ٹی ٹوئنٹی رینکنگ: وقت کم، مقابلہ سخت

0 564

دو ہفتے بھی نہیں گزرے کہ آسٹریلیا ٹی ٹوئنٹی کی عالمی درجہ بندی میں ساتویں نمبر پر تھا۔ لیکن یہاں مقابلہ کتنا سخت ہے؟ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اب آسٹریلیا نمبر ایک بننے کے قریب ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ ٹیسٹ اور ون ڈے کرکٹ پر حکمرانی کرنے والا آسٹریلیا کبھی ٹی ٹوئنٹی میں بڑی طاقت نہیں رہا۔ نہ اس نے کبھی کوئی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیتا اور نہ کبھی درجہ بندی میں نمبر ایک رہا، لیکن اب اس کے پاس سنہرا موقع ہے کہ اس ہدف کے مزید قریب پہنچ جائے۔

تاریخ کی پہلی ٹرائی اینگولر سیریز میں ناقابل شکست رہتے ہوئے آسٹریلیا فائنل تک پہنچ چکا ہے، جہاں کامیابی اسے پاکستان کے اور قریب لے آئے گی۔ اس وقت ٹی ٹوئنٹی کی عالمی درجہ بندی میں پاکستان نمبر ایک ہے جس نے حال ہی میں نیوزی لینڈ کو اس کے ملک میں شکست دے کر یہ مقام حاصل کیا ہے۔

اگر آسٹریلیا فائنل میں نیوزی لینڈ کو شکست دیتا ہے تو اس کے پوائنٹس پاکستان کے برابر یعنی 126 ہوجائیں گے۔ گو کہ اعشاریہ کے فرق سے پاکستان آگے رہے گا لیکن یہ معمولی برتری کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے۔

یہی نہیں بلکہ اس وقت بھارت اور جنوبی افریقہ بھی ٹی ٹوئنٹی سیریز کھیل رہے ہیں جہاں نتیجہ درجہ بندی میں تبدیلیاں لا سکتا ہےلیکن فکر نہ کریں، پاکستان کی نمبر ایک پوزیشن کو فی الحال کچھ عرصے کے لیے کسی سے خطرہ نہیں۔ چاہے بھارت جنوبی افریقہ کو تین-صفر سے بھی ہرا دے تو نمبر ون نہیں بن سکتا۔