پیٹرسن نے پاکستان نہ آنے کی وجہ بتا دی

0 896

پاکستان سپر لیگ کے حتمی مرحلے کے لیے وطن عزیز میں تیاریاں اپنے عروج پر ہیں۔ ایک طرف جہاں لاہور دونوں ایلی منیٹرز کے لیے تیار ہے تو دوسری جانب کراچی کا نیشنل اسٹیڈیم بھی 9 سال بعد اہم ترین فائنل کے شرکاء کے لیے اپنی بانہیں کھولے کھڑا ہے۔ لیکن عین اسی وقت پاکستانی شائقین کو ایک نئی مایوسی کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ گزشتہ سال کی طرح اس بار بھی چند کھلاڑیوں نے پاکستان آنے سے انکار کردیا ہے، جیسا کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کیون پیٹرسن۔

پی ایس ایل کے ساتھ ہی ہر سطح کی کرکٹ کو خیرباد کہہ دینے والے "کے پی" تین سال سے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی نمائندگی کر رہے ہیں اور پچھلے سال بھی لاہور میں ہونے والے فائنل میں نہیں کھیلے تھے۔ اس بار بھی انہوں نے سیزن کے آغاز ہی میں کہہ دیا تھا کہ وہ پاکستان نہيں آئیں گے۔ اب کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری ہونے والی ایک وڈیو میں انہوں نے شائقین کرکٹ سے معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان کے فیصلے کا احترام کریں۔ "میں معذرت خواہ ہوں کہ مجھے دبئی چھوڑ کر لندن واپس جانا پڑ رہا ہے۔ میری خواہش تھی کہ میں پاکستان کا دورہ کرتا، لیکن بدقسمتی سے یہ میرے اہل خانہ کا فیصلہ ہے اور میرے لیے میرا خاندان بہت اہم ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ میرے اور میرے اہل خانہ کے فیصلے کا احترام کریں گے۔"

37 سالہ کیون پیٹرسن کی سیزن میں ناکامی کے باوجود کوئٹہ گلیڈی ایٹرز عمدہ کارکردگی دکھاتے ہوئے اگلے مرحلے تک گیا ہے۔ وہ لاہور میں ہونے والے پہلے ایلی منیٹر میں پشاور زلمی کا مقابلہ کرے گا جہاں کامیابی کی صورت میں وہ دوسرے ایلی منیٹر تک پہنچ سکتا ہے، جہاں اس کا مقابلہ کوالیفائر کی شکست خوردہ ٹیم سے ہوگا، یعنی کراچی یا اسلام آباد میں سے کسی ایک سے۔ کیون پیٹرسن نے کہا کہ "ہمارے پاس پی ایس ایل جیتنے کا موقع ہے۔ ہم اب بھی مقابلے کی دوڑ میں شامل ہے۔ اس لیے "پرپل ٹیم" کو سپورٹ کیجیے۔ میں انہیں سپورٹ کرتا رہوں گا۔ وہ ایسا کریں گے، مجھے امید ہے، ان شاء اللہ"