ہیجان خیز مقابلہ، زخمی سیمی نے پشاور کو جتوا دیا

0 536

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے خلاف اہم مقابلے میں پشاور زلمی کو آخری پانچ اوورز میں صرف 35 رنز درکار تھے۔ بازی مکمل طور پر پشاور کے حق میں تھی جب کوئٹہ نے عمدہ باؤلنگ اور فیلڈنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاملہ دو اوورز میں 22 رنز تک پہنچا دیا۔ یہاں پر شبیر رحمٰن آؤٹ ہوئے تو پشاور کی پانچ وکٹیں گر چکی تھیں اور اسے باقی 9 گیندوں پر 17 رنز کی ضرورت تھی اور کریز پر نوجوان خالد عثمان موجود تھے۔ یہاں کپتان نے وہاب ریاض کو بھیجنے کے بجائے خود آنے کا فیصلہ کیا حالانکہ سیمی سے دوڑا بھی نہیں جا رہا تھا لیکن جیسے ہی انہیں انیسویں اوور کی آخری گیند پر اسٹرائیک ملی، ایک شاندار چھکے کے ذریعے میچ کوآخری اوور میں لے گئے۔ یہاں پشاور کو جیت کے لیے 10رنز کی ضرورت تھی۔ خالد نے ایک مرتبہ پھر قیمتی اسٹرائیک سیمی کے حوالے کی جنہوں نے ایک اور شاندار چھکا لگا کر مقابلے کا رخ ہی بدل دیا۔ چوتھی گیند فیصلہ کن ثابت ہوئی جس پر سیمی نے لانگ آف پر چوکا لگایا اور ساتھ ہی پشاور پانچ وکٹوں سے یہ میچ جیت گیا اور ڈیرن سیمی کو صرف 4 گیندوں پر فاتحانہ 16 رنز بنانے پر نہیں، بلکہ ان کی بہادری پر میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز ملا۔

ویسے پشاور کو جیتنے کے لیے 142 رنز کا معمولی ہدف ملا تھا جو محمد حفیظ اور تمیم اقبال کی 54 رنز کی شراکت داری کی وجہ سے صرف 35 رنز تک محدود رہ گیا۔ لیکن کوئٹہ کے باؤلرز کی عمدہ باؤلنگ اور فیلڈنگ نے اسے ایک سنسنی خيز مقابلہ بنا دیا یہاں تک کہ ڈیرن سیمی نے پشاور کا بیڑا پار لگایا۔

پشاور کے نمایاں ترین بلے باز تمیم اقبال تھے کہ جنہوں نے 38 گیندوںپر 36 رن بنائے۔ محمد حفیظ 29 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے اور یہ ان دونوں کا پے در پے آؤٹ ہو جانا تھا، جس نے میچ کو پھنسا دیا۔ ان کے علاوہ ڈیوین اسمتھ نے 14 گیندوں پر 23 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی تھی۔

قبل ازیں پشاور نے ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کا فیصلہ کیا تھا جو کافی حد تک درست ثابت ہوا۔ شین واٹسن قسمت کے بل بوتے پر 47 رنز بنانے میں تو کامیاب ہوگئےلیکن پشاور کے باؤلرز نے پاور پلے میں اور آخری اوور میں جس طرح رنز کو روکا، وہ فیصلہ کن مراحل تھے جن کی وجہ سے کوئٹہ 141 رنز تک محدود ہوا۔ واٹسن نے 32 گیندوں پر پانچ چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے 47 رنز بنائے۔ اس میں سے تین چھکے انہوں نے محمد اصغر کے ایک ہی اوور میں رسید کی۔ رائلی روسو نے 25 گیندوں پر 37 رنز کی اننگز کھیلی لیکن ٹیم کے دیگر تمام بیٹسمین ناکام ہوئے۔ اسد شفیق صرف 8 رنز بنانے کے آؤٹ ہوئے۔ عمر امین 11، کیون پیٹرسن 5، سرفراز احمد 17 اور محمد نواز صرف 3 رنز بنا سکے۔ پشاور کی جانب سے نوجوان سمین گل نے 20 رنز دے کر ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا اور سیمی ان سے کافی متاثر نظر آئے۔ عمید آصف، وہاب ریاض اور خود کپتان نے زخمی ہونے سے پہلے اپنے 2.4 اوورز میں دو، دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ ایک وکٹ خالد عثمان کو بھی ملی۔

اس مقابلے کے ساتھ پشاور نے پوائنٹس ٹیبل پر دلچسپ صورت حال پیدا کردی ہے، جہاں کراچی بدستور پہلے نمبر پر ہے جبکہ کوئٹہ، ملتان اور پشاور چار، چار پوائنٹس کے ساتھ بالترتیب اگلے تین نمبروں پر موجود ہیں۔ اسلام آباد صرف ایک مقابلہ جیتا ہے اور اس کے دو پوائنٹس ہیں جبکہ لاہور اب تک کسی بھی کامیابی سے محروم ہے۔

لیگ میں اب اگلے دو مقابلے بہت اہم ہیں، ایک تو سرفہرست کراچی کنگز اور ملتان سلطانز کا مقابلہ ہے، یعنی ان دو ٹیموں کا جن کی کارکردگی نے سب کو بہت متاثر کیا ہے۔ ساتھ ہی ٹیبل میں سب سے نیچے موجود لاہور قلندرز اور اسلام آباد یونائیٹڈ بھی مدمقابل آئیں گے۔ دیکھتے ہیں ان دونوں میں سے کون بلندی کی جانب جاتا ہے۔