پی ایس ایل3: کون کون پاکستان آئے گا؟

0 1,064

پاکستان سپر لیگ کا پہلا کوالیفائر کل یعنی اتوار کو دبئی میں کھیلا جائے گا جس میں اسلام آباد یونائیٹڈ اورکراچی کنگز مقابل ہوں گے۔ اس مقابلے کے ساتھ ہی پی ایس ایل پاکستان منتقل ہو جائے گی۔ دونوں ایلی منیٹرز لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں جبکہ فائنل 25 مارچ کو کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔ اس اہم مرحلے پر پچھلے سال کی طرح اس بار بھی یہی سوال ہر زبان پر ہے کہ کون سے غیر ملکی کھلاڑی کرکٹ کھیلنے کے لیے پاکستان آئیں گے؟

پلے-آف مرحلے تک پہنچنے والی چاروں ٹیموں، اسلام آباد یونائیٹڈ، کراچی کنگز، پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کھلاڑیوں کو غیر ملکی سکیورٹی ماہرین نے لاہور اور کراچی میں کیے گئے سکیورٹی انتظامات سے آگاہ کردیا ہے۔ یعنی اب یہ مکمل طور پر کھلاڑیوں کا انفرادی فیصلہ ہے کہ وہ پاکستان آئیں یا نہ آئیں۔ اب تک کافی کھلاڑیوں نے تو آنے یا نہ آنے کا فیصلہ کرلیا ہے، لیکن اب بھی کچھ ایسے ہیں جو تذبذب کا شکار ہیں۔

پچھلے سال جب پاکستان سپر لیگ کا محض فائنل لاہور میں کھیلا گیا تھا تب پشاور زلمی کے تمام غیر ملکی کھلاڑی قذافی اسٹیڈیم میں کھیلتے نظر آئے تھے جبکہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے اہم کھلاڑیوں نے آمد سے انکار کردیا تھا۔ نتیجہ فائنل جیسا مقابلہ یکطرفہ ثابت ہوا اور کوئٹہ کو بری طرح شکست ہوئی۔

اس مرتبہ منظرنامہ کیا ہے؟ ٹیموں کے لحاظ سے دیکھتے ہیں کہ کس کے کون سے کھلاڑی آئیں گے؟

اسلام آباد یونائیٹڈ

سب سے پہلے پوائنٹس ٹیبل پر نمبر ایک اسلام آباد یونائیٹڈ، کہ گروپ مرحلے کے اختتامی مراحل تک بے یقینی کی کیفیت تھی لیکن اب واضح ہو چکا ہے کہ جے پی دومنی، لیوک رونکی اور سمیت پٹیل پاکستان آئیں گے جبکہ انگلینڈ کے ایلکس ہیلز اور سیم بلنگز نے اب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ خدشہ یہی ہے کہ دیگر ٹیموں میں موجود انگلینڈ کے دیگر موجودہ کھلاڑیوں کی طرح وہ بھی پاکستان نہیں آئیں گے۔ بہرحال، ان فارم تینوں کھلاڑیوں یعنی دومنی، رونکی اور سمیت پٹیل کا آنا اسلام آباد کے لیے نیک شگون ہے۔

کراچی کنگز

کراچی کنگز نے ابتداء ہی میں اعلان کردیا تھا کہ اگر وہ پلے-آف تک پہنچے تو اس کے تمام کھلاڑی پاکستان آئیں گے۔ گو کہ ایون مورگن، جو نیوزی لینڈ کے دورے کے بعد آخری مقابلوں میں کنگز کے ساتھ شامل ہوئے اور قائدانہ ذمہ داریاں بھی نبھائیں، پاکستان آنے کو تیار نہیں، لیکن کولن انگرام، لینڈل سیمنز، ٹائمل ملز، ڈیوڈ ویز جو ڈینلی اور پی ایس ایل کے آغاز سے قبل کراچی کا چکر لگانے والے روی بوپارا کنگز کے ساتھ ہیں اور ساتھ رہیں گے۔

پشاور زلمی

دفاعی چیمپیئن پشاور زلمی اس سال پوائنٹس ٹیبل پر تیسرے نمبر پر رہا لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ اس مرتبہ بھی اس کے تمام کھلاڑی پاکستان آنے کو تیار ہیں۔ کپتان ڈیرن سیمی، لیام ڈاسن، آندرے فلیچر، رکی ویسلز اور ڈیوین اسمتھ کوئٹہ کے خلاف پہلے ایلی منیٹر کے لیے لاہور آئیں گے اور اگر کامیاب ہوئے تو دوسرا ایلی منیٹر بھی اسی شہر میں کھیلیں گے۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز

اس مرتبہ بھی سب سے بڑا مسئلہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا ہے۔ کیون پیٹرسن نے تو سیزن کے آغاز میں ہی کہہ دیا تھا کہ وہ پاکستان نہیں جائیں گے۔ اب انہوں نے وڈیو پیغام کے
ذریعے اس فیصلے کی وضاحت بھی پیش کی ہے۔ پھر انگلینڈ کے جیسن روئے، جنہوں نے آخری مقابلوں میں کوئٹہ کی نمائندگی کی، بھی نہیں آئیں گے۔ ابھی تک رائلی روسو اور شین واٹسن نے کوئی فیصلہ نہیں کیا، گو کہ خدشہ یہی ہے کہ وہ بھی کے پی اور روئے کا راستہ ہی لیں گے۔ البتہ ممکن ہے کہ رائلی روسو کوئی اچھا فیصلہ سنا دیں

البتہ آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے کرس گرین ٹیم کے ساتھ پاکستان آنے کو تیار ہیں۔

ویسے کوئٹہ کے کوچ معین خان کا کہنا ہے کہ " اس افسوس ناک صورت حال کا ذمہ دار پاکستان کرکٹ بورڈ ہے۔ مجھے اندازہ ہے کہ میرا یہ تبصرہ بورڈ کو پسند نہیں آئے گا۔ بہرحال، مستقبل میں صرف انہی غیر ملکی کھلاڑیوں کو ڈرافٹ میں شامل کرنا چاہیے جو ضرورت پڑنے پر پاکستان میں کھیلنے کو بھی تیار ہوں۔"

اب کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے پلے-آف مرحلے کے لیے کرس گرین کے علاوہ یارکشائر کاؤنٹی کے اوپنر ٹام کوہلر-کیڈمور اور ویسٹ انڈیز کے بیٹسمین جانسن چارلس کو حاصل کرلیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ سری لنکا کے تھیسارا پیریرا بھی کوئٹہ کی جانب سے کھیلیں گے جبکہ محمود اللہ بھی اپنی قومی ذمہ داری نبھا کر اسکواڈ کو جوائن کریں گے۔