ویسٹ انڈیز چاروں شانے چت؛ پاکستان کی تاریخی کامیابی

0 468

نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں پاکستان ٹیم نے یکطرفہ مقابلے کے بعد ویسٹ انڈیز کو ریکارڈ مارجن سے شکست دے کر تین ٹی20 میچوں کی سیریز کا آغاز کامیابی کے ساتھ کیا۔ 9 سال بعد بین الااقوامی کرکٹ نے کراچی کا روح کیا تو اسٹیڈیم قبل از وقت ہی کچھا کچھ بھر چکا تھا اور شائقین کا جذبہ دیدنی تھا۔ اس زبردست ماحول میں سرفراز الیون نے بھی خوب محظوظ کروایا اور پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 203 رنز بنا ڈالے جس کے جواب میں کیریبئن ٹیم اپنی تاریخ کی دوسری کم ترین اننگ صرف 60 رنز پر ہی ڈھیر ہو گئی۔

میچ کے آغاز پر ویسٹ انڈیز کے کپتان جیسن محمد نے ٹاس جیت کر گیندبازی کا انتخاب کیا جو کہ بہت بھیانک ثابت ہوا کیونکہ شاہین بلے بازوں نے ابتدا سے میچ پر گرفت مضبوط کر لی۔ فخر زمان نے تو پہلے ہی اوور میں 3 چوکے رسید کر کے اپنے ارادوں کی جھلک دکھا دی اور پھر بابر اعظم کے ساتھ مل کر اوپنز جوڑی عمدہ شارٹس کھیلیں اور مجموعے کو تیزی سے آگے بڑھایا، اننگ 5 اوورز میں 46 رنز پر پہنچی تھی کہ ریاد ایمرٹ نے بابر اعظم کو پویلین واپس بھیج دیا جو17 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔ اس کے بعد حسین طلعت میدان میں آئے اور فخر زمان کے ساتھ مل کر 19 رنز کا اضافہ کیا لیکن ایک غیر ضروری رنز لینے کی پاداش میں فخر زمان 24 گیندوں پر 1 چھکے اور 6 چوکوں کی مدد سے 39 رنز بنا کر رن آؤٹ ہو گئے۔

بعدازاں کپتان سرفراز احمد خود حسین طلعت کا ساتھ دینے آئے اور دونوں نے 85 رنز کی عمدہ شراکت داری قائم اور مجموعے کو خاصا مستحکم کر دیا۔ دونوں بلے بازوں نے میدان کے چاروں طرف کھل کر کھیلا خاص کر ڈبییو کرنے والے طلعت کی اننگ بہت متاثر کن رہی تاہم وہ 41 رنز سے آگے نہ جا سکے اور رن آؤٹ ہو گئے، اگلے ہی اوور میں کپتان 38 رنز پر ہمت ہار گیا۔ محمد آصف اپنے ڈیبیو میچ کو یادگار نہ بنا سکے اور صرف دو گیندوں کے ہی مہمان ثابت ہوئے۔ اصل میں شاہین دستہ بڑے ہدف کی طرف گامزن تب ہوا جب شعیب ملک اور فہیم اشرف نے آخری 2 اوورز میں مہمان بلے بازوں کی چھکے چوکوں سےخوب درگت بنائی اور یوں مجموعہ مقررہ اوورز کے احتتام پر 203 تک پہنچ گیا۔

توقع کے عین مطابق بڑے ہدف نے ہی مہمان دستے کی آدھی ہمت توڑ دی اور باقی کسر گرین بلے بازوں نے پوری کر دی۔ ویسٹ انڈیز کی تباہی کا یہ عالم تھا کہ ابتدائی 2 اوورز میں ہی 3 بلےباز پویلین لوٹ گئے اور اس کے بعد وقفے وقفے سے یہ سلسلہ چلتا رہا۔ صرف 3 بلےباز ایسے رہے جو دوہرا ہندسہ عبور سکے جن میں سب سے زیادہ 18 رنز سیموئیل کے تھے باقی دو میں امرت 11 اور پاؤل 10 رنز بنا سکے، جبکہ اینڈرے فلیچر، کپتان جیسن محمد، تجربہ بلےباز رامدین اور کوک ویلیمز بنا کوئی رنز بنا صفر پر ہی شکار ہو گئے، اس طرح 14 اوور میں ہی 60رنز بنا کر مہمان ٹیم مکمل طور پر ڈھیر ہو گئی، اور یوں پاکستان 143 رنز کے بڑے مارجن سے فتحیات ہوا۔ میزبان ٹیم کی جانب سے محمدنواز، محمدعامر اورشعیب ملک 2۔2 وکٹیں حاصل کر کے نمایاں رہے۔

اس میچ کے ذریعے اپنے بین الاقوامی ٹی20 کیریئر کا آغاز کرنے والے حسنین طلعت کو مرد میدان قرار دیا گیا۔ طلعت، شاہد آفریدی اور شاداب خان کے بعد اپنے پہلی ہی مقابلے میں یہ اعزاز حاصل کرنے والے تیسرے پاکستانی کھلاڑی بن گئے ہیں۔

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دوسرا ٹی20 میچ آج کھیلا جائے گا۔ دیکھتے ہیں مہمان ٹیم سیریز میں واپسی کر پاتی ہے یا گرین ٹیم سیریز اپنے نام کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔