350 مقابلوں میں امپائرنگ، علیم ڈار نے نیا سنگ میل عبور کرلیا

0 430

کرکٹ کے کھیل میں بلے بازی، گیند بازی اور فیلڈنگ کے طرح امپائرنگ بھی ایک اہم ترین شعبہ ہے اور اس شعبہ کا موجودہ سب سے بڑا نام علیم ڈار ہیں۔ کھلاڑی تو پھر کبھی کبھی بدنامی کا باعث بن جاتے مگر پاکستان کے اس سپوت نے ہمیشہ دنیا بھر میں پاکستان کا نام ہی روشن کیا۔

علیم ڈار کے علاوہ تمام پاکستان کے لئے بھی یہ اعزاز کی بات ہے کہ انہوں نے اپنے امپائرنگ کیریئر کا ایک اور اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے اور وہ ہے 350 بین الاقوامی میچز میں امپائرنگ کے فرائض انجام دینا، جس میں 117 ٹیسٹ میچ، 190 ون ڈے اور 43 ٹی20 میچز کی نگرانی شامل ہے۔ 49 سالہ تجربہ کار امپائر نے یہ سنگ میل پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے مابین کھیلے گئے تیسرے ٹی20 میچ کی نگرانی کرتے ہوئے انجام دیا۔ دلچسپ اتفاق ہے کہ علیم ڈار نے اپنے ملک میں پہلے ٹی20 میچز کی امپائرنگ پاکستان اور ورلڈ الیون کے درمیان معرکے میں انجام دی تھی اور اس کے بعد 350 واں میچ بھی اپنے ہی ملک میں انجام پایا۔

2004ء میں علیم ڈار پہلی مرتبہ آئی سی سی کے ایلیٹ پینل کا حصہ بنے۔ یوں یہ اعزاز پانے والے پہلے پاکستانی بنے۔ بعد ازاں انہوں اپنی اعلی کارکردگی اور پروفیشنلزم کی بدولت مسلسل تین سال 2009 سے 2011 تک آئی سی سی کے امپائر آف دی ائیر کا ایوارڈ جیتا۔ 2007ء میں انہوں نے اپنا 100واں میچ مکمل کیا جب ممبئی میں انڈیا اور آسٹریلیا کے مابین میچ کی نگرانی کی، اور اس طرح امپائرنگ کی تاریخ میں وہ سنچری مارنے والی 8ویں امپائر بنے۔

جھنگ میں پیدا ہونے والے علیم ڈار نے کرکٹ کے کھلاڑی کے طور پر سفر کا آغاز کیا مگر بطور کھلاڑی زیادہ کامیاب نہ ہونے کے باوجود کرکٹ سے تعلق نہ ٹوٹنے دیا اور امپائرنگ کے ذریعے اس کا حصہ بن گئے۔ پھر 16 فروی 2000 کو گوجرانوالہ میں پاکستان اور سری لنکا کے مابین میچ سے باقائدہ امپائرنگ کے کیریئر کا آغاز کر دیا اور اب اس تجربہ کار علیم ڈار کی خواہش ہے کہ وہ اپنے کیریئر میں پانچویں عالمی کپ میں بھی فرائض انجام دیں اور نئی تاریخ رقم کریں۔