محمد حفیظ کو گیند بازی کی اجازت مل گئی

0 558

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے محمد حفیظ کا باؤلنگ ایکشن کلیئر قرار دے دیا ہے ۔ یہ فیصلہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی درخواست پر ہونے والے ٹیسٹ کے بعد لیا گیا۔ اب محمد حفیظ ایک مرتبہ پھر بین الااقوامی مقابلوں میں گیندبازی کروا سکیں گے۔ بلاشبہ اس اجازت نامے سے پاکستان ٹیم کا شعبہ گیندبازی مزید مستحکم ہو جائے گا۔

گزشتہ سال اکتوبر میں سری لنکا کے خلاف ایک روزہ میچ کے دوران 37سالہ حفیظ کا باؤلنگ ایکشن مشکوک قرار دیا گیا تھا۔ اس کے بعد محمد حفیظ کے ایکشن کی جانچ کے لیے 17 اپریل کو لفبرو یونیورسٹی میں ٹیسٹ ہوئے۔ بدقسمتی سے محمد حفیط کو تیسری مرتبہ اس عمل سے گزرنا پڑا۔ تاہم باؤلنگ ٹیسٹ کے دوران ان کی گیندوں میں بازو کا خم کرکٹ قوانین میں مقرر حد یعنی 15 ڈگری سے کم رہا۔

باؤلنگ ایکشن مشکوک قرار دینے سے پہلے محمدحفیظ شاہین دستے کے خطرناک ہتھیار بن چکے تھے۔ انہوں نے نہ صرف چیمپئن ٹرافی جتوانے میں اہم کردار ادا کیا بلکہ وہ خود بھی ٹی20 فارمیٹ میں نمبرون گیندباز تھے۔ محمدحفیظ نے پاکستان سپر لیگ سے پہلے لمز یونیورسٹی کی لیب سے ایک غیر سرکاری ٹیسٹ کروایا جس میں ناکام رہے جس کے بعد انہیں پی ایس ایل میں گیند بازی سے روک دیا گیا تھا۔

محمد حفیظ کی گیندبازی پہلی مرتبہ رپورٹ نہیں ہوئی بلکہ اس سے پہلے کئی مرتبہ وہ اس عمل سے گزر چکے ہیں، پہلی مرتبہ 13 سال پہلے 2005 میں آسٹریلیا کے خلاف سہہ ملکی ایک روزہ سیریز کے دوران ان کا باؤلنگ ایکشن مشکوک قرار دیا گیا۔ تاہم اس وقت کے قوانین کے مطابق محمد حفیظ پر زیادہ عرصہ پابندی برقرار نہ رہی۔ تاہم ٹی20 چیمپئن لیگ 2014 میں ایک مرتبہ پھر محمد حفیظ کو اسی مرحلے سے دوچار ہونا پڑا۔ اس کے بعد نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ میں ان کا باؤلنگ ایکشن رپورٹ ہوا جس کے بعد انہیں 12 ماہ کی پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔ آزاد جانچ کے بعد 2016 میں ایک مرتبہ پھر کلیرنس کے بعد گیند بازی کی اجازت مل گئی تاہم ایک سال کے بعد اکتوبر 2017 میں دوبارہ ایکشن رپورٹ ہوا جسے اب جا کر کلیئرنس ملی ہے۔