لاہور قلندرز، ٹکّر دینے کے لیے تیار

0 1,706

پاکستان سپر لیگ کے ابتدائی دونوں سال لاہور قلندرز کے لیے بہت بُرے گزرے ہیں۔ لیکن اس بار قلندرز مکمل طور پر تیار ہیں اور خوب ہوم ورک بھی کیا ہے۔ گزشتہ سیزنز میں قلندرز کے پاس بہت بڑے نام رہ چکے ہیں لیکن خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر پائے حالانکہ دنیا کے بہترین ٹی ٹوئنٹی پلیئرز ڈيوین براوو، کرس گیل اور برینڈن میک کولم ان کے پاس رہ چکے ہیں لیکن پھر بھی ٹیم پلے آف کے لیے بھی کوالیفائی نہ کرسکی۔

پی ایس ایل 2 کا جائزہ لیں تو پورے سیزن کا سب سے کم اسکور قلندرز نے بنایا جب انہوں نے صرف 59 رنز بنائے تھے۔ لیکن اس سال کہانی کچھ اور ہو سکتی ہے کیونکہ قلندرز نے اس سال ڈرافٹ میں بہت اچھے اور باصلاحیت کھلاڑیوں کو پک کیا ہے۔ پھر یہ بات تو ماننے کی ہے کہ قلندرز نے گراس روٹ لیول پر بھی بہت کام کیا ہے۔ 'رائزنگ اسٹارز' جیسے بڑے پروگرام کا انعقاد کرنا اور ان میں سے بہترین 15 کھلاڑیوں کو آسٹریلیا بھیجنا، 'ٹیلنٹ ہنٹ' کو کشمیر تک لے جانا اور وہاں پہلا ٹورنامنٹ کروانا ایک بہترین اور قابل تعریف عمل ہے۔ اس سے بھی اچھا یہ کہ کشمیر سے پہلا کھلاڑی ڈرافٹ میں حاصل کیا۔ سلمان ارشاد انہی ٹرائلز سے پک کیے گئے کھلاڑی ہیں۔ نوجوان فاسٹ باؤلر پہلے ہی سرخیوں میں آ گئی ہیں، چاہے 'رائزنگ اسٹارز' ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کی بات ہو یا آسٹریلیا میں کھیلے گئے ایونٹ کی۔ سلمان ایک بہترین باؤلر ثابت ہو سکتے ہیں، لیکن موقع ملے گا اور پرفارمنس بھی کر پاتے ہیں یا نہیں، یہ وقت بتائے گا۔

اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ لاہور قلندرز اس بار تجربے اور نئے خون دونوں سے مالامال ہیں۔ حال ہی میں وہ انڈر19 ورلڈ کپ میں شاندار پرفارمنس دینے والے شاہین آفریدی کو بھی حاصل کر چکے ہیں جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ لاہور نوجوانوں پر یقین اور اعتماد رکھتا ہے۔

اسکواڈ پر نظر ڈالیں تو بلے بازوں میں کیمرون ڈيلپورٹ، فخر زمان، برینڈن میک کولم، سہیل اختر، کرس لِن ہیں تیار ہیں تباہی مچانے کے لیے۔ لِن کے بارے میں گسی نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ شارجہ کی باؤنڈریز نہ کم پڑ جائیں۔ کیونکہ جس نے بھی لِن کو چھکے مارتے دیکھا ہے اسے بالکل اندازہ ہوگا کہ لِن کے لیے ایم سی جی کی باؤنڈریز کلیئر کرنا مسئلہ نہیں ہوتا تو شارجہ اور دبئی کیا چیز ہیں؟ دو وکٹ کیپرز بھی اسکواڈ میں ہیں عمر اکمل اور گلریز صدف۔ آل راؤنڈرز میں عامر یامین، بلال آصف،انتون ڈيوکچ ہیں۔ البتہ قلندرز کے لیے بڑا دھچکا بلاول بھٹی کازخمی ہونا ہے۔ بہرحال، اب آغا سلمان ان کی جگہ لیں گے۔

اس سال باؤلرز کے بہترین انتخاب میں اگر قلندرز کو نمبر ایک قرار دیا جائے تو بالکل غلط نہ ہوگا۔ ان کے تیز باؤلرز ، اور اسپنرز بھی ، کسی بھی ٹیم کو کم سے کم اسکور پر آؤٹ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سہیل خان، جو پچھلے سال کراچی کنگز کی طرف سے سب سے زيادہ وکٹیں لینے والے باؤلر تھے، اس سال قلندرز کے لیے خدمات انجام دیں گے۔ سنیل نرائن نے پچھلے دونوں سیزنز میں بھرپور پرفارم کیا ہے اور اس سال بھی قلندرز ان سے بہترین کارکردگی کے خواہاں ہیں۔ یاسر شاہ کی بات کی جائے تو وہ کسی بھی ٹیم کے لیے اثاثہ ہیں۔ ابھی حال ہی میں بگ بیش میں عمدہ کھیل پیش کرکے آئے ہیں، یقیناً ان کا کانفیڈنس لیول کہیں زیادہ ہوگا۔ پھر مچل میک کلیناگھن، شاہین آفریدی ہیں جو قلندرز کو کسی بھی وقت وکٹیں دلا سکتے ہیں۔ رضا حسن کی کہانی بھی ڈرامائی ہے۔ عاقب جاوید نے بتایا کہ رضا حسن مجھے پی سی بی کرکٹ اکیڈمی کے باہر ملے، جب ان سے پوچھا کہ کیا کر رہے ہو؟ تو کہنا لگے کرکٹ ڈھونڈ رہا ہوں۔ اس پر عاقب اسے اپنے ساتھ لے آئے اور قلندرز اکیڈمی میں گروم کیا اور کہا کہ اب صرف کرکٹ کھیلو، تمہیں وہی مقام دوبارہ دلائیں گے۔ اب اس سال یہ نوجوان اور باصلاحیت کھلاڑی پی ایس ایل کھیلنے جا رہا ہے، وہ بھی قلندرز کے ساتھ۔

کھلاڑیوں سے ہٹ کر سپورٹ اسٹاف کی بات کریں تو اس سال لاہور قلندرز نے پاکستان کرکٹ کے بہت بڑے ناموں کی خدمات حاصل کی ہیں جن میں چیف سلیکٹر انضمام الحق کو بیٹنگ کنسلٹنٹ بنایا گیا ہے۔ تاريخ کے تیز ترین باؤلر شعیب اختر بھی باؤلنگ مینٹور کے طور پر رکھا ہے جبکہ عاقب جاوید کو ہیڈ کوچ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

میرا اندازہ ہے کہ اس بار لاہور قلندرز کی کارکردگی بڑے بڑوں کو حیران کردے گی کیونکہ ان کا کمبی نیشن ایسا بن چکا ہے کہ وہ کسی کو بھی ہرا سکتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ گزشتہ دو سیزنز میں مداحوں کو سخت مایوس کرنے کے بعد اس سال قلندرز کہاں فنش کرتے ہیں؟ توقعات اور حوصلے بلند ہیں، امید ہے نتائج مختلف ہوں گے۔