یادِ ماضی عذاب ہے یارب!

0 1,173

پاکستان اور بھارت کے مابین کرکٹ تعلقات تقریباً 8 سال سے ٹوٹے ہوئے ہیں، 2007ء میں پاکستان کے دورۂ بھارت سے لے کر آج تک دونوں ملکوں نے آپس میں کوئی باہمی سیریز نہیں کھیلی۔ 2012ء کے اواخر میں کچھ برف پگھلی اور پاکستان نے بھارت کے دورے میں چند ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی مقابلے کھیلے۔ توقع تھی کہ تعلقات کی مکمل بحالی کی راہ اب ہموار ہوگی اور گزشتہ سال جب دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہوئے تو دونوں ممالک کے تماشائیوں پر تو شادی مرگ کی کیفیت ہی طاری ہوگئی۔ پچھلے 8 سالوں میں جہاں دونوں ممالک ایک مکمل سیریز بھی نہ کھیلے تھے، اگلے 8 سالوں میں 6 باہمی سیریز کے وعدے کیے گئے لیکن معاملہ پہلے ہی مرحلے کو عبور نہ کرسکا۔ گویا یہ رکاوٹوں والی ایک بڑی اور اہم دوڑ تھی جس میں دوڑنے والے نے آغاز تو بہت ہی تیز لیا لیکن پہلی ہی رکاوٹ پر منہ کے بل گرگیا۔

اب دنیائے کرکٹ کی سب سے بڑی رقابت کے پرستاروں کے لیے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ وہ ماضی کی یادوں کو کریدیں۔ پاک و ہند کے تعلقات کی طرح کھیل میں بھی دونوں کی تاریخ بہت ہی رنگین ہے۔ اس پر ایک نہیں بلکہ کئی کتابیں تک لکھی جا سکتی ہیں، اور لکھی بھی گئی ہیں۔ ویسے تو دونوں ممالک کے کھلاڑی بہت اچھے دوست شمار ہوتےہیں لیکن کبھی کبھار میدان میں صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے۔ بدقسمتی سے کھیل کا یہی تاریک پہلو زیادہ مقبول ہے۔

صفحہ نمبر 1 :
ماجد خان بمقابلہ کپل دیو – 1978ء
  • 1. ماجد خان بمقابلہ کپل دیو – 1978ء
  • 2. جاوید میانداد بمقابلہ کرن مورے – 1992ء
  • 3. عامر سہیل بمقابلہ وینکٹش پرساد – 1996ء
  • 4. شاہد آفریدی بمقابلہ گوتم گمبھیر – 2007ء
  • 5. کامران اکمل بمقابلہ گوتم گمبھیر – 2010ء
  • 6. شعیب اختر بمقابلہ ہربھجن سنگھ – 2010ء
  • 7. کامران اکمل بمقابلہ ایشانت شرما – 2012ء

1. ماجد خان بمقابلہ کپل دیو – 1978ء

یہ 19 سالہ کپل دیو کا محض دوسرا ٹیسٹ تھا۔ لاہور میں ہزاروں تماشائیوں نے آسمان سر پر اٹھا رکھا تھا جب بھارت صرف 199 رنز پر ڈھیر ہوگیا تھا۔ اب کپل کو پاکستان کی تاریخ کی عظیم ترین بیٹنگ لائن کا سامنا کرنا تھا جن میں ماجد خان، مدثر نذر، ظہیر عباس، آصف اقبال، جاوید میانداد، مشتاق محمد اور عمران خان شامل تھے۔ مدثر کی وکٹ تو جلد ہی کپل کو مل گئی لیکن اس کے بعد کچھ کر دکھانا ضروری تھا۔ ماجد خان کے خلاف انہوں نے ایک ہی لائن پکڑ لی کہ انہیں وکٹوں پر کوئی گیند نہیں پھینکنا تاکہ وہ رنز نہ بنا سکیں۔ ہر گیند ان کے قدموں پر ہی ماری گئی۔ تھوڑی دیر تو ماجد برداشت کرتے رہے لیکن مسلسل لیگ سائیڈ سے باہر گیندوں پر بالآخر بھڑک اٹھے۔ انہوں نے کپل دیو کو کھری کھری سنائیں اور اس کے بعد وکٹ اکھاڑ کر اسے لیگ سائیڈ پر کافی دیر لا کر دکھایا کہ وکٹ اِدھر نہیں ہے جو تم یہاں باؤلنگ کر رہے ہو بلکہ، وکٹ کو واپس اپنی جگہ پر لگاتے ہوئے کہا، یہاں ہے، یہاں باؤلنگ کرواتے ہیں۔ یہ پاکستان میں کرکٹ کی براہ راست نشریات کے ابتدائی ایام تھے اور اس منظر سے لاکھوں افراد محظوظ ہوئے۔ پاکستان نے بعد ازاں یہ مقابلہ ظہیر عباس کی شاندار ڈبل سنچری کی بدولت 8 وکٹوں سے جیتا۔

تبصرہ کیجیے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا