انگلستان کے 'پاکستانی'

0 1,196

کہنے کو تو پاکستان کا قومی کھیل ہاکی ہے لیکن کرکٹ میں عوام کی دلچسپی اور جوش و خروش دیکھیں تو یہی سمجھ آتی ہے کہ چاہے کاغذات میں قومی کھیل ہاکی ہی ہو لیکن عوامی کھیل کرکٹ ہی ہے۔ پاکستان کے گلی کوچوں سے نکلنے والے کھلاڑیوں نے نہ صرف وطن عزیز کو بلکہ دنیائے کرکٹ کو بھی کئی مایہ ناز کھلاڑی دیے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے عمران طاہر ہوں یا آسٹریلیا کے فواد احمد، یہ وہ کھلاڑی ہیں جو خالصتاً پاکستانی کرکٹ کلچر میں پلے بڑھے اور آج ایک بہت بڑے مقام پر موجود ہیں۔

اس وقت پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم انگلستان کے دورے پر ہے، جو اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ انگلستان اور پاکستان کا باہمی تعلقات نوآبادیاتی دور سے ہے کہ جب غیر منقسم ہندوستان عظیم برطانوی سلطنت کا حصہ تھا۔ آقا و غلام کا یہ باہمی تعلق ایک صدی تک قائم رہا یہاں تک کہ ہندوستان اس غلامی سے نکل گیا اور پاکستان و بھارت کی دو ریاستیں یہاں وجود میں آئیں۔ بدلتے وقت کے ساتھ یہ باہمی تعلق مختلف روپ اختیار کرتا گیا۔ پاکستان سے بیرون ملک جانے والوں کا پہلا بڑا مسکن وہی برطانیہ تھا جو کبھی ان کا حاکم تھا۔ آج لاکھوں پاکستانی اس ملک میں رہتے ہیں اور ہر شعبہ ہائے زندگی میں نمائندگی رکھتے ہیں جن میں کرکٹ بھی شامل ہے۔ آئیے آپ کو پانچ ایسے پاکستانی نژاد کھلاڑیوں سے ملاتے ہیں جو انگلستان کی قومی کرکٹ ٹیم تک پہنچے اور ہر سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

صفحہ نمبر 5 :
عثمان افضال
  • 1. عادل رشید
  • 2. معین علی
  • 3. اویس شاہ
  • 4. ساجد محمود
  • 5. عثمان افضال

5. عثمان افضال

بائیں ہاتھ سے بلے بازی کرنے والے عثمان افضال نے راولپنڈی میں جنم لیا۔ 235 فرسٹ کلاس میچ کھیلنے والے عثمان کا بین الاقوامی کیریئر صرف تین ٹیسٹ میچوں تک محدود رہا۔ ان تین مقابلوں میں انہوں نے ایک نصف سنچری بنائی، اور صرف ایک وکٹ لے سکے۔ اس کے بعد وہ قومی کرکٹ ٹیم میں جگہ نہ بناسکے۔ تاہم فرسٹ کلاس کرکٹ میں ان کا سب سے زیادہ اسکور ناقابلِ شکست 204 رنز ہے اور ان کی اوسط 39.15 رہی۔

تبصرہ کیجیے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا