بال ٹیمپرنگ اسکینڈل، اسپانسرز کرکٹ آسٹریلیا سے جان چھڑانے لگے

0 543

بال ٹیمپرنگ اسکینڈل نے نہ صرف کرکٹ کے دامن کو داغ دار کیا ہے، بلکہ کرکٹ آسٹریلیا کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے، جس کے بڑے اسپانسرز میں سے ایک نے اپنا معاہدہ منسوخ کردیا ہے۔ ساتھ ہی کھیلوں کی مصنوعات بنانے والے معروف ادارے ایزکس (ASICS) نے ڈیوڈ وارنر اور کیمرون بینکرافٹ کے ساتھ جبکہ ناشتے کے لیے چیزیں بنانے والے ادارے ویٹ-بکس (Weet-Bix) نے اسٹیو اسمتھ کے ساتھ کیے گئے معاہدے واپس لینے کا اعلان کردیا ہے۔

مجیلن (Magellan) نے اگست 2017ء میں آسٹریلیا میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچز کے اسپانسر کے لیے معاہدہ کیا تھا جس کی مالیت اس وقت 20 ملین آسٹریلوی ڈالرز تھی۔ اس کا آغاز انگلینڈ کے خلاف حالیہ ایشیز سیریز سے ہوا۔ مجیلن کے سربراہ ہمیش ڈوگلس نے کہا کہ جنوبی افریقہ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میں آسٹریلوی قیادت کی جانب سے نامناسب انداز میں برتری حاصل کرنے کی کوشش ہماری اقدار کے خلاف ہے۔

اس تنازع کے نتیجے میں آسٹریلیا نے کپتان اسٹیو اسمتھ اور نائب کپتان ڈیوڈ وارنر پر ایک، ایک سال کی پابندی عائد کی ہے جبکہ دونوں اگلے دو سال تک قیادت کے لیے بھی نااہل قرار پائے ہیں۔ ٹیمپرنگ کرتے ہوئے پکڑے گئے اوپنر کیمرون بینکرافٹ کو 9 ماہ کی پابندی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

دوسری جانب بجلی کی مصنوعات بنانے والے معروف ادارے ایل جی (LG) نے وارنر کو اپنے برانڈ سفیر کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ انڈين پریمیئر لیگ نے بھی اسمتھ اور وارنر کے ساتھ آئندہ سیزن کے لیے معاہدے منسوخ کردیے ہیں جن کی مالیت 2، 2 ملین امریکی ڈالرز تھی۔

آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم کے دیگر اسپانسرز کنٹاس (Qantas) اور کامن ویلتھ بینک نے بھی اسکینڈل پر سخت افسوس کا اظہار کیا ہے، لیکن ابھی تک کوئی قدم نہیں اٹھایا۔