فیلڈنگ: پی ایس ایل نے دنیا کی تمام لیگز کو پیچھے چھوڑ دیا

0 541

پاکستان سپر لیگ کے سیزن تھری کے ابھی ایک تہائی مقابلے بھی نہیں ہوئے اور خوب اندازہ ہو گیا ہے کہ ٹیمیں اب مربوط و منظّم ہونے لگی ہیں اور یہ بات عیاں ہے کہ پلے آف مرحلے تک اب تمام میچز میں تناؤ کا عالم بہت زیادہ ہو گا اور بہترین میچز دیکھنے کو ملیں گے۔ ویسے تو تمام ٹیموں نے ہر شعبے میں خوب مہارت کے جوہر دکھائے ہیں لیکن فیلڈنگ کے شعبے نے سب کو حیران کر دیا ہے حالانکہ یہ شعبہ ہمیشہ سے پاکستانیوں کی کمزوری بنا رہا ہے مگر نوجوانوں نے منظرنامہ ہی بدل دیا۔اسی لیے کرکٹ کے پنڈٹ پی ایس ایل کو فیلڈنگ کے معیار کے لحاظ سے آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ اور انڈین پریمیئر لیگ سے بہتر قرار دے رہے ہیں، بالخصوص گزشتہ چند میچز میں مشکل ترین کیچز نے تو دنیا بھر میں دھوم مچا دی ہے۔

بلاشبہ جدید کرکٹ میں فیلڈنگ کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اور شاید ہی کوئی ایسا کوچ ہو جو اپنے کھلاڑیوں کو فیلڈنگ میں جان مارنے کا سبق نہ دیتا ہو۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پی ایس ایل تھری میں ہمیں کئی ایسے مناظر آئے ہیں۔ جو ڈینلی اور چیڈوِک والٹن جیسے غیر ملکی کھلاڑیوں کے کیچز ایک طرف پاکستان کے کھلاڑیوں نے بھی جو کیچ تھامے ہیں وہ کسی سے کم نہیں۔ کراچی کنگز کے شاہد آفریدی کا باؤنڈری لائن پر لیا گیا کیچ ہو یا شاہین آفریدی اور عمر اکمل کا 'ریلے کیچ' انہوں نے نہ صرف شائقین کرکٹ کو خوش بلکہ حیران بھی کیا ہے۔ اگلے مقابلوں میں فیلڈنگ کا یہی معیار برقرار رہ پاتا ہے یا یہ صرف عارضی شے ہے، اس کے لیے ہمیں انتظار کرنا ہوگا لیکن تجزیہ بتا رہا ہے کہ اب تک سیزن میں پی ایس ایل میں کیچ پکڑنے کا رحجان 90 فیصد رہا ہے جو نہ صرف گزشتہ تمام ایڈیشنز سے، بلکہ دنیا کی کسی بھی لیگ سے زیادہ ہے۔

گزشتہ دو سال میں ہونے والی کسی بھی ٹی ٹوئنٹی لیگ میں سب سے زیادہ کیچ پکڑنے کی شرح ٹی ٹوئنٹی بلاسٹ 2017ء میں تھی کہ جہاں 88 فیصد کیچز پکڑے گئے۔ انڈین پریمیئر لیگ 2016ء میں 84 فیصد کیچز پکڑے گئے جبکہ بگ بیش کا تازہ ترین سیزن سب سے پیچھے رہا جہاں یہ شرح 78 فیصد تھی۔