں لیکن اپنی دانست میں میں یہ سمجھتا ہوں کہ دنیا بھر کے بلے باز کسی نہ کسی حد تک خود غرض ہوتے ہیں اور ریکارڈز کے لیے کھیلتے ہیں۔ پاکستان کے پاس بھی مطلبی بلے باز ہیں۔ وہ بسا

پاکستان میں سب کچھ ہے، لیکن قدر نہیں!

میرے ملک کو دیکھئے۔ پاکستان کے پاس کیا کچھ نہیں ہے؟ کس چیز کی کمی ہے؟ ہمارا چاول بڑا ہے؛ اپنی فصلوں کو کاشت کرنے کے لیے ہمیں میٹھا پانی میسر ہے۔ ہماری پچھتر فیصد زمین زراعت کے قابل ہے اور ہمارے

اور میں نے بال ٹمپرنگ کی

مجھے یاد ہے کہ دمبولا میں موسم بہت گرم اور نمی سے بھرپور تھا اور برصغیر کی پچوں کی روایات کے عین مطابق یہاں بھی ایک انتہائی سست پچ تھی۔ ہم نیوزی لینڈ کے خلاف کھیل رہے تھے اور ہمیں وکٹوں کی ضرورت