شکست خوردہ زلمی کا وار، اسلام آباد کو کراری شکست

0 709

پشاور زلمی نے پہلے مقابلے کی شکست کو بہت زیادہ سنجیدہ لے لیا ہے اور اس کا اظہار اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف میچ میں کیا، جہاں 34 رنز سے ایک شاندار کامیابی حاصل کی۔

پاکستان سپر لیگ میں ایک، ایک بار ٹائٹل جیتنے والے دونوں ٹیموں کے لیے یہ میچ بہت اہم تھا کیونکہ زلمی اپنا پہلا مقابلہ ہار چکے تھے جبکہ یونائیٹڈ کا یہ پہلا میچ تھا اور وہ پہلا تاثرہی اچھا دینا چاہتا تھا لیکن مصباح الحق بغیر اسلام آباد میں وہ بات نظر نہیں آئی جو زخمی ہونے کی وجہ سے پہلا میچ نہیں کھیلے۔ ان کی عدم موجودگی میں قیادت نوجوان باؤلر رمّان رئیس کو دی گئی۔شاید وسیم اکرم کی کمی بھی محسوس ہوئی ہو جو گزشتہ دوسیزن اسلام آباد کے ساتھ رہے ہیں اور ان کی بدولت باؤلنگ اسلام آباد کی اہم ترین طاقت رہی ہے۔ البتہ اب بھی ان کے پاس وقار یونس جیسا نام ہے جوجلد ہی اس خامی پر قابو پانےکی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بہرحال، اس مقابلے میں پشاور زلمی نے رائٹ اور لیفٹ ہینڈڈ اوپنرز کے کمبی نیشن کے ذریعے جاندار آغاز لیا۔ تمیم اقبال اور کامران اکمل نے 69رنز کی شراکت داری قائم کی اور ایک بڑے مجموعے کی بنیاد ڈالی۔ پہلے مقابلے میں ناکام ہونے والے کامران اکمل نے تین چھکوں اور 7 چوکوں کی مدد سے صرف 32 گیندوں پر 53 رنز بنائے۔ سمیت پٹیل نے ان کے بڑھتے ہوئے قدموں کے آگے روک لگائی۔ آنے والے بیٹسمین ڈیوین اسمتھ اور تمیم اقبال نے ایک اور نصف سنچری شراکت داری جوڑی اور مجموعے کو 121 تک پہنچا دیا۔

اس وقت توقع تھی کہ پشاور زلمی کے قدم یونہی بڑھتے رہیں گے اور وہ 200 کے مجموعے کو جا لے گا۔ لیکن یہاں اسلام آباد یونائیٹڈ کے باؤلرز نے عمدہ کھیل کا مظاہرہ کیا اور تمیم اور اسمتھ کو بالترتیب 39 اور 30 رنز پر میدان بدر کیا۔ بعد ازاں کپتان ڈیرن سیمی اور محمد حفیظ فہیم اشرف کے شکار بنے۔ پھر بھی پشاور مقررہ اوورز میں 6 وکٹوںپر 176 رنز تک پہنچ گیا۔

یہ ایک بڑا ہدف تھا جس کے تعاقب میں اسلام آباد یونائیٹڈ پشاورکے دو نوجوان باؤلرز کے ہتھے چڑھ گیا۔ عمید آصف اور ابتسام شیخ نے اس اننگز کو اسلام آباد کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بنا دیا۔ حسن علی کی جگہ کھیلنے والے عمید نے اپنے پہلے ہی اوور میں اوپنرز لیوک رونکی اورچیڈوِک والٹن کو ٹھکانے لگایا اور پھر اگلے اوور میں حسین طلعت اور آصف علی کی بھی وکٹیں حاصل کرلیں۔افتخار احمد اور سمیت پٹیل نے اسکور کو 45 رنز تک پہنچایا لیکن کرس جارڈن نے اس شراکت داری کو بھی توڑ دیا۔ صرف 46 رنز پر اسلام آباد کے 5 کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے اور اسلام آباد اعصابی شکست کھا چکا تھا۔ جس کا پورا پورا فائدہ نوجوان ابتسام شیخ نے اٹھایا۔ کسی اسکول کے پڑھاکو طالب علم کی طرح چشمہ لگائے ننھے ابتسام نے بہت ہی عمدہ باؤلنگ کروائی، خاص طور پر جس طرح انہوں نے اپنی ہی گیند پر شاداب خان کا کیچ لیا، وہ قابل دید تھا۔ انہوں نےشاداب کے علاوہ آندرے رسل اور سمیت پٹیل جیسے آل راؤنڈرز کو بھی آؤٹ کیا۔

اسلام آباد کی طرف سے واحدقابل ذکر بیٹسمین فہیم اشرف تھے جو نویں نمبر پر بیٹنگ کرنے آئے تھے۔ ان کی 54 رنز کی ناٹ آؤٹ اننگز ہی تھی جس نے 73 رنز پر8 وکٹیں گنوانے والے یونائیٹڈکو 142 رنز تک پہنچایا اور آل آؤٹ بھی نہیں ہونے دیا۔ پھر بھی، 34 رنزکی شکست ایک بڑی ہار ہے جس کی تلافی اگلے مقابلوں میں کرنا ہوگی۔

عمید آصف کو چار اوورز میں صرف 23رنز دےکر چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنے پر میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز ملا جبکہ ابتسام شیخ نے 20 رنزدےکر تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کرکے سب کے دل جیتے۔

دفاعی چیمپیئن پشاور زلمی نے اس مقابلے کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ وہ پہلے میچ کی کارکردگی کو بھلا چکے ہیں اور اب ان کی نظریں اپنے اعزاز کے دفاع پر ہیں۔