پاکستان سپر لیگ، رنگارنگ تقریب کے ساتھ آغاز

0 437

پاکستان سپر لیگ کے تیسرے سیزن کا آغاز ایک بار پھر رنگارنگ تقریب کے ساتھ ہوا۔ رنگ و نور کے سیلاب کے ساتھ تماشائیوں کی بڑی تعداد اور ان کی تقریب میں محویت کو دیکھتے ہوئے اندازہ ہو رہا تھا کہ یہ سیزن ریکارڈ توڑ ثابت ہوگا۔

تقریب کا آغاز پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے قومی ترانوں کے ساتھ ہوا جس کے بعد گلوکار علی ظفر کی جاندار پرفارمنس پیش کی گئی جو رسیوں سے بندھے جھومتے ہوئے پورے میدان کے ہوائی چکر لگاتے رہے اور شائقین کا جوش جگاتے رہے۔ بعد ازاں معروف کمنٹیٹر رمیز راجہ نے مائیک سنبھالا اور ایک، ایک کرکے تمام ٹیموں کو میدان میں آنے کی دعوت دی۔ ٹیموں کا تعارف بھی ساتھ ساتھ چلتا رہا۔ ملتان سلطانز، اسلام آباد یونائیٹڈ، لاہور قلندرز، کراچی کنگز، پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز باری باری اپنے کپتانوں اور مالکان کے ساتھ میدان میں آتے رہے اور شائقین نے انہیں دل کھول کر داد دی۔ ایک طرف جہاں اتنے رنگ بکھرے ہوئے تھے وہیں کھلاڑیوں کی میدان میں آمد کے وقت ہیوی فوکس لائٹ نہ ہونے کی وجہ سے کھلاڑیوں کے چہرے زیادہ نمایاں نہیں ہوئے۔ بہرحال، تمام کپتانوں نے رمیز راجہ نے گفتگو کی اور اپنے عزم کو دہرایا کہ اس بار چیمپیئن وہی ہوں گے۔

پھر مائيک تقریب کی کمپیئرنگ جوڑی بلال اشرف اور حریم فاروق کے پاس آیا جنہوں نے پی ایس ایل کے روح رواں اور چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ نجم سیٹھی کو اسٹیج پر بلایا جنہوں نے اپنے خطاب میں تمام فرنچائز، منتظمین اور شائقین کا شکریہ ادا کیا اور اگلے ایڈیشن پاکستان میں لے جانے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے پی ایس ایل کو قومی اثاثہ قرار دیا اور کہا کہ ہم سب کو مل کر اس کی حفاظت کرنا ہوگی۔ یہاں معروف صوفی گلوکارہ عابدہ پروین کو دعوت دی گئی جنہوں نے میدان کے وسط میں بیٹھ کر اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ شہزاد رائے کی پرفارمنس کو بھی خوب سراہا گيا اور پھر امریکی گلوکار جیسن ڈیرولو نے پرفارمنس دی جو پچھلے سال کی طرح تقریب میں ایک غیر ضروری ٹچ تھا۔ تقریب کے آخر میں سیزن III کے آفیشل ترانے کے ساتھ علی ظفر آئے اور میدان میں ایک نیا جذبہ پیدا کردیا۔

پاکستان سپر لیگ میں پہلی اور آخری جھلک پاکستان کی نظر آنی چاہیے، جہاں عابدہ پروین کی آمد خوش آئند تھی، اس کے علاوہ تقریب مشرقی اور پاکستانی رنگ سے محروم نظر آئی اور یہی مسئلہ پچھلے سال بھی رہا تھا۔ بہرحال، اب سب کی نظریں مقابلوں پر ہیں اور اگلے چند ہفتے ایک سے بڑھ کر ایک مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔