سنجے مانجریکر سرفراز کے مدّاح نکلے

0 1,673

بھارت کے سابق بلے باز اور موجودہ تبصرہ کار سنجے مانجریکر سرفراز احمد کے مدّاح نکلے ہیں۔

معروف ویب سائٹ 'کرک انفو' نے 2017ء کے لیے بہترین کپتان کے ایوارڈ کے لیے فہرست جاری کی تھی۔ اس حوالے سے جب سنجے مانجریکر سے رائے لی گئی تو انہوں نے بھارت کے ویراٹ کوہلی، آسٹریلیا کے اسٹیون اسمتھ اور افغانستان کے اصغر ستانکزئی اور انگلینڈ کی ویمنز کپتان ہیدر نائٹ اور بھارتی قائد متھالی راج کے بجائے انتخاب کیا سرفراز احمد کا۔

اس کی وجہ بالکل سادہ ہے، 2017ء میں پاکستان سرفراز احمد کی قیادت میں چیمپیئنز ٹرافی جیتا تھا۔ سنجے مانجریکر کہتے ہیں کہ ویراٹ کوہلی کی صلاحیت میں کوئی شبہ نہیں، انہوں نے تن تنہا بھارت کو کئی فتوحات دلائیں۔ اسی طرح بھارت کی خاتون کپتان متھالی راج نے بھی بحیثیت قائد اور کھلاڑی بہت متاثر کیا لیکن سال کے بہترین کپتان کے لیے ان کا انتخاب سرفراز احمد ہی ہوں گے کیونکہ ان کی کہانی حیران کن ہے۔ چیمپیئنز ٹرافی میں پاکستان کو کوئي حریف ماننے کو تیار ہی نہیں تھا اور وہ بھارت کے خلاف پہلا مقابلہ بھی ہار گیا تھا۔ جب سب امیدیں دم توڑ گئیں، سخت دباؤ تھا تب پاکستان نے کم بیک کیا اور مسلسل فتوحات سمیٹتا ہوا فائنل تک پہنچا جہاں مضبوط روایتی حریف کو کھیل کے ہر شعبے میں ناکامی سے دوچار کیا۔ یہ سب ایک خواب کی طرح لگتا ہے اور اس کا کریڈٹ یقیناً سرفراز احمد کو جاتا ہے۔ انہوں نے نوجوان کھلاڑیوں میں جیت کی لگن پیدا کی ۔ انہوں نے کہا کہ "انگلینڈ میں وکٹیں مشکل اور حالات ناسازگار تھے لیکن سرفراز احمد نے نوجوانوں کے ذریعے کئي بڑے برج الٹے۔ اسی لیے میرا انتخاب تو سرفراز احمد ہی ہوں گے۔"

سرفراز احمد کی قیادت میں پاکستان نے 2017ء میں 13 ون ڈے میچز کھیلے اور 11 جیتے تھے۔ صرف چیمپیئنز ٹرافی ہی نہیں بلکہ اس کے بعد پاکستان نے سری لنکا کے خلاف سیریز میں پانچ-صفر سے کلین سویپ بھی کیا تھا۔ اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ سال 2017ء واقعی سرفراز کا سال تھا۔