بال ٹیمپرنگ: کیا، کیوں، کیسے؟

0 973

آسٹریلیا کے کھلاڑیوں کی جانب سے بال ٹیمپرنگ کے اعتراف نے دنیائے کرکٹ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ تمام ہی مبصرین جواں سال کھلاڑی کیمرون بین کرافٹ کی اس حرکت، جسے کپتان اسٹیون اسمتھ اور نائب کپتان ڈیوڈ وارنر کی حمایت بھی حاصل تھی، کی شدید مذمت کر رہے۔ بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے اس معاملے پر کھلاڑیوں کو سزا بھی سنا دی ہے۔

اس معاملے نے ایک بار پھر ’’بال ٹیمپرنگ‘‘ کی اصطلاح کو ٹرینڈز میں شامل کر دیا ہے۔ بعض ماہرین، جن میں سابق کرکٹرز بھی شامل ہیں، کا ماننا ہے کہ بال ٹیمپرنگ ہر گیند باز کرتا ہے اور یہ ہر میچ میں کی جاتی ہے۔ ایسے میں سوالات جنم لیتے ہیں کہ اگر یہ اتنی ہی عام ہے تو پھر اس پر کارروائی کیوں نہیں کی جاتی اور اگر بال ٹیمپرنگ کے مرتکب کو سزا دی بھی جاتی ہے تو وہ دیگر ’جرائم‘ کے مقابلے اتنی کم کیوں ہوتی ہے؟ تو آئیے، آپ کو ان سوالات کے جوابات دیتے ہیں:

بال ٹیمپرنگ کیا ہے اور کیوں کی جاتی ہے؟

جیسا کہ نام سے ظاہر کہ یہ عمل گیند سے چھیڑ چھاڑ کو ظاہر کرتا ہے۔ عام طور پر بال ٹیمپرنگ گیند کے مخصوص حصے کو کھرچنے خراب کرنے کے لیے کی جاتی ہے۔ اگر گیند کا ایک حصے کی حالت خراب ہو اور دوسرا حصہ چمکتا رہے تو گیند ہوا میں سوئنگ ہو سکتی ہے اور بلے باز کے لیے اس کی کیفیت کو پرکھنا مشکل ہوجاتا ہے اور اس کے آؤٹ ہونے کا خدشہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تیز گیند باز پرانی گیند کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن اگر جلد وکٹیں حاصل کرنا ہوں یا ریورس سوئنگ نہ مل رہا ہو تو کچھ کھلاڑی دیانت داری کے تقاضوں کو بھول کر گيند کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں جیسا کہ جنوبی افریقہ اورآسٹریلیا کے درمیان حالیہ ٹیسٹ میں کیمرون بین کرافٹ نے کیا۔ بہرحال، ٹیسٹ کرکٹ میں مخصوص اوورز کے بعد گیند تبدیل کرنے کا قانون یا تمام طرز کی کرکٹ میں گیند کو کوئی نقصان پہنچنے یا اس کی صورت بدل جانے کی صورت میں، دراصل بلے بازوں کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے بنایا گیا ہے۔

بال ٹیمپرنگ کیسے کی جاتی ہے؟

آپ نے تیز گیند بازوں کو دیکھا ہوگا کہ وہ اپنے رن اپ کی طرف جاتے ہوئے گیند کو اپنے ٹراؤزر یا کسی رومال سے کئی بار رگڑتے ہیں۔ اس کا مقصد بھی گیند کی ایک سائیڈ کو چمکائے رکھنا ہوتا ہے اور یہ مکمل طور پر قانون کے مطابق ہے۔ دوسرے حصے کو قدرتی طور پر خراب ہونے دیا جاتا ہے تاکہ گیند کی اس صورت کے نتیجے میں ریورس سوئنگ حاصل کیا جا سکے۔ فیلڈر بھی یہی عمل کرتے نظر آتے ہیں بلکہ ایسا بھی دیکھا جاتا ہے کہ فیلڈر تھرو بھی ایسے پھینکتے ہیں کہ گیند ٹپہ کھاتے ہوئے وکٹ کیپر تک جائے تاکہ اس کے خراب ہونے کا عمل تیز ہو جائے۔ یہ اور اس جیسی کئی عام حرکات گیند کی ساخت پر معمولی اثر ڈالتی ہیں لیکن اگر امپائر کو محسوس ہو کہ ٹیم کسی بیرونی عنصر کا استعمال کرتے ہوئے گیند کو خراب کر رہی ہے تو وہ گیند کی ساخت کا جائزہ لے کر اسے تبدیل بھی کر سکتا ہے اور باؤلنگ کرنے والی ٹیم کو وارننگ بھی دے سکتا ہے۔ اگر معاملہ سنجیدہ ہو تو بیٹنگ کرنے والی ٹیم کو پنالٹی کے 5 رنز دینے کے علاوہ باؤلر کو گیند بازی سے روک بھی سکتا ہے۔

گیند کو ریورس سوئنگ کے قابل بنانے کے کئی جارحانہ طریقے بھی استعمال کیے جاتے رہے ہیں اور یہی وہ طریقے ہیں جو پکڑ میں آ جانے کی صورت میں سخت کارروائی کی جاتی ہے۔ ایسے طریقوں میں گیند کو کسی سخت چیز جیسا کہ زپ یا جوتے کے تلوے پر لگی کیلوں سے رگڑ کر گیند کے ایک حصے کو خراب کرنے کی کوشش کرنا شامل ہیں۔

مختصر یہ کہ گیند اگر قدرتی طور پر خراب ہو تو ٹھیک ہے، لیکن اسے جان بوجھ کر خراب کرنا تاکہ جلد از جلد ریورس سوئنگ حاصل کیا جا سکے کرکٹ جیسے کھیل کے لیے ایک بدنما داغ ہے۔ اسٹیون اسمتھ جیسے پائے کے بلے باز اور دیگر کھلاڑیوں کا اس عمل میں شریک ہونا کرکٹ کے چاہنے والوں کے لیے کسی دھچکے سے کم نہیں۔ یہ بات تو طے ہے کہ اس تازہ ترین تنازع کے بعد اسمتھ کی قیادت بھی جائے گی اور عین ممکن ہے کہ نائب کپتان ڈیوڈ وارنر سمیت کئی کھلاڑیوں پر طویل پابندی بھی لگ جائے۔ دیکھتے ہیں کہ گیند سے چھیڑ چھاڑ کا نتیجہ، اور اس کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کرنا، ان کھلاڑیوں کو کس انجام سے دوچار کرتا ہے؟