[ورلڈ ٹی ٹوئنٹی] ڈیرن سیمی 'دنیا بدل دے گا، ایک اوور میں'

1 546

جب مقابلہ محض ایک یا دو اوورز میں پلٹا کھائے اور بازی کا انحصار محض چند گیندوں پر ہو تو ہر ٹیم کو نچلے نمبروں پر ایک ایسے بلے باز کی ضرورت موجود رہتی ہے جو آہنی اعصاب کا حامل ہو اور گیند کو میدان کے ہر کونے میں پھینکنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہو اور ویسٹ انڈیز کے کپتان ڈیرن سیمی میں یہ صلاحیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔

ڈیرن سیمی کی زیر قیادت ویسٹ انڈیز اپنے اعزاز کے کامیاب دفاع کے لیے مکمل تیار نظر آتا ہے (تصویر: ICC)
ڈیرن سیمی کی زیر قیادت ویسٹ انڈیز اپنے اعزاز کے کامیاب دفاع کے لیے مکمل تیار نظر آتا ہے (تصویر: ICC)

گو کہ ویسٹ انڈیز کا موجودہ دستہ ماضی کی عظیم 'کالی آندھی' کا محض چھلاوہ ہی ہے لیکن اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ انفرادی صلاحیت کے اعتبار سے ویسٹ انڈیز کے کھلاڑیوں کا مقابلہ بہت کم ہی کرکٹرز کر سکتے ہیں۔ کرس گیل، کیرون پولارڈ، ڈیوین براوو اور ڈیرن سیمی جیسے آل راؤنڈر دنیا کی کس ٹیم کے پاس ہیں؟ اور یہی وجہ ہے کہ ویسٹ انڈیز اپنے اعزاز کے دفاع کے لیے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2014ء میں بہترین تیاری میں نظر آتا ہے اور انگلستان اور سری لنکا جیسی ٹیموں کو وارم اپ مقابلوں میں شکست دے کر اس نے ثابت بھی کردیا ہے کہ اسے کمزور حریف سمجھنے کی غلطی نہ کی جائے۔

ڈیرن سیمی ویسٹ انڈیز کی پوری بیٹنگ اور باؤلنگ لائن اپ کا اہم ترین پرزہ ہیں۔ قائدانہ فیصلوں سے لے کر آخری لمحات میں رن اوسط کو بلندیوں تک پہنچانے یا پھر عمدہ فیلڈنگ سے لے کر اہم اوورز پھینکنے تک ان کا کردار کافی لچکدار ہے۔

ڈیرن سیمی ویسٹ انڈیز کے ان خوش نصیب کپتانوں میں سے ہیں جنہیں کوئی عالمی اعزاز جیتنے کو ملا۔ ٹیم نے انہی کی زیر قیادت 2012ء میں سری لنکا کی سرزمین پر ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیتا تھا اور اب ایک مرتبہ پھر وہ اس اعزاز کے دفاع کے لیے بنگلہ دیش میں موجود ہیں۔

اگر اعدادوشمار پر نظر ڈالی جائے تو ہوسکتا ہے کہ شاید سیمی اتنے متاثر کن بلے باز نہ نظر آئیں لیکن اس امر کو ملحوظ خاطر رکھیں کہ وہ عموماً اس وقت میدان میں آتے ہیں جب محض چند اوورز باقی بچتے ہیں اور اس میں ان کا 136.09 کا اوسط ظاہر کرتا ہے کہ وہ آخری اوورز میں رنز لوٹنے میں کتنی مہارت رکھتے ہیں۔ ان کے کھیلے گئے آخری ٹی ٹوئنٹی مقابلوں ہی کو دیکھ لیجیے۔ سری لنکا کے خلاف گزشتہ روز کھیلے گئے وارم اپ مقابلے میں وہ محض 14 گیندوں پر دو چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے 30 ناقابل شکست رنز بنا کر لوٹے۔ انگلستان کے خلاف حالیہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کے دوسرے مقابلے میں انہوں نے 9 گیندوں پر 30 رنز داغ کر ویسٹ انڈیز کی فتح کو یقینی بنایا جبکہ اسی سیریز کے آخری میچ میں انہوں نے 6 گیندوں پر 15 رنز بنا کر ویسٹ انڈیز کو بچانے کی کوشش کی لیکن ٹیم مقابلہ صرف 5 رنز سے ہار گئی۔

دوسری جانب باؤلنگ میں سیمی کے اعدادوشمار شاندار ہیں۔ 47 ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں 22.12 کے بہترین اوسط کے ساتھ 40 وکٹیں۔ وہ ایک مرتبہ 5 وکٹیں بھی سمیٹ چکے ہیں اور 26 رنز دے کر حریف کی آدھی ٹیم کو ٹھکانے لگانا ان کی بہترین باؤلنگ ہے۔

اگر ویسٹ انڈیز اپنے ٹی ٹوئنٹی اعزاز کا کامیابی سے دفاع کرنے والی پہلی ٹیم بنتا ہے تو بلاشبہ اس میں سیمی کا کردار کلیدی ہوگا۔