رسل کا آخری گیند پر چھکا، قلندرز پھر ہار گئے

0 593

مسلسل تین شکستوں کے بعد لاہور قلندرز 122 رنز کا معمولی ہدف حاصل کرنے میں بھی ناکام نہیں رہے، بلکہ سپر اوور میں 15 رنز بنانے کے باوجود شکست کھا گئے۔ سپر اوور میں آندرے رسل نے آخری گیند پر چھکا لگا کر اسلام آباد کی کامیابی پر مہر ثبت کی اور یوں پی ایس ایل میں مسلسل دوسرا دن ایک سنسنی خیز مقابلے کے ساتھ مکمل ہوا۔

شارجہ والوں کے لیے ویک اینڈ بہت یادگار رہا۔ ایک تو بارش نے موسم سہانا کردیا لیکن ساتھ ہی دو ایسے میچز دیکھنے کو ملے جو مدتوں یاد رہیں گے۔ گزشتہ روز ڈیرن سیمی کے چھکے کا نشہ ہی ابھی دماغ سے نہیں اترا تھا کہ اسلام آباد یونائیٹڈ اور لاہور قلندرز کا مقابلہ آ گیا جس نے سنسنی خیزی کے غالباً اگلے پچھلے سارے ریکارڈز توڑ دیے ۔ اس سے قبل کراچی کنگز اور ملتان سلطانز کا مقابلہ تو مکمل طور پر بارش کی نذر ہو گیا اور خطرہ تھا کہ کہیں پوائنٹس ٹیبل پر سب سے نیچے موجود اسلام آباد اور لاہور میچ بھی زد میں نہ آ جائے لیکن قسمت کو جو منظور تھا وہ ہم نے بعد میں دیکھا ۔ یہ ایک لو-اسکورنگ تھرلر تھا ، بلکہ آخر میں تو پل میں تولہ، پل میں ماشہ بن گیا تھا۔

میچ میں لاہور نے ٹاس جیتا اور پہلے اسلام آباد کو بیٹنگ تھمائی، جس نے پہلے ہی اوور میں فخر زمان کے ہاتھوں اپنی وکٹ گنوائی ۔ جی ہاں! وکٹ اسپنرز کے اتنی مددگار تھی کہ پہلا اوور فخر زمان کو دیا گیا جو کامیاب بھی ہوا ۔ پھر اسلام آباد کے ٹاپ 5 بلے بازوں میں سے صرف جے پی دومنی ہی دہرے ہندسے میں پہنچے۔ لیوک رونکی صفر، صاحبزادہ فرحان 6، کپتا ن مصباح الحق 4 اور سمیت پٹیل صرف 9 رنز پر آؤٹ ہوئے ۔ مصباح آزاد کشمیر سےتعلق رکھنے والے قلندرز کے فاسٹ باؤلر سلمان ارشاد کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے ۔ یہ سلمان کا پہلا میچ تھا جس کی پہلی ہی گیند پر مصباح جیسی قیمتی وکٹ ملنے پر ان کا جشن دیکھنے کے قابل تھا ۔

بہرحال، 14 اوورز میں اسلام آباد کا اسکور 70 رنز تھا اور اس کی 6 وکٹیں گر چکی تھیں ۔ یہاں پر نوجوان حسین طلعت نے بہت عمدہ اننگز کھیلی۔ انہوں نے 21 گیندوں پر دو چھکوں کے ساتھ ناٹ آؤٹ 33 رنز بنائے اور اسلام آباد کا اسکور 121 رنز تک پہنچایا ، جو اسلام آباد کا حال دیکھتے ہوئے کافی رنز تھے لیکن پھر بھی ان کا دفاع کرنا مشکل کام تھا۔

لاہور نے 122 رنز کے ہدف کا تعاقب شروع کیا اور پہلے ہی اوور میں سمیت پٹیل کے ہاتھں عمر اکمل اور فخر زمان کی وکٹیں گنوائیں۔ عمر اکمل ہمیشہ کی طرح جاتے جاتے ریویو بھی ضائع کرگئی۔ یہاں پر برینڈن میک کولم اور آغا سلمان کی 73 رنز کی شراکت داری لاہور کو مقابلے میں واپس لے آئی، بلکہ اس کی کامیابی کو یقینی بنا دیا تھا۔ نوجوان آغا سلمان کی اننگز دیکھنے کے قابل تھی ، انہوں نے دو چھکوں اور 6 چوکوں کی مدد سے صرف 35 گیندوں پر 48 رنز بنائے۔ جب آغا سلمان کی وکٹ گری تو اسکور بارہویں اوور میں 77 رنز تھا اور مقابلہ لاہور کی بھرپور گرفت میں تھا۔ لیکن ان کی وکٹ گرتے ہی آہستہ آہستہ ہاتھ سے نکلنے لگا۔ آنے والے بلے بازوں میں سے کوئی بھی جم نہیں پایا۔ سب الٹے سیدھے شاٹس کھیل کر آؤٹ ہوئے یہاں تک کہ آخری تین اوورز کا کھیل رہ گیا جس میں لاہور کو جیت کے لیے 17 رنز کی ضرورت تھی۔ برینڈن میک کولم کریز پر موجود تھے اور وہی لاہور کی اکلوتی امید تھے۔

ان سنگین حالات میں بھی اسلام آباد کے کھلاڑیوں نے اپنے حواس پر قابو رکھا اور کھیل کے دونوں شعبوں میں کمالات دکھائے۔ ایک طرف باؤلنگ جاندار کی تو دوسری جانب فیلڈنگ میں بھی پیش پیش رہے یہاں تک کہ لاہور کے قدم اکھڑ گئے۔ پہلے آصف علی نے سہیل خان کا بہت عمدہ کیچ لیا اور پھر آخری اوور میں صاحبزادہ فرحان نے برینڈن میک کولم کو آؤٹ کرکے تہلکہ مچا دیا۔ کشمیری قلندر سہیل ارشاد کے ناقابل یقین چھکے نے میچ برابر تو کردیا لیکن اگلی ہی گیند پر ان کے آؤٹ ہونے سے مقابلہ سپر اوور میں چلا گیا ۔

سپر اوور میں جاندار مقابلہ دیکھنے کو ملا۔ برینڈن میک کولم نے اننگز کا آغاز ہی چھکے سے کیا لیکن وہ اگلی ہی گیند پر آؤٹ بھی ہوگئے۔ پھر محمد سمیع کی ایک گیند عمر اکمل کے بلّے سے لگ کر وکٹ کیپر کے اوپر سے چھکے کے لیے چلی گئی اور لاہور نے اوور میں 15 رنز بنا لیے۔

جواب میں اسلام آباد کو دوسری گیند پر اُس وقت چھکا مل گیا جب باؤنڈری لائن پر عمر اکمل اور برینڈن میک کولم کیچ نہ سنبھال سکے بلکہ چھ رنز بھی دے دیے۔ پھر آخری گیند پر جب تین رنز کی ضرورت تھی تو آندرے رسل نے چھکا مار دیا۔

لاہور کی شکست پر، خاص طور پر رانا فواد صاحب کو افسوس میں دیکھ کر ہر پاکستانی کو دکھ ہوا ہوگا لیکن لاہور کو ان کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں نے سبق سکھایا جو آخر تک پہنچتے پہنچتے بہت بڑی بن گئی تھیں۔ نتیجہ ایک اور شکست کی صورت میں نکلا ۔ اگر پچھلے سال کے آخری دو مقابلے بھی ملا لیں تو یہ پی ایس ایل میں قلندروں کی مسلسل چھٹی شکست ہے جو ٹیم میں کسی بہت بڑے مسئلے کو ظاہر کرتی ہے ۔ اگر ان پر فوری طور پر قابو پایا گیا تو لاہور اس سال بھی اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی نہیں کر پائے گا۔

ویسے دیکھنا یہ ہے کہ اب تک غیر متاثر کن کارکردگی دکھانے والے اسلام آباد یونائیٹڈ میں یہ کامیابی کس طرح نئی روح پھونکتی ہے؟