[باؤنسرز] اکیسواں کھلاڑی!

0 1,281

پاکستان سپر لیگ کے تیسرے ایڈیشن کے لیے بہت سی تبدیلیاں کی گئی ہیں جس میں چھٹی ٹیم کا اضافہ سب سے اہم اور دلچسپ ہے کیونکہ چھٹی ٹیم کی آمد سے زیادہ جاندار مقابلوں کی توقع ہے۔ اب آخری مرحلے تک رسائی کے لیے پہلی چار پوزیشنز پر آنا کسی بھی ٹیم کے لیے آسان نہ ہوگا مگر اس سیزن کی سب سے دلچسپ تبدیلی ’’اکیسواں کھلاڑی‘‘ ہے جس نے ڈرافٹ کے بعد بھی دلچسپی کو برقرار رکھا اور کھلاڑیوں کی امیدیں بھی پھر سے زندہ ہوگئیں جو قومی ٹی20کپ میں پرفارمنس دینے کے بعد کسی حد تک مایوسی کا شکار ہوگئے تھے۔ ڈومیسٹک سیزن میں قومی ٹی20 کپ کی تاریخوں میں بار بار تبدیلیاں کھلاڑیوں کے لیے زہر قاتل ثابت ہوئیں۔ جب قومی ایونٹ کا آغاز ہوا تو اس سے اگلے دن نیشنل اکیڈمی میں پی ایس ایل ڈرافٹ کی تقریب نے ڈومیسٹک سطح پر کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ کھلاڑیوں کو مکمل طور پر مایوسی سے بچانے کے لیے ٹیموں کو اکیسویں کھلاڑی کی ’’آپشن‘‘ دی گئی اور دلچسپی کا نیا سامان پیدا ہوگیا۔

اب ایک نگاہ اُن کھلاڑیوں پر ڈال لیتے ہیں جنہیں پی سی بی کے اس فیصلے نے نئی لائف لائن دی ہے۔ان کھلاڑیوں میں سرفہرست نام ٹیسٹ اوپنر شان مسعود کا ہے جو پہلے دو ایڈیشنز میں پی ایس ایل کی کسی فرنچائز کا حصہ نہیں بن سکے تھا اور حسب توقع تیسرے ایڈیشن کے لیے بھی کسی ٹیم نے شان مسعود کو اسکواڈ میں شامل کرکے اپنی ’’شان‘‘ میں اضافہ نہیں کیا۔ دو سال سے زائد عرصے کے بعد پہلی مرتبہ ٹی20 کھیلنے والے شان مسعود نے قومی ٹی20کپ میں اپنے کیریئر کی پہلی سنچری اسکور کرکے ناقدین کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا اور پھر بائیں ہاتھ کے بیٹسمین نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ قومی سیزن کے دو ون ڈے ٹورنامنٹس میں رنز کے انبار لگاتے ہوئے شان مسعود نے کئی ریکارڈز اپنے نام کیے اور دنیا کے نامور بیٹسمینوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے لسٹ 'اے' کرکٹ میں سب سے زیادہ اوسط کے مالک بن بیٹھے۔ شان مسعود کو ٹی20 کپ میں عمدہ کارکردگی کا صلہ فوری طور پر ملتان سلطانز نے دیا اور اکیسویں کھلاڑی کے طور پر ان کی پی ایس ایل میں انٹری ہوگئی۔ شان مسعود کو منتخب کرکے ملتان سلطانز نے غلط فیصلہ نہیں کیا اور شان کی عمدہ فارم کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا شاید غلط نہیں کہ بائیں ہاتھ کا اوپنر دیگر بیس کھلاڑیوں سے زیادہ بہتر پرفارمنس دینے کی پوری اہلیت رکھتا ہے۔

دفاعی چیمپیئن پشاور زلمی سے پی ایس ایل ڈرافٹ میں جو غلطی ہوئی تھی اس کا فوری ازالہ اکیسویں کھلاڑی کی حیثیت سے خوش دل شاہ کو منتخب کرکے کیا، جو دوسرے سیزن میں بھی پشاور زلمی کے اسکواڈ کا حصہ تھے۔ بائیں ہاتھ سے جارحانہ بیٹنگ کرنے والے خوش دل کے لیے یہ قومی سیزن شاندار رہا ہے۔ انہوں نے تینوں فارمیٹس میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ٹی20 میں خوش دل نے نچلے نمبروں پر چند اچھی اننگز کھیلی ہیں جبکہ اسپن بالر نے زیادہ وکٹیں تو حاصل نہیں کیں مگر ٹی 20 کرکٹ میں چھ رنز سے کم اکانومی ریٹ خوش دل شاہ کو کفایتی بالر ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ حال ہی میں ختم ہونے والے ون ڈے کپ میں چار نصف سنچریاں اسکور کرنے والے خوش دل شاہ پشاور زلمی کے اسکواڈ میں ایک خوش کن اضافہ ہے جو اپنی کارکردگی سے دفاعی چیمپیئن کے لیے مفید ثابت ہوگا ۔

اکیسویں کھلاڑی کے طور پر لاہور قلندرز نے ’’سلو پوائزن‘‘ عمران خان جونیئر کے ساتھ تیز رفتار سلمان ارشاد کا انتخاب کیا جو بنیادی طور پر ٹیلنٹ ہنٹ سے سامنے آئے تھے اور تکنیکی طور پر قلندرز کے 20 ویں کھلاڑی ہیں۔ پاکستان کے لیے ٹی 20 کھیلنے عمران خان جونیئر کی رفتار اتنی کم ہے کہ کھبّے بالر کو ’’میڈیم فاسٹ‘‘ بھی نہیں کہا جاسکتا مگر ڈومیسٹک کرکٹ میں پشاور کے اس بالر کا سامنا کرنے والے بیٹسمین بہت حد تک خوف کا شکار رہتے ہیں کیونکہ دھیمی رفتار سے آنے والی عمران کی گیندیں اکثر اوقات بیٹسمینوں کو مخمصے کا شکار کردیتی ہیں۔

پی ایس ایل ڈرافٹ کے اختتام پر جب میں نے اسلام آباد یونائیٹڈ کی انتظامیہ سے ایک نوجوان کھلاڑی کو منتخب نہ کرنے پر سوال کیا تو جواب میں مایوسی تھی کہ اسلام آباد میں پیدا ہونے والا نوجوان وکٹ کیپر بدقسمتی سے فائنل اسکواڈ میں جگہ نہیں بنا سکا لیکن جیسے ہی اکیسویں کھلاڑی کی آپشن سامنے آئی تو اسلام آباد یونائیٹڈ نے روحیل نذیر کو منتخب کرنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگائی جو محض16برس کی عمر میں میدان کے چاروں اطراف زوردار اسٹروکس کھیلنے میں پوری مہارت رکھتے ہیں۔ وکٹوں کے عقب میں روحیل محفوظ دستانوں کے مالک بھی ہیں۔ جونیئر ورلڈ کپ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے روحیل نذیر کا مستقبل یقیناً تابناک ہے لیکن بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ پی ایس ایل کا تیسرا سیزن روحیل نذیر کو قومی ٹیم کے کافی قریب لاسکتا ہے اور میں بھی ان لوگوں میں شامل ہوں۔

کراچی کنگز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیموں نے اکیسویں کھلاڑی کے لیے ٹیلنٹ ہنٹ کا سہارا لیا اور چند ماہ پہلے تک گمنامی کے شکار دو نوجوانوں کو پی ایس ایل کا حصہ بنا دیا۔ سکھر سے اُبھرنے والے فاسٹ بالر مشتاق احمد سے اُن کوچز کو کافی امیدیں ہیں جنہوں نے اندرون سندھ ٹرائلز کے دوران کراچی کنگز کے لیے ان کا انتخاب کیا تھا۔ مشتاق کی رفتار کو ابھی تک کراچی کنگز کے کوچز نے ہی دیکھا ہے اور ٹیلنٹ ہنٹ سے سامنے آنے والا یہ نوجوان اگر واقعی باصلاحیت ہے تو پی ایس ایل کا آسمان اس کی پرواز کے لیے آئیڈیل ثابت ہوگا۔ اسی طرح کراچی کنگز نے ایمرجنگ کیٹیگری سے کھبّے اسپنر محمد طٰحہ کو منتخب کیا ہے جو نظروں کے سامنے نہیں رہا لیکن کراچی کنگز کے کوچنگ پینل کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر انہوں نے تجربہ کار کھلاڑیوں کی بجائے کسی کم عمر کھلاڑی کو منتخب کیا ہے تو پھر یقیناً اس میں اتنی صلاحیت بھی ہوگی کہ وہ پی ایس ایل میں اپنے کوچز کا سر فخر سے بلند کرسکے۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے اکیسویں کھلاڑی کے طور پر پندرہ سالہ مقامی آل راؤنڈر محمد جنید کو اسکواڈ میں شامل کیا ہے جو پی ایس ایل کا کم عمر ترین کھلاڑی بھی ہے۔ محمد جنید جونیئر ورلڈ کپ کے لیے بھی اسٹینڈ بائی کھلاڑیوں میں شامل تھا مگر یہ امید کی جاسکتی ہے کہ اگر گلیڈی ایٹرز نے ایک کم عمر کھلاڑی کو پاکستان سپر لیگ کا حصہ بنایا ہے تو پھر اس اکیسویں کھلاڑی سے بارہویں کھلاڑی کا کام نہیں لیا جائے گا۔

اکیسویں کھلاڑی کی آپشن نہایت اہم تھی اور تمام ٹیموں نے سوچ سمجھ کر اپنے اکیسویں کھلاڑی کا انتخاب کیا ہے مگر اس کا اندازہ آنے والے دنوں میں ہوگا کہ کس ٹیم کا اکیسواں کھلاڑی واقعی ٹیم کی مضبوطی میں اضافے کا سبب بنے گا اور کون سا کھلاڑی محض خانہ پری ثابت ہوگا!