عمر اکمل کے سابق کوچ پر سنگین الزامات

0 621

عمراکمل ایک باصلاحیت بلے باز ہیں مگر انہوں نے کھیل سے زیادہ خود کو تنازعات کی نظر کر رکھا ہے۔ طویل عرصہ ہوا کہ ان کے کھیل کے حوالے سے کوئی اچھی خبر سننے کو نہیں ملی مگر تنازعات کے سبب یہ آئے روز خبروں کی زینت بنے رہتے ہیں اور اب تو لگتا ہے انہون نے میڈیا میں زندہ رہنے کا واحد سہارا ان ہی متنازعہ حرکات اور بیانات کو سمجھ لیا ہے۔

پاکستان کپ میں اپنی ناکام کارکردگی پر سے توجہ ہٹانے کے لیے عمر اکمل نے اچانک ایک اور غیر ضروری تنازعے کو کھڑا کر لیا جس میں ہدف قومی ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ وقار یونس کو بنایا گیا ہے۔

عمر اکمل نے کہا کہ وقار یونس نے ٹیسٹ میچوں میں زبردستی وکٹ کیپنگ پر مجبور کرنے کی کوشش کی اور میرے انکار پر مجھے ٹیم سے نکال باہر کرنے کی دھمکیاں دیں۔ بلے باز کا کہنا تھا کہ گزشتہ 3، 4 سال سے محدود اوورز کے کھیل میں وکٹ کیپنگ کی ذمہ داریاں ادا کر رہا ہوں اور اگر ٹیسٹ میں بھی شروع کر دی تو اس سے میری بلے بازی متاثر ہو گی۔ عمر اکمل نے کہا کہ کہ دبئی ٹیسٹ شروع ہونے کو تھا اور وہاں کپتان مصباح الحق 3 اسپنرز اور 1 تیز گیند باز کے ساتھ میدان میں اترنے کا ارادہ رکھتے تھے ایسے حالات میں تھکاوٹ کے باعث میری بلے بازی شدید متاثر ہو سکتی تھی اس وجہ سے انکار کر دیا جو وقار یونس کو اچھا نہ لگا۔

ٹیسٹ کرکٹر نے مزید کہا کہ مجھے وقار یونس کے اصل الفاظ اچھے سے یاد ہیں کہ

اب میں دیکھتا ہوں کہ تمہیں کون کرکٹ کھلاتا ہے

عمر اکمل نے اعتراف کیا کہ اس واقعے کے بعد انہوں نے سابق کوچ کی بہت منت سماجت کی کہ میں ملک کے لیے کھیلنا چاہتا ہوں مگر انہوں نے ایک نہ سنی۔

الزامات کا یہ سلسلہ نیا نہیں ہے۔ ایسے تماشے عمر اکمل نے کچھ عرصہ پہلے ہی موجودہ قومی کوچ مکی آرتھر کے ساتھ بھی لفظی جنگ شروع کر دی تھی کہ جب انہوں نے عمر کی فٹنس اور صلاحیت پر سوالات اٹھائے تھے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کھلاڑیوں کے الزامات کی بھرپور تحقیق ہونی چاہیے اور اگر وقاریونس کے خلاف موقف میں ذرا بھی سچائی ہے تو سابق کوچ کے خلاف ایکشن لینا چاہئے۔ لیکن اگر یہ بات غلط ثابت ہوتی ہے تو کرکٹ بورڈ کو عمر اکمل کے خلاف سخت کاروائی کرتے ہوئے انہیں ہمیشہ کے لیے کرکٹ سے دور کر دینا چاہیے۔