بھارت سے عالمی مقابلوں کی میزبانی چھن جانے کا خدشہ

0 1,199

پچھلے کئی برسوں سے بھارت کئی بڑے عالمی ٹورنامنٹس کی میزبانی کے مزے لوٹ چکا ہے لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ آنے والے برسوں میں اسے کم از کم دو بڑے عالمی مقابلوں کی میزبانی سے ہاتھ دھونا پڑ سکتے ہیں۔ ان میں چیمپیئنز ٹرافی 2021ء کے علاوہ عالمی کپ 2023ء بھی شامل ہے۔

عالمی ٹورنامنٹ کی میزبانی چھن جانے کی اصل وجہ بھارتی حکومت کی سخت مزاجی ہے جس کی وجہ سے بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو مالی خسارے کا خدشہ ہے۔ جس طرح حکومت بھارت اور پاکستان کے درمیان کوئی مقابلہ ہونے نہیں دیتی، اور ہمیشہ اپنے 'ملکی مفادات' کو ترجیح دینے کی بات کرتی ہے، اسی طرح بھارتی حکومت آئی سی سی کو بھی کسی قسم کی کوئی رعایت دینے سے انکار کرچکی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق آئی سی سی کو ٹیکس کی مد میں چھوٹ نہ ملنے کی وجہ سے لگ بھگ 10 کروڑ ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ ان ہی خدشات کے باعث آئی سی سی بورڈ ڈائریکٹرز نے اپنی حالیہ میٹنگ میں منتظمین کو ہدایت کی ہے کہ اگر یہ مسائلہ حل نہیں ہوتا تو متبادل وینیوز کی تلاش شروع کر دیں۔

اگرچہ آئندہ چیمپئنز ٹرافی کے انعقاد میں ابھی تین سال باقی ہیں تاہم آئی سی سی بورڈ 2016ء میں بھارتی میزبانی کے حالات کا ڈسا ہوا ہے جس کے سبب آئی سی سی کو 2 سے 3 کروڑ ڈالر کم آمدنی ہوئی تھی۔

یہ تو سب جانتے ہیں کہ آئی سی سی کی سرگرمیوں کے ملکیتی حقوق "اسٹار انڈیا" کے پاس تھے۔ انہوں نے بھارتی حکومت کو 10 فیصد ٹیکس کی رقم کو آئی سی سی کی مجموعی آمدن سے منہا کر دی تھی۔ اب دو سال ہونے کو ہیں مگر آئی سی سی اور بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ آف انڈیا (بی سی سی آئی) کی متعدد یاددہانیوں کے باوجود بھارتی حکومت نے کوئی گنجائش پیدا نہیں کی۔

اب صورتحال یہ ہے کہ بھارتی حکومت مستقبل میں بھی آئی سی سی کو کوئی چھوٹ دینے کو تیار نظر نہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر بھارتی حکومت نے اپنے فیصلے پر نظر ثانی نہ کی تو آئی سی سی کو چیمپئنز ٹرافی اور عالمی کپ کی ممکنہ آمدن سے 10 کروڑ ڈالر سے زائد خسارے کا خدشہ لاحق ہے۔ اب چونکہ آئی سی سی کا کوئی بھی رکن اتنے بھاری نقصان کے حق میں نہیں کیونکہ یہی وہ آمدن ہے جو تمام شریک ممالک میں برابر تقسیم کی جاتی ہے۔

ان حالات میں آئی سی سی بورڈ نے بھارتی حکومت اور بی سی سی آئی کے جاری مذاکرات کی حمایت کا عندیہ دیا ہے۔ ساتھ ہی منتظم ادارے کو مذکورہ عالمی ٹورنامنٹ کے نئے ممکنہ میزبان کی تلاش کے کام پر شروع کر دیا ہے۔ آئی سی سی کی کوشش ہے کہ چیمپئنز ٹرافی کا انعقاد طے شدہ ٹائم فریم میں ہی ممکن بنانا جا سکے۔

آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، ڈیوڈ رچرڈسن و دیگر منتظمین نے انڈین ٹائم زون کے اندر ہی کسی دوسرے وینیو کی تلاش کا کہا ہے جو ممکنہ طور پر سری لنکا اور بنگلہ دیش ہو سکتے ہیں لیکن حتمی فیصلے میں ابھی وقت ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ چیمپئنز ٹرافی کی جگہ کا حتمی تعین 2019ء کے احتتام تک ضرور کر لیا جائے گا۔

کیا آپ کے خیال میں آئی سی سی ان عالمی مقابلوں کی میزبان کے لیے پاکستان کے نام پر غور کرسکتا ہے؟ اپنی رائے سے ہمیں ضرور آگاہ کیجیے۔