[آج کا دن] تاریخی بنگلور ٹیسٹ، اقبال قاسم اور توصیف احمد کی یادیں

2 1,064

روایتی حریف پاکستان و ہندوستان کل ڈھاکہ میں آمنے سامنے ہوں گے اور دونوں ممالک میں کرکٹ کا جنون ایک مرتبہ پھر سر چڑھ کر بولنے لگا ہے۔ یہ عالمی کپ 2011ء کے سیمی فائنل میں ٹکراؤ کے بعد دونوں ٹیموں کا پہلا آمنا سامنا ہے لیکن اس مقابلے سے قطع نظر آج یعنی 17 مارچ وہ تاریخی دن ہے، جسے بلاشبہ پاکستان کرکٹ تاریخ کے سنہرے ترین ایام میں سے ایک قرار دیا جا سکتا ہے، یہ دن ہے سرزمینِ ہند پر پاکستان کی پہلی ٹیسٹ سیریز فتح کا۔ پاکستان نے 1987ء میں آج ہی کے روز آج ہی کے روز بنگلور کے میدان میں عظیم فتح حاصل کی تھی۔

عمران خان کی زیر قیادت پاکستانی دستہ پانچ ٹیسٹ میچز کی سیریز کے آخری میچ کے آخری روز یعنی آج کے دن گھر کے شیروں کو انہی سرزمین پر 16 رنز سے شکست دی۔ بھارت میں صف ماتم بچھی اور پاکستان میں خوشیوں کے شادیانے بجے اور ہر شادیانے کی دھن پاکستان کرکٹ بورڈ کے موجودہ چیف سلیکٹر اور ماضی کے عظیم اسپنر اقبال قاسم کے گن ہی گارہی تھی۔ پاکستانی تو پاکستانی خود ہندوستانی بھی یہ کہنے پر مجبور تھے کہ بنگلور ٹیسٹ کا ہیرو بلا شبہ اقبال قاسم ہے اور آج بھی جب اس یادگار مقابلے کا ذکر آتا ہے تو سب سے پہلے اقبال قاسم کا نام ذہن میں آتا ہے۔ آج سے 25 سال بعد بھی ہر جگہ ان کا استقبال 'بنگلور کے ہیرو' کی حیثیت سے کیا جاتا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے کرک نامہ نے اقبال قاسم اور ان کا بھرپور ساتھ دینے والے اسپنر توصیف احمد سے خصوصی گفتگو کی ہے تاکہ اس عظیم دن کی یادوں کو بھی تازہ کیا جائے اور ان دونوں کھلاڑیوں کو شایان شان خراج تحسین بھی پیش کیا جاسکے۔

اقبال قاسم

جی آج بھی وہ میچ میرے ذہن میں بالکل اسی طرح تروتازہ ہے جیسے میں ابھی پاکستانی ٹیم کو روایتی حریف بھارت کے خلاف ناقابل یقین فتح دلواکر میدان سے باہر آیا ہوں۔ میں درحقیقت بھارت جانے والے دستے میں شامل نہیں تھا بلکہ بعد میں ٹیم میں شمولیت اختیار کی۔ تیسرے اور چوتھے ٹیسٹ میں میری کارکردگی زیادہ متاثر کن نہیں تھی، جس وجہ سے مجھے پانچویں ٹیسٹ میں شاید شامل نہیں کیا جانا تھا جبکہ وکٹ بھی بظاہر فاسٹ بولرز کے لیے سازگار نظر آرہی تھی تاہم مدثر نذر اور جاوید میانداد نے عمران خان کو مشورہ دیا کہ یہ وکٹ اسپنرز کے لیے زیادہ سازگار ثابت ہوگی اور پھر ان کی کوششوں سے بالکل آخری لمحات میں میں اس ٹیم میں شامل کیا گیا۔ ان توقعات کے باعث مجھ پر اچھی کارکردگی پیش کرنے کا مزید دباؤ آ گیا۔ بھارتی اسپنر منندر سنگھ کی 27 رنز کے عوض 7 وکٹوں کی زبردست کارکردگی کے باعث ہماری ٹیم پہلی اننگز میں محض 116 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔ اب کیونکہ اُن کے اسپنر نے اچھی باؤلنگ کی تھی، اس لیے مجھ پر اور توصیف پر بھاری ذمہ داری عائد ہو گئی کہ ہم بھی کچھ ایسی ہی کارکردگی دہرائیں۔ ہم نے بھی اس ذمہ داری کو بخوبی انجام دیا اور 5، 5 بھارتی کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھاتے ہوئے بھارت کو 145 رنز کے مجموعے پر ڈھیر کردیا، جس وجہ سے وہ محض 29 رنز کی برتری ہی حاصل کر پایا۔ وہ وکٹ بلے بازوں کے لیے کسی بھی طور پر سازگار نہیں تھی تاہم دوسری اننگز میں ہمارے بلے بازوں نے قدرے بہتر کارکردگی دکھائی۔ مجھے بھی مڈل آرڈر میں کھیلنا پڑا، پاکستان نے دوسری اننگز میں 249 رنز اسکور کیے جس وجہ سے بھارت کو فتح کے لیے 220 رنز کا ہدف ملا۔ چوتھی اننگز تھی اس لیے ہم پر دباؤ بہت زیادہ بڑھ گیا کیونکہ ہدف کچھ زیادہ بڑا نہ تھا۔ 15 کے اسکور پر وسیم اکرم نے سری کانتھ اور امرناتھ کو آؤٹ کردیا۔ کرن مورے اور دلیپ وینگسارکر کو توصیف احمد نے پویلین واپس بھیجا۔ اظہر الدین اور سنیل گاوسکر کی شراکت خطرناک ہوتی جارہی تھی جسے اظہر کی وکٹ کی ساتھ میں نے ختم کیا۔ شاستری اور کپیل دیو کی وکٹیں بھی میں نے کھسکا کر بھارت کو پریشر میں لے لیا تاہم سنیل گاوسکر بدستور ہمارے لیے خطرہ بنے ہوئے تھے پھر کچھ نیوٹرل امپائرنگ نہ ہونے کے باعث بھی سپورٹ انہیں مل رہی تھی۔ تاہم رضوان الزمان نے میری گیند پر پر سنیل گاوسکر کا ناقابل یقین کیچ تھام نہ صرف گاوسکر کو نروس نائنٹیز میں جا لیا بلکہ ہمیں بھی میچ میں واپس لے آئے۔ آخری دو وکٹیں توصیف نے حاصل کیں اور یوں ہم یہ میچ 16 رنز سے جیت گئے جو تاریخ میں امر ہو گئے۔

کیونکہ اس زمانے میں شاید پاک بھارت اتنا دوستانہ نہیں تھا اس لیے وہ میچ انتہائی عصاب شکن اور سخت تناؤ کے ماحول میں کھیلا گیا تھا۔ بھارتی سرزمین پر ہمارا کوئی سپورٹر نہیں تھا، ان کے امپائروں اور شائقین کی جانب سے کوئی سپورٹ نہ تھی۔ ایسے میں پانچ میچز کی سیریز کے فیصلہ کن میچ کا دباؤ میں لفظوں میں بیان نہیں کرسکتا اور جب ہم یہ سیریز جیتے تو بس زبان پر اللہ کا ذکر و شکر رواں ہوگیا۔ آج بھی اس لازوال پرفارمنس پر میں ہمہ وقت اللہ کا شکر ادا کرتا رہتا ہوں جس نے مجھ سے ناقابل یقین کارکردگی دکھواکر پاکستان کو بھارتی سرزمین پر سیریز جتوائی۔

اقبال قاسم نے اس میچ کی پہلی اننگز میں 19 رنز اور 5 وکٹوں کی پرفارمنس دی جبکہ دوسری اننگز میں ان کے 26 قیمتی رنز اور بھارت کے چاروں ٹاپ کلاس بیٹسمینوں کی وکٹیں بلاشبہ ایک کارنامہ تھیں تاہم اس میچ میں کا مین آف دی میچ کا ایوارڈ بھارتی اوپنر سنیل گاوسکر کو دیا گیا جنہوں نے پہلی اننگز میں ایک اور دوسری اننگز میں 96 رنز بنائے۔ یہ گاوسکر کے ٹیسٹ کیریئر کا آخری مقابلہ تھا۔ اس حوالے سے اقبال قاسم سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اس میچ میں پاکستان کے لیے فتح گر کارکردگی دکھانا میرے لیے مین آف دی میچ کے ایوارڈ سے کہیں زیادہ اہم تھا اور وہ پرفارمنس ایسے وقت پیش کی جب پوری پاکستانی قوم کے ہاتھ فتح کے لیے بلند ہو رہے تھے۔ اس لیے میں اس کو زیادہ اہمیت نہیں دیتا کہ میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز کس کو ملا۔ اس زمانے میں نیوٹرل امپائروں کا بھی رواج نہیں تھا اس لیے مقامی امپائرز ہی یہ فریضہ انجام دیتے تھے جس وجہ سے کچھ فیصلے بھارت کے حق میں چلے گئے تاہم الحمد للہ میچ کا نتیجہ ہمارے حق میں رہا۔ اگر مین آف دی میچ کا ایوارڈ مجھے مل جاتا تو یقینی طور پر میری خوشی دگنی ہوجاتی لیکن پھر بھی کہوں گا کہ پاکستان کو میچ جتوانا اس اعزاز سے کہیں زیادہ اہم تھا۔

توصیف احمد

اس تاریخی مقابلے میں اقبال قاسم کا ساتھ دوسرے گیند باز توصیف احمد نے میچ میں 9 وکٹیں حاصل کر کے دیا۔ توصیف احمد نے اس میچ کے حوالے سے اپنی جو یادیں اور تحفظات بتائے وہ نذرِ قارئین ہیں۔

بھارت کے خلاف بھارت میں فتح یقینی طور پر ہر ٹیم کے لیے کسی خواب سے کم نہیں ہے اور آج بھی جب بنگلور ٹیسٹ کا ذکر آتا ہے مجھے وہی خوشی محسوس ہوتی ہے جو آج سے 25 سال قبل اس وقت محسوس ہورہی تھی جب ہم نے یہ یادگار فتح حاصل کی تھی۔ ہم اس میچ کی وکٹ صحیح طرح سمجھ نہیں سکے تھے اس لیے اس میچ میں اضافی فاسٹ بولر سلیم جعفر کو شامل کیا گیا جنہوں نے وہ پورا میچ ایک گیند پھینکے بغیر کھیلا۔ ہم پر اس میچ کی پہلی اننگز میں جلد آؤٹ ہونے کے بعد دباؤ بھی بہت زیادہ تھا کہ جلد سے جلد بھارتی ٹیم کو آؤٹ کیا جائے جسے میں نے اور اقبال قاسم نے ایک چیلنج سمجھ کر قبول کیا اور اللہ کا کرم ہے کہ ہم نے حریف ٹیم کو بھی زیادہ بڑا اسکور نہیں کرنے دیا۔

مجھے آج بھی یاد ہے کہ پاکستان کی دوسری اننگز میں میرے اور سلیم یوسف کے درمیان 49 رنز کی شراکت نے بھی پاکستان کے اسکور کو مستحکم کیا حالانکہ اس شراکت میں میرے رنز دس ہی تھے۔ لیکن وہ رفاقت بھی پاکستان کی فتح کا ایک اہم سبب تھی۔ ان دنوں ٹیسٹ میں آرام کا ایک دن ہوا کرتا تھا، تو ایک دعوت میں ہماری ملاقات سابق بھارتی اسپنر بشن سنگھ بیدی سے ہوگئی جس سے میں نے اور اقبال قاسم نے ان سے پوچھا کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے تو انہوں نے مشورہ دیا کہ کچھ زیادہ کرنے کی ضرورت نہیں وکٹ میں ٹرن تو ہے ہی بس آپ لوگ اپنی لائن و لینتھ پر قابو رکھیے گا اور ہم نے ویسا ہی کیا جس پر ہمیں تواتر سے وکٹیں ملتی رہیں ہم نے جب یہ بات بھارتی ذرائع ابلاغ کوبتائی تو وہاں کی عوام اور میڈیا بیدی کے خلاف ہوگیا لیکن انہوں نے سب کو یہ کہہ کر خاموش کروادیا کہ میں طویل عرصے سے بھارتی اسپنرز کو یہ مشورہ دے رہا ہوں انہوں نے تو اس کو سنا تک نہیں اگر اقبال اور توصیف نے میری پانچ منٹ کی ملاقات میں ایک بات پر عمل کردیا تو یقیناً وہ شاباش کے مستحق ہیں۔

ویسے اس میچ میں مجھ پر زیادہ دباؤ نہیں تھا کیونکہ میں پہلے سے ہی پاکستانی ٹیم میں شامل تھا تاہم اقبال قاسم پر بہت زیادہ پریشر تھا کیونکہ وہ بعد میں آکر ٹیم میں شامل ہوئے تھے اتفاق سے ہم دونوں کا کمرہ ایک ہی تھا اور ہم بنگلور ٹیسٹ کے ہر دن کے اختتام پر خود کو اپنے کمرے میں محصور کرلیتے تھے اور آپس میں مشورے کرتے رہتے تھے کہ ہمیں کیا کرنا ہے؟ ساری دنیا بالخصوص پورے پاکستان کی نگاہیں ہم پر تھیں، اس لیے شکست کی صورت میں سارا ملبہ بھی ہم پر ڈالا جا سکتا تھا۔ اس ٹیسٹ کے دوران اقبال قاسم، جو میرے سینئر بھی تھے، نے مجھے بہت زیادہ سپورٹ کیا اور مفید مشورے بھی دیئے ہمیں اس بات کا بھی احساس تھا کہ عموماً پاکستانی کھلاڑیوں کے کیریئر بھارتی دورے کے بعد اختتام پذیر ہوجاتے ہیں اس لیے دباؤ کی شدت بھی بڑھ گئی تھی تاہم اللہ کا شکر ہے کہ ایک اینڈ سے اقبال قاسم اور دوسرے اینڈ سے میں بھارتی بیٹسمینوں کو پویلین بھیجتے رہے ایک موقع پر جب سنیل گاوسکر اور اظہر الدین وکٹ پر جم رہے تھے ایسے میں اقبال قاسم نے اظہر الدین کو جس طرح اپنی ہی گیند پر کیچ آؤٹ کرکے پویلین واپس بھیجا وہ لمحہ ناقابل فراموش ہے۔ اس کے بعد جب انہوں نے سنیل گاوسکر کی اہم وکٹ گرائی تب ملنے والی خوشی کبھی لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا۔ بلا شبہ وہ میچ میری زندگی کا سب سے بڑا میچ تھا۔

مین آف دی میچ کا ایوارڈ سنیل گاوسکر کو دیئے جانے پر میں بالکل خوش نہیں ہوں کیونکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ سنیل ایک بڑا کھلاڑی ہے لیکن اس میچ میں اقبال قاسم نے جن سنسنی خیز لمحات میں پاکستان کو فتح دلوائی تھی اس پر بہترین کھلاڑی کا اعزاز اقبال قاسم کو ہی دیا جانا چاہیے تھا۔ سنیل گاوسکر کی کارکردگی میں بھارتی امپائرز کے جانبدارانہ فیصلوں کا بھی بہت بڑا ہاتھ تھا۔ گو کہ میچ منتظمین نے اقبال قاسم کی جرات مندانہ کارکردگی کو تسلیم نہیں کیا لیکن آج بھی پوری دنیا اقبال قاسم ہی کو بنگلور کا ہیرو سمجھتی ہے۔

تاریخی مقابلے کا اسکور کارڈ

بھارت بمقابلہ پاکستان

پانچواں ٹیسٹ

13 تا 17 مارچ 1987ء

ایم چناسوامی اسٹیڈیم، بنگلور، بھارت

نتیجہ: پاکستان 16 رنز سے فتح یاب

میچ کے بہترین کھلاڑی: سنیل گاوسکر (بھارت)

سیریز کے بہترین کھلاڑی: عمران خان (پاکستان)

پاکستان (پہلی اننگز)رنزگیندیںچوکےچھکے
رمیز راجہک وینگسارکر ب کپل222740
رضوان الزماںب کپل0100
سلیم ملکب منندر336050
جاوید میاندادک شاستری ب منندر73210
منظور الہیک اظہر ب منندر0300
عمران خانک امرناتھ ب منندر61910
وسیم اکرمب منندر0300
سلیم یوسفک و ب شاستری0800
اقبال قاسمب منندر192830
توصیف احمدناٹ آؤٹ157200
سلیم جعفرک وینگسارکر ب منندر85000
فاضل رنزب 2، ل ب 1، ن ب 36   
مجموعہ49.2 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر116   
بھارت (گیند بازی)اوورمیڈنرنزوکٹیں
کپل دیو112232
راجر بنی30250
مہندر امرناتھ3170
منندر سنگھ18.28277
روی شاستری111191
شیولعل یادیو30120
بھارت (پہلی اننگز) رنزگیندیںچوکےچھکے
سنیل گاوسکرب توصیف217320
کرس سری کانتب توصیف212940
مہندر امرناتھب توصیف137810
دلیپ وینگسارکرک منظور ب توصیف508471
محمد اظہر الدینک منظور ب اقبال قاسم63000
روی شاستریک سلیم ملک ب توصیف71510
کپل دیوک سلیم ملک ب اقبال قاسم91820
راجر بنیک توصیف ب اقبال قاسم12900
کرن مورےناٹ آؤٹ91301
شیولعل یادیوب اقبال قاسم0600
منندر سنگھک سلیم یوسف ب اقبال قاسم01000
فاضل رنزب 4، ل ب 48   
مجموعہ64 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر145   
پاکستان (گیند بازی)اوورمیڈنرنزوکٹیں
عمران خان50260
وسیم اکرم2090
اقبال قاسم3015485
توصیف احمد277545
پاکستان (دوسری اننگز) رنزگیندیںچوکےچھکے
رمیز راجہب یادیو479440
جاوید میاندادک سری کانت ب شاستری173720
رضوان الزماںب شاستری1900
سلیم ملکب کپل336240
اقبال قاسمک سری کانت ب یادیو264730
عمران خانک سری کانت ب شاستری3910030
منظور الہیک مورے ب منندر85301
وسیم اکرمایل بی ڈـلیو ب منندر111211
سلیم یوسفناٹ آؤٹ419040
توصیف احمدک یادیو ب شاستری106210
سلیم جعفرک گاوسکر ب منندر0500
فاضل رنزب 7، ل ب 8، ن ب 116   
مجموعہ94.5 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر249   
بھارت (گیند بازی)اوورزمیڈنرنزوکٹیں
کپل دیو122251
منندر سنگھ43.58993
روی شاستری243694
شیولعل یادیو153412
بھارت (ہدف: 221 رنز)رنزگیندیںچوکےچھکے
سنیل گاوسکرک رضوان ب اقبال قاسم9626480
کرس سری کانتایل بی ڈبلیو ب وسیم اکرم61600
مہندر امرناتھک سلیم یوسف ب وسیم اکرم0100
دلیپ وینگسارکرب توصیف196610
کرن مورےایل بی ڈبلیو ب توصیف32700
محمد اظہر الدینک و ب اقبال قاسم267530
روی شاستریک و ب اقبال قاسم42700
کپل دیوب اقبال قاسم21300
راجر بنیک سلیم یوسف ب توصیف154801
شیولعل یادیوب توصیف41010
منندر سنگھناٹ آؤٹ21600
فاضل رنزب 22، ل ب 527   
مجموعہ93.5 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر204   
پاکستان (گیند بازی)اوورزمیڈنرنزوکٹیں
وسیم اکرم113192
اقبال قاسم3711734
توصیف احمد45.512854