ملتان سے ابوظہبی تک!

6 1,030

پاکستان کرکٹ چاہے زوال کی اتھاہ گہرائیوں میں چلی جائے لیکن اس میں ایک خاص بات ضرور ہے، اس میں مزاحمت اور جوابی حملے کی طاقت بہت زیادہ ہے۔ کرکٹ کی تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان نے کئی مرتبہ میچ محض اپنی گیند بازی کی بدولت ہارے ہوئے مقابلے جیتے ہیں جن میں سے ایک یادگار مقابلہ آج سے تقریباً 6 سال قبل ملتان میں کھیلا گیا جب ایشیز کا تاج سر پر سجانے والا انگلستان اپنی طاقتور ٹیم کے ساتھ پاکستان پہنچا تھا۔ نجانے کیوں ابوظہبی میں پاکستان کی فتح کے بعد ملتان ٹیسٹ میرے ذہن میں بہت زیادہ گردش کر رہا ہے 🙂

جن دنوں میں آسٹریلیا کو ہرانا ایک خواب سمجھا جاتا تھا، انہی ایام میں عالمی چیمپئن اور ٹیسٹ کے عالمی نمبر ایک کو زیر کرنے کے بعد انگلش ٹیم ساتویں آسمان پر اُڑ رہی تھی لیکن ۔۔۔۔۔۔۔ پاکستانی سرزمین پر پہلے ہی ٹیسٹ میں انگلستان کو اپنی اوقات کا اندازہ ہو گیا۔ بالکل اس طرح جس طرح متحدہ عرب امارات میں سیریز کے ابتدائی دونوں مقابلوں میں اسے حیثیت کا ادراک ہوا ہے کہ وہ تب تک حقیقی عالمی نمبر ایک نہیں بن سکتا جب تک دنیا بھر میں کارکردگی پیش نہ کرے۔ جیسا کہ ماضی میں آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کی ٹیمیں رہی ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنے ہوم گراؤنڈز پر بلکہ تمام ٹیموں کو خود ان کے میدانوں میں جا کر زیر کیا اور نمبر ون ٹیم بننے کا تمغہ اپنے سینے پر سجایا۔

نومبر 2005ء میں ملتان میں کھیلے گئے پاک-انگلستان یادگار مقابلے میں پاکستان نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد 22 رنز سے فتح حاصل کی تھی اور یہ میچ کئی شائقین کرکٹ کے ذہنوں میں اب بھی تازہ ہوگا۔ جی ہاں! شعیب اختر، دانش کنیریا اور پاکستان کے دیگر باؤلرز کی یادگار کارکردگی کون بھول سکتا ہے؟ کم از کم اینڈریو اسٹراس، این بیل اور کیون پیٹرسن تو ہر گز نہیں، جو ابوظہبی کی طرح ملتان کی شکست خوردہ ٹیم کا بھی حصہ تھے۔

مذکورہ سیریز میں پاکستانی ٹیم اپنے عروج پر دکھائی دی، جس نے نہ صرف ٹیسٹ بلکہ ایک روزہ دونوں سیریز میں انگلستان کو چاروں شانے چت کیا۔ تاہم سیریز میں فتوحات کی بنیاد ملتان میں باؤلرز کی شاندار کارکردگی نے رکھی، جس کی بدولت پاکستان کو وہ نفسیاتی برتری ملی جس کے ذریعے اس نے ہر طرز کے کھیل میں انگلستان کو آؤٹ کلاس کیا۔

ملتان میں ٹاس جیت کر پہلی اننگز میں پاکستانی کی بیٹنگ توقعات کے مطابق نہ چلی لیکن سلمان بٹ کے 74 اور کپتان انضمام الحق کے 53 رنز کی بدولت پاکستان نے 274 رنزکا اسکور بنایا۔ جواب میں انگلستان نے مارکوس ٹریسکوتھک کے 193 اور این بیل کے 71 رنز کے ذریعے 418 رنز کا زبردست مجموعہ اکٹھا کر لیا یعنی پاکستان پر 144 رنز کی بھاری برتری۔

اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں مجرم قرار دیے جانے کے بعد آجکل انگلستان کے جیل خانے میں قید کے ایام گزارنے والے سلمان بٹ اُن دنوں اپنی بھرپور فارم میں تھے جنہوں نے دوسری اننگز میں بھی عمدہ بلے بازی کی اور 122 رنز کی بہترین اننگز کھیلی۔ اس مرتبہ بھی 72 رنز کے ساتھ کپتان انضمام الحق نے پاکستانی اننگز کو سنبھالا دیا لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود پاکستان اسکور بورڈ پر 341 رنز ہی جمع کر پایا اور انگلستان کو میچ جیتنے کے لیے صرف 198 رنز کا ہدف ملا۔

لیکن اس آسان ہدف کے جواب میں پاکستان نے ایک اینڈ سے محمد سمیع اور شعیب اختر کی برق رفتار گیندوں اور دوسرے اینڈ سے دانش کنیریا کی تباہ کن اسپن باؤلنگ کی بدولت انگلستان کی اننگز کو 175 رنز پر تمام کر دیا اور مقابلہ سنسنی خیز معرکہ آرائی کے بعد صرف 22 رنز سے جیت لیا۔ یہ انگلستان کے خلاف پاکستان کے سخت ترین مقابلوں میں سے ایک تھا۔

پاکستان کے کپتان انضمام الحق نے اس وقت اسے اپنے کیریئر کی بہترین فتوحات میں سے ایک قرار دیا تھا۔ جبکہ پاکستان کے کوچ باب وولمر نے کہا کہ انہیں اس وقت تک فتح کا یقین نہیں آیا جب تک انگلستان کی آخری وکٹ نہیں گری۔ انضمام اور وولمر کے اس جوڑ نے پاکستان کو کئی دیگر یادگار فتوحات سے بھی نوازا تھا جن میں 2005ء میں بھارت کے خلاف بنگلور ٹیسٹ میں فتح اور دیگر کئی یادگار فتوحات شامل ہیں۔ لیکن 2007ء کے عالمی کپ میں انضمام الحق کی ریٹائرمنٹ اور باب وولمر کی افسوسناک موت نے پاکستان کو شدید مسائل سے دوچار کر دیااور تین سال تک یکے بعد دیگرے تنازعات میں پڑنے کے بعد اب مصباح الحق کی زیر قیادت پاکستان ایک مرتبہ پھر راکھ سے جلوہ گر ہو رہا ہے۔

ویسے کتنی مماثلت ہے ابوظہبی اور ملتان کی فتوحات میں؟ وہاں بھی پاکستان بیشتر وقت جدوجہد کرتا رہا اور بالآخر ایک ہی دن کے عمدہ کھیل نے اسے فتح سے نواز دیا اور ابو ظہبی میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان اپنے پسندیدہ میدان میں دبئی میں کیا کرتا ہے، جہاں سیریز کا تیسرا ٹیسٹ 3 فروری سے شروع ہو رہا ہے ۔ دبئی اسپورٹس سٹی میں پاکستان آج تک کوئی ٹیسٹ مقابلہ نہیں ہارا اور جاری سیریز کا پہلا معرکہ بھی پاکستان نے اسی میدان میں با آسانی جیتا تھا۔

پاکستان بمقابلہ انگلستان، پہلا ٹیسٹ

‏12 تا 16 نومبر 2005ء

بمقام: ملتان کرکٹ اسٹیڈیم، ملتان، پاکستان

نتیجہ: پاکستان 22 رنز سے فتحیاب

میچ کے بہترین کھلاڑی: سلمان بٹ

 پاکستان (پہلی اننگز)رنزگیندیںچوکےچھکے
شعیب ملکایل بی ڈبلیو ب فلنٹوف397150
سلمان بٹک جونز ب یوڈل74183110
یونس خانایل بی ڈبلیو ب ہارمیسن3910650
محمد یوسفب فلنٹوف5710
انضمام الحقک اسٹراس ب فلنٹوف539741
حسن رضاب ہارمیسن0400
کامران اکملک ٹریسکوتھک ب ہوگارڈ287620
محمد سمیعک جونز ب ہوگارڈ11300
شعیب اخترناٹ آؤٹ102710
شبیر احمدب فلنٹوف0500
دانش کنیریاک جائلز ب ہارمیسن61210
فاضل رنزب 1، ل ب 7، ن ب 1119   
مجموعہ‏98.2 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر274   
انگلستان (گیند بازی)اوورزمیڈنرنزوکٹیں
میتھیو ہوگارڈ224552
اسٹیو ہارمیسن16.25373
اینڈریو فلنٹوف236684
پال کولنگ ووڈ41150
ایشلے جائلز163440
شان یوڈل173471
 انگلستان (پہلی اننگز)رنزگیندیںچوکےچھکے
مارکوس ٹریسکوتھکک کامران ب شبیر193305202
اینڈریو اسٹراسایل بی ڈبلیو ب سمیع91420
این بیلک سلمان ب شعیب ملک7116150
پال کولنگ ووڈک کامران ب شبیر103410
میتھیو ہوگارڈک کامران ب شعیب اختر12200
کیون پیٹرسنک سلمان ب دانش5710
اینڈریو فلنٹوفک شعیب ملک ب شعیب اختر457970
گیرنٹ جونزب شبیر223040
ایشلے جائلزک حسن رضا ب شبیر162530
شان یوڈلایل بی ڈبلیو ب شعیب اختر0400
اسٹیو ہارمیسنناٹ آؤٹ4500
فاضل رنزب 8، ل ب 11، و 1، ن ب 2242   
مجموعہ‏110.4 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر418   
پاکستان (گیند بازی)اوورزمیڈنرنزوکٹیں
شعیب اختر272993
محمد سمیع161761
شبیر احمد22.47544
دانش کنیریا2741061
شعیب ملک181641
 پاکستان (دوسری اننگز)رنزگیندیںچوکےچھکے
شعیب ملکک ٹریسکوتھک ب ہارمیسن182120
سلمان بٹک جونز ب ہوگارڈ122256120
یونس خانک ٹریسکوتھک ب فلنٹوف487860
محمد سمیعک جونز ب فلنٹوف31000
انضمام الحقایل بی ڈبلیو ب ہوگارڈ7214780
محمد یوسفک بیل ب فلنٹوف161340
حسن رضاک ٹریسکوتھک ب فلنٹوف11400
کامران اکملک پیٹرسن ب ہارمیسن335450
شعیب اخترک بیل ب جائلز114611
شبیر احمدک جونز ب ہارمیسن0100
دانش کنیریاناٹ آؤٹ1500
فاضل رنزل ب 1، ن ب 1016   
مجموعہ‏105.5 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر341   
انگلستان (گیند بازی)اوورزمیڈنرنزوکٹیں
میتھیو ہوگارڈ272812
اینڈریو فلنٹوف253884
اسٹیو ہارمیسن19.53523
شان یوڈل121470
ایشلے جائلز222671
 انگلستان (ہدف: 198 رنز)رنزگیندیںچوکےچھکے
مارکوس ٹریسکوتھکب شبیر51100
اینڈریو اسٹراسک حسن ب دانش236120
این بیلک کامران ب دانش314521
پال کولنگ ووڈایل بی ڈبلیو ب سمیع3500
کیون پیٹرسنک کامران ب سمیع192911
اینڈریو فلنٹوفک یونس ب دانش111420
گیرنٹ جونزب شعیب اختر337510
ایشلے جائلزب شعیب اختر142820
شان یوڈلب دانش کنیریا184220
میتھیو ہوگارڈناٹ آؤٹ0300
اسٹیو ہارمیسنک یونس ب شعیب اختر9520
فاضل رنزب 6، ل ب 1، ن ب 29   
مجموعہ‏52.4 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر175   
پاکستان (گیند بازی)اوورزمیڈنرنزوکٹیں
شعیب اختر12.41493
شبیر احمد100251
دانش کنیریا200624
محمد سمیع90312
شعیب ملک1010