پی ایس ایل دنیا کی دوسری سب سے بڑی لیگ بن سکتی ہے: تمیم اقبال

0 631

پاکستان سپر لیگ کا تیسرا سیزن اپنا نصف مرحلہ طے کر چکا ہے اور اب ہر مقابلہ اعصاب شکن ہوگا اور اہم بھی کیونکہ اب سب کو پڑی ہوگی کوالیفائرز تک پہنچنے کی۔ اس بار یہ مقابلے زیادہ دلچسپ اس لیے ہوں گے کیونکہ اب دو ٹیمیں باہر ہوں گی۔ اس لیے سب کی کوشش ہے کہ اپنی پوزیشن کو مستحکم بنائیں اور اگلے مرحلے تک پہنچنے والی چار ٹیموں میں شامل ہو جائیں۔ پانچ، پانچ میچز کے بعد اس وقت ملتان سلطانز پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست ہے جبکہ کراچی کنگز اور پشاور زلمی بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر موجود ہیں۔

دفاعی چیمپیئن ہونے کے ناتے پشاور زلمی کی بھرپور کوشش ہے کہ گزشتہ سال کی تاریخ دہرائے اور نئی ٹرافی بھی اس کے گھر ہی آئے۔ ابتدائی تین میں سے دو مقابلوں میں شکست کے بعد زلمی کو ٹاپ تھری میں پہنچانے میں ایک اہم کردار تمیم اقبال کا بھی رہا ہے جو بلاشبہ اب تک سیزن کے بہترین کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں۔ لیکن اب وہ نصف مقابلے کھیلنے کے بعد ملکی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے وطن واپس جا چکے ہیں یعنی اب وہ زلمی کے لیے مزید خدمات انجام نہیں دے پائیں گے۔ کپتان ڈیرن سیمی کے زخمی ہونے کے بعد زلمی کے لیے یہ کسی دھچکے سے کم نہیں البتہ یہ غیر متوقع نہیں ہے۔ اس کا پہلے ہی اعلان کیا جاچکا تھا کہ تمیم اقبال اور دیگر بنگلہ دیشی کھلاڑی نصف سیزن ہی کھیلیں گے۔

تمیم اقبال منگل سے سری لنکا میں شروع ہونے والے سہ فریقی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں شرکت کریں گے جہاں بنگلہ دیش کا مقابلہ سری لنکا اور بھارت سے ہوگا۔ یہ ٹورنامنٹ 6 مارچ سے شروع ہوکر 18 مارچ کو فائنل کے ساتھ اختتام پذیر ہوگا یعنی اسی دن جس روز پہلا کوالیفائر دبئی میں کھیلا جائے گا۔ اگر پشاور زلمی اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کر لیتا ہے تو یہ نہیں معلوم کہ تمیم اقبال دستیاب ہوں گے یا نہیں۔ بہرحال، ان کی دوبارہ پی ایس ایل میں شرکت بہت مشکل لگتی ہے کیونکہ پہلا پی ایس ایل ایلی منیٹر 20 اور دوسرا 21 مارچ کو لاہور میں ہوگا جبکہ فائنل 25 مارچ کو کراچی میں کھیلا جائے گا۔

تمیم اقبال نے وطن واپسی سے قبل پاکستان سپر لیگ کے معیار کو شاندار قرار دیا اور کھل کر تعریف کی۔ انہوں نے لیگ کے تینوں سیزنز کا حصہ بننے پر خود کو خوش قسمت اور پشاور زلمی کو بہترین فرنچائز قرار قرار دیتے ہوئے اس کا حصہ ہونے پر فخر کا اظہار کیا۔

28 سالہ بنگلہ دیشی بلے باز نے پی ایس ایل کے لیے شاندار الفاظ ادا کیے اور کہا کہ یہ دنیا کی تمام بڑی لیگز کی ہم پلّہ ہے، بلکہ کئی لحاظ سے ان سے بہتر بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں مستقبل میں بھی پی ایس ایل میں شرکت کو ترجیح دوں گا کیونکہ یہ دنیا کی دوسری سب سے بڑی لیگ بننے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔