لاہور کی مسلسل تیسری کامیابی

0 936

پاکستان سپر لیگ میں جہاں لاہور قلندرز کی شکستوں کا سلسلہ جاری تھا، اب فتوحات رکنے میں نہیں آ رہی ہیں۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز جیسی مضبوط ٹیم کو 17 رنز سے شکست دے کر لاہور نے مسلسل تیسری کامیابی سمیٹ لی ہے اور اسے اگر اپ سیٹ کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا۔ فخر زمان کی دلکش بیٹنگ کے بعد لاہور کی اسپن جوڑی کی باؤلنگ کے سامنے کوئٹہ کی ایک نہ چلی یہاں تک کہ اس نے ٹاپ پر آنے کا موقع ہی گنوا دیا۔ فخر تیسرے سیزن کی پہلی سنچری کے بہت قریب پہنچے، لیکن چھکے کے ذریعے اس سنگ میل کو عبور کرنے کی کوشش میں آؤٹ ہوگئے۔

دبئی میں کھیلے گئے مقابلے میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کپتان سرفراز احمد نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا جو یقیناً غلط ثابت ہوا۔ لاہور قلندرز کی جانب سے فخرزمان اور انتون ڈیوسچ نے 43 رنز کی اوپننگ شراکت داری قائم کی مگر راحت علی نے ڈیوسچ کو آؤٹ کر کے ان کی پیشرفت کا خاتمہ کردیا۔ اس دوران 18 کے انفرادی اسکور پر فخر زمان کا کیچ بھی چھوٹ گیا جو کوئٹہ کو بہت مہنگا پڑا۔ فخر کسی کو دباؤ میں نہیں لائے، یہاں تک کہ دوسرے اینڈ سے وکٹیں گرنے پر بھی ان کے کھیلنے کے انداز میں کوئی تبدیلی نہیں آئے۔ اپنے خوبصورت چھکوں اور چوکوں کے جلوے گاہے بگاہے دکھاتے رہے یہاں تک کہ ہم سیزن میں پہلی بار کسی سنچری کو بنتا دیکھنے ہی والے تھے کہ فخر آؤٹ ہوگئے۔ 141 کے مجموعے پر فخر کی صورت میں لاہور کی چوتھی، اور آخری وکٹ، گری۔ فخر زمان نے 6 چھکوں اور 9 چوکوں کی مدد سے صرف 50 گیندوں پر 94 رنز بنائے۔ جو کسر رہ گئی تھی وہ گلریز صدف اور سنیل نرائن نے پوری کردی۔ مقررہ 20 اوورز کی تکمیل پر لاہور 4 وکٹوں پر 186 رنز بنانے میں کامیاب ہوا جس میں گلریز کے 27 گیندوں پر 42 رنز کے علاوہ سنیل نرائن کے ناٹ آؤٹ 20 رنز بھی شامل تھے۔ کوئٹہ کے باؤلرز کا حال شین واٹسن اور راحت علی سے ہی عیاں ہے جن کے 8 اوورز میں 101 رنز پڑے۔

بڑے ہدف کے تعاقب میں کوئٹہ کا آغاز تو اچھا تھا جس نے اس بار شین واٹسن کے ساتھ پہلا مقابلہ کھیلنے والے جیسن روئے کو بھیجا تھا۔ دونوں نے پانچ اوورز 52 رنز بنا کر چوتھائی فاصلہ تو طے کردیا لیکن شین واٹسن، شاہین آفریدی کا پہلا شکار بن گئے۔ اگلے اوور میں سنیل نرائن نے جیسن روئے کو وکٹ چھوڑنے پر مجبور کردیا جو 26 گیندوں پر 36 رنز بنا کر میدان سے واپس آ گئے۔

اب تمام امیدیں کیون پیٹرسن سے تھیں۔ انہوں نے نرائن کو ایک بہت ہی طویل چھکا لگا کر اپنے ارادوں کو ظاہر بھی کیا لیکن اگلی ہی گیند پر کلین بولڈ بھی ہوگئے۔ دراصل ان دونوں گیندوں کے درمیان امپائر ٹم رابنسن ران کا پٹھا کھنچ جانے کی وجہ سے میدان سے باہر چلے گئے تھے اور نئے امپائر کی آمد تک کافی منٹ کھیل رکا رہا۔ اس لیے شاید درمیان میں پیٹرسن کی توجہ ہٹ گئی اور جب اگلی گیند آئی تو وہ اسے کٹ نہ کر سکے اور بری طرح بولڈ ہوئے۔

بہرحال، 12 اوورز میں مکمل ہونے تک رمیز راجہ اور انور علی بھی آؤٹ ہو چکے تھے اور اسکور تھا 92 رنز۔ یہاں پر آخری 8 اوورز میں 95 رنز کی ضرورت تھی جب رائلی روسو نے مزاحمت کا علم بلند کیا۔ وہ ایک مرتبہ آؤٹ بھی ہوئے تھے لیکن ریویو کی وجہ سے بچ گئے۔ ان کی 42 رنز کی اننگز اور آگے جاتی اگر وہ مچل میک کلیناگھن کی ایک گیند کو وکٹوں میں نہ کھیل بیٹھتے۔ روسو نے 22 گیندوں پر پانچ شاندار چھکوں کی مدد سے 42 رنز بنائے۔ اس کے بعد مقابلہ کوئٹہ کے ہاتھ سے نکل گیا گو کہ کپتان سرفراز احمد کریز پر موجود تھے۔ لیکن وہ اور محمد نواز کچھ نہ کر سکے یہاں تک کہ 20 اوورز مکمل ہوئے اور اسکور 169 رنز تک ہی پہنچ پایا۔

اس شکست کے باوجود کوئٹہ پوائنٹس ٹیبل پر دوسرے نمبر پر ہے جس کے 9 میچز میں 10 پوائنٹس ہیں جبکہ اسلام آباد 8 مقابلوں میں 12 پوائنٹس کے ساتھ سب سے آگے ہے۔