ویسٹ انڈیز پھر ہار گیا؛ پاکستان کلین سویپ کی راہ پر

0 426

پاکستان نے دوسرے ٹی ٹوینٹی میچ میں بھی ویسٹ انڈیز کو دھول چٹا کر سیریز میں فیصلہ کن برتری حاصل کر لی ہے۔ میچ کی اہم بات پاکستان کی جانب سے 205 رنز کا مجموعہ رہا، جس سے میزبان ٹین نے ٹی20 میں اپنے سب سے بڑے مجموعے کو مزید بہتر کر لیا ہے۔ دوسری جانب مہمان ٹیم نے پہلے میچ کی نسبت بہتر کھیل پیش کیا تاہم وہ شکست کے مارجن میں کمی کے علاوہ کوئی مثبت نتیجہ پیش کرسکا۔ یاد رہے کیریبین دستہ 4 گیندیں پہلے ہی 123 رنز پر ڈھیر ہو گیا اور اس طرح 82 رنز سے صرف میچ ہی نہیں بلکہ سیریز ہی پاکستان کے نام ہوگئی۔

کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے سیریز کے دوسرے میچ میں پاکستانی کپتان سرفراز احمد نے ٹاس جیتا اور بلے بازی کو ترجیح دی۔ فخر زمان کی حد تک یہ فیصلہ بہتر ثابت نہ ہوا کیونکہ وہ صرف 6 رنز بنا کر ہی پویلین لوٹ گئے، تاہم بابر اعظم اور حسین طلعت نے اس مرتبہ بھی شاندار شراکت داری قائم کی اور 119 رنز جوڑے۔ ڈیبیو میچ کے مرد میدان حسین طلعت نے کیریئر کی پہلی نصف سنچری بنا ڈالی اور 41 گیندوں پر 1 چھکے اور 8 چوکوں کی مدد سے 63 رنز بنانے کے بعد کیچ آؤٹ ہوئے۔

دوسری طرف بابر نصف سنچری بنا لینے کے بعد نہایت عمدہ کھیل پیش کرتے ہوئے آگے بڑھتے رہے۔ ٹاپ آرڈر پر کھیلنے کا موقع ملنے کے باوجود محمد آصف ایک مرتبہ پھر ناکام رہے اور صرف 14 رنز ہی بنا پائے۔ بعد ازاں شعیب ملک نے بابر اعظم کے ساتھ مل کیریبین گیندبازوں کی ایک نہ چلنے دی اور مجموعے کی ڈبل سنچری کروا دی۔ اس طرح مقررہ اوورز میں پاکستان نے 3 وکٹوں کے نقصان پر 205 رنز بنا کر مجموعے کا پہاڑ کھڑا کر دیا، بابر اعظم آسان موقع ملنے کے باوجود سنچری تو نہ بنا سکے مگر شاندار بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 58 گیندوں پر 1 چھکے اور 13 چوکوں کی مدد سے ناقابل شکست 97 رنز کی اننگز کھیل ڈالی جبکہ شعیب ملک نے 7 گیندوں پر 17 رنز بنائے۔

ہدف کے تعاقب میں ویسٹ انڈیز کا آغاز آندرے فلیچر کے بڑے خسارے کے ساتھ ہوا جنہیں صرف 1 رن پر محمد نواز نے چلتا کر دیا۔ اس کے بعد مارلن سیمیولز اور چیڈوک والٹن نے بہتر کھیل پیش کیا اور مجموعے کی نصف سنچری مکمل کرا دی۔ والٹن 2 چھکے اور 5 چوکے لگانے کے بعد خطرناک ہونا شروع ہو گئے مگر شاداب نے 40 رنز پر ہی روک لگا دی۔ جلد ہی سیمیولز بھی صرف 12 رنز بنانے کے بعد شاداب ہی کا شکار بن گئے، بعد ازاں کپتان جیسن محمد اور دنیش رامدین نے 35 رنز کی چھوٹی شراکت قائم کر کے ڈوبتی نیا کو کچھ سہارا دیا مگر حسین طلعت رکاوٹ بن گئے اور 21 رنز بنانے والے رامدین کو دبوچ لیا۔

اب تک مہمان ٹیم کی کمر تو ویسے ہی ٹوٹ چکی تھی تاہم باقی کسر محمد عامر کے اسپیل نے پوری کر دی جنہوں نے اپنے 2 اوورز میں کپتان جیسن محمد سمیت روومین پاول اور کیمو پال کا بوریا بستر گول کر دیا۔ گرتی ہوئی دیوار کو آخری جھٹکا حسین طلعت نے اوڈین اسمتھ کو آؤٹ کر کے دیا۔ یوں پوری ویسٹ انڈین ٹیم 123 رنز پر ڈھیر ہو گئی اور پاکستان فاتح قرار پایا۔ گرین ٹیم کی جانب سے محمد عامر نے 3 جبکہ حسین طلعت اور شاداب خان نے 2، 2 شکار کیے۔ بابر اعظم کو 97 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

پاکستان دونوں میچ جیتنے کے بعد 2 - 0 سے سیریز تو اپنے نام کر چکا ہے اب دیکھتے ہیں تیسرے میچ میں پاکستان کلین سویپ کر پاتا ہے یا ویسٹ انڈیز عزت بچانے میں کامیاب رہتی ہے۔