قلندروں کا ڈراؤنا خواب جاری، ایک اور بدترین شکست

0 445

پاکستان سپر لیگ میں تمام ٹیمیں جیتنے کے لیے میدان میں اترتی ہیں لیکن لگتا ہے قلندرز اپنے نام کی طرح کسی کا دل نہ دکھانے کے مشن پر ہیں۔ کیونکہ مسلسل پانچواں مقابلے ہار گئے ہیں اور اس بار تو اتنا برا ہارے ہیں کہ رواں سیزن میں پہلی بار کسی ٹیم نے 10 وکٹوں سے شکست کھائی ہے۔ پشاور زلمی کے خلاف مقابلے میں اس نتیجے میں حریف کی کارکردگی سے زیادہ بڑا کردار قلندروں کی اپنی جلدی بازی کا تھا۔

گزشتہ روز اسلام آباد یونائیٹڈ کے ہاتھوں مایوس کن شکست کے بعد اس بار برینڈن میک کولم نے ٹاس جیت کر پہلے خود بلے بازی کا فیصلہ کیا۔ ہمیشہ کی طرح ابتدائي اوورز تو شاندار رہے۔ چوتھے اوور میں ہی اسکور 42 رنز تک پہنچ چکا تھا۔ کپتان کے ساتھ نائب کپتان فخر زمان تھے جو اننگز کو بلندیوں کی جانب لے جا رہے تھے کہ اچانک وہی نہ رکنے والا ڈھلوان کا سفر شروع ہوگیا۔ صحت یاب ہونے کے بعد واپس آنے والے حسن علی نے میک کولم کی قیمتی وکٹ لی اور پھر لیام ڈاسن نے بھی پہلے مقابلے میں اپنے جوہر دکھا دیے جنہوں نے 30 رنز بنانے والے فخر زمان کو آؤٹ کیا اور اگلی ہی گیند پر دنیش رامدین کو بھی دبوچ لیا۔ عمر اکمل اپنے پرانے داغ دھونے کے لیے بہت محتاط ہو کر کھیل رہے تھے اور 15 رنز تک پہنچ بھی گئے تو قسمت نے ساتھ چھوڑ دیا اور وہ رن آؤٹ ہوگئے۔ باقی کسی بلے باز نے وکٹ پر کھڑے ہونے کی زحمت گوارا نہ کی۔ سنیل نرائن صرف 3 رنز بنانے کے بعد ٹورنامنٹ کی سب سے خوبصورت گیند پر کلین بولڈ ہوئے جب انہیں حسن علی نے آؤٹ کیا۔ سہیل خان 4، یاسر شاہ صفر اور سلمان ارشاد نے صرف 1 رن بنایا۔ لاہور قلندرز 18 ویں اوور میں رواں سیزن کے کم ترین اسکور 100 رنز پر ڈھیر ہوگئے۔

ابھی پچھلے ہی مقابلے میں تو کوئٹہ 102 پر آل آؤٹ ہوا تھا جو اس سیزن میں کسی بھی ٹیم کا سب سے چھوٹا اسکور تھا لیکن لاہور نے اس "ریکارڈ" کو توڑنے میں زیادہ دیر نہیں لگائی۔ پشاور کی طرف سے حسن علی اور ڈاسن نے تین، تین وکٹیں لیں جبکہ دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کرکے وہاب ریاض نے بھی اپنی مونچھوں کو تاؤ دیا۔

زلمی کے لیے اس ہدف کا تعاقب بھلا کیا مشکل تھا؟ تمیم اقبال اور کامران اکمل نے لاہور کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا پورا اہتمام کیا اور موجودہ سیزن کی سب سے بڑی اوپننگ شراکت داری قائم کرکے ٹیم کو 10 وکٹوں سے جتوا دیا۔ کامران نے دو چھکوں اور 7 چوکوں کی مدد سے 57 اور تمیم اقبال نے 37 رنز ناٹ آؤٹ بنائے۔

لیام ڈاسن کو قیمتی وکٹیں لینے پر میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز دیا گیا۔

ویسے اس مقابلے میں پشاور زلمی اپنے کپتان ڈیرن سیمی کے بغیر کھیلا تھا جو گزشتہ میچ میں زخمی ہوئے تھے لیکن اس کے باوجود اپنی ٹیم کو ایک یادگار کامیابی دلائی تھی۔ اب محمد حفیظ کی قیادت میں ملنے والی اس جیت کے بعد پشاور پوائنٹس ٹیبل پر چھ پوائنٹس کے ساتھ تیسرے نمبر پر آ گیا ہے۔ ٹیبل پر بدستور کراچی کنگز کا قبضہ ہے جس نے چار میچز میں 7 پوائنٹس حاصل کیے ہیں۔ ملتان کے بھی اتنے ہی پوائنٹس ہیں لیکن اس کا نیٹ رن ریٹ کم ہے اور یہ کہ اس نے یہ پوائنٹس پانچ میچز میں لیے ہیں۔