راشد لطیف کو منانے کی مہم، نجم سیٹھی خود میدان میں

0 497

صاف گو اور بے باک راشد لطیف کا اہم عہدہ سنبھالنے سے انکار کا معاملہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے انا کا مسئلہ بن گیا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں بورڈ کی ساکھ کو سخت نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پی سی بی ہر قیمت پر راشد لطیف کو اپنے نظام کا حصہ بنانے کا خواہاں ہے اور اس مقصد کے لیے کوئی اور نہیں بلکہ خود چیئرمین نجم سیٹھی میدان میں آ رہے ہیں۔

نجم سیٹھی راشد لطیف کو چیئرمین سلیکشن کمیٹی کا عہدہ سنبھالنے پر راضی کرنے کی کوشش کریں گے (تصویر: AFP)
نجم سیٹھی راشد لطیف کو چیئرمین سلیکشن کمیٹی کا عہدہ سنبھالنے پر راضی کرنے کی کوشش کریں گے (تصویر: AFP)

چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی سوموار کو سابق کپتان و وکٹ کیپر راشد لطیف سے بذات خود ملاقات کرکے انہیں آمادہ کرنے کی آخری کوشش کریں گے کہ وہ قومی سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین کا عہدہ سنبھال لیں اور غالب امکان یہی ہے کہ بورڈ راشد لطیف کو منانے میں کامیاب ہوجائے گا۔

نجم سیٹھی اس وقت بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لیے دبئی میں موجود ہیں اور وطن واپسی کے ساتھ ہی وہ ایک، ایک کرکے تمام تصفیہ طلب معاملات کو نمٹانے کی کوشش کریں گے، جس میں پہلا مرحلہ جمعے کو 'بگ تھری' تجاویز کی حمایت پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو اعتماد میں لینا ہوگا اور اس کے بعد وہ سب سے بڑی مہم یعنی راشد لطیف کو منانے کے لیے نکلیں گے۔

لیکن اگر چیئرمین پی سی بی اس مہم میں ناکام ہوگئے تو کیا ہوگا؟ ذرائع کے مطابق امکان ہے کہ یہ عہدہ راشد لطیف کے پرانے رقیب معین خان کو دے دیا جائے گا۔ معین خان حالیہ ایشیا کپ اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی2014ء میں قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ کی ذمہ داریاں نبھانے کے بعد اب فارغ ہیں جبکہ بورڈ نے انہیں کچھ عرصہ قبل چیئرمین سلیکشن کمیٹی کے عہدے پر فائز بھی کیا تھا لیکن عدالت نے مداخلت کرتے ہوئے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا تھا ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ چیف سلیکٹر کا عہدہ ماضی میں وکٹ کیپر کے عہدے کے حصول کے لیے نبردآزما ان دونوں کھلاڑیوں میں سے کس کو ملتا ہے؟