کامران اکمل چھا گئے، پشاور زلمی پلے-آف میں

0 566

پشاور زلمی نے "مارو یا مر جاؤ" کی صورت حال میں لاہور قلندرز کو 7 وکٹوں سے شکست دے کر پلے-آف مرحلے کے لیے کوالیفائی کرلیا ہے۔ اس شاندار کامیابی کا سہرا کامران اکمل کی اس اننگز کو جاتا ہے جس نے پاکستان سپر لیگ کی تاریخ میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ "کامی" نے ایک تو موجودہ سیزن کی اولین سنچری بنائی ہے، اس کے علاوہ وہ موجودہ سیزن ہی نہیں بلکہ پی ایس ایل کی تاریخ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز بھی بن گئے۔ ان کی طوفانی اننگز نے ہی ممکن بنایا کہ پشاور زلمی ایک بڑا ہدف صرف تین وکٹوں کے نقصان پر اور دو اوورز پہلے ہی عبور کرلے۔

شارجہ میں ہونے والے اس مقابلے میں برینڈن میک کولم کے لاہور قلندرز نے پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا لیکن جلد ہی نائب کپتان اور کپتان کا بڑا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ یعنی فخر زمان اور برینڈن میک کولم، جو دونوں دہرے ہندسے میں بھی نہیں پہنچے۔ البتہ ایک اینڈ سے انتون ڈیوسچ ڈٹے رہے۔ ان کا ساتھ دینے آغا سلمان میدان میں اترے اور دونوں نے عمدہ کھیل پیش کرتے ہوئے مجموعے کو 95 رنز تک پہنچا دیا۔ اس سے پہلے کہ آغا سلمان مزید خطرناک روپ دھارتے وہاب ریاض نے انہیں 28 رنز پر ہی دبوچ لیا۔ ڈیوسچ نے جارحانہ کھیل جاری رکھا اور 7 شاندار چھکوں کی مدد سے 42 گیندوں پر 70 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ ان کی پیش قدمی روکی حسن علی نے، ورنہ شاید پی ایس ایل کی پہلی سنچری ڈیوسچ بنا ڈالتے۔ 119 رنز پر چار وکٹیں گرنے کے بعد گلریز صدف اور سہیل اختر نے بیڑا سنبھالا اور مقررہ اوورز کے اختتام تک مجموعے کو 172 تک پہنچا دیا۔ گلریز نے 26 جبکہ سہیل اختر نے صرف 16 گیندوں پر 30 رنز بنائے۔

173 رنز ایک بڑا ہدف تھا اور پشاور کے لیے اس مقابلے میں کامیابی بھی ضروری تھی، یعنی دوگنا دباؤ تھا۔ اس مرحلے پر کامران اکمل نے 'ون مین آرمی' کا کردار ادا کیا اور تن تنہا اس مشکل کو ایک معمولی ہدف بنا دیا۔ گو کہ رکی ویسلز 4 رنز پر ہی آؤٹ ہوگئے اور ون ڈاؤن آنے والے ڈیوین اسمتھ بھی 13 رنز کے مہمان ثابت ہوئے لیکن کامران کا حوصلہ نہیں ٹوٹا۔ البتہ محمد حفیظ کے ساتھ مل کر انہوں نے اسکور کو 148 رنز تک پہنچا دیا جس میں حفیظ کا حصہ صرف 27 رنز کا تھا۔ کامران کسی باؤلر کو خاطر میں نہیں لائے، سب کی یکساں درگت بنائی۔ کوئی غیر ذمہ دارانہ شاٹ کھیلے بنا انہوں نے 61 گیندوں پر 107 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی جس میں 7 چھکے اور 11 چوکے شامل تھے۔ پشاور زلمی نے یہ ہدف دو اوورز قبل ہی حاصل کرلیا۔

کامران اکمل نے گزشتہ سیزن میں بھی ایک سنچری بنائی تھی اور بعد میں پشاور زلمی چیمپیئن بنا تھا، کہیں یہ سنچری بھی پشاور کے لیے نیک شگون تو نہیں؟ بہرحال، جیسی گیند بازوں کامران نے کی ہے، انہوں نے تمام ٹیموں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔