اظہر علی اور اسد شفیق، مکی آرتھر کی امیدوں کا مرکز

0 477

پاکستان ٹیم کے کوچ مکی آرتھر نے انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ میں زیادہ امیدیں اسد شفیق اور اظہر علی کی تجربہ کار جوڑی سے وابستہ کر رکھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ باوجود اس کے کہ موجودہ دورے کے آغاز پر آئرلینڈ کے خلاف اظہر علی کوئی رنز نہیں بنا سکے مگر اس کی گزشتہ دو سال کی شاندار کارکردگی دیکھ کر امید کی جا سکتی ہے کہ وہ بہترین آغاز کرے گا جبکہ اسدشفیق نے تھوڑے رنز بنائے ضرور مگر مجموعی کارکردگی متاثر کن نہ رہی تاہم اس کے باوجود اسد ایک ٹیسٹ سپیشلسٹ ہے وہ بھی عمدہ کھیل پیش کرے گا۔

ویسے بھی مصباح الحق اور یونس خان کی عدم موجودگی میں سارا بوجھ انہیں دو تجرہ کار بلےبازوں کے کندھوں پر ہی آ گیا ہے اس لئے انہیں اپنی اہمیت کا ادراک کرتے ہوئے نوجوان بلےبازوں کے لئے مثال بننا چاہئے۔

مکی آرتھر نے ان دونوں کی بلےبازی کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ دو سال پہلے جب یہ دونوں لارڈز کے میدان میں اترے تھے تو ان کی بیٹنگ ایوریج تقریبا ایک جیسی تھی، یعنی اظہر علی کی 43.37 اوسط اور اسدشفیق کی اوسط 43.28 تھی مگر اب دونوں مین کافی فرق آ گیا ہے اظہر 45.84 بیٹنگ ایوریج کے ساتھ مزید نکھرے ہیں جبکہ اسد سکڑ کر 39.53 پر چلے گئے ہیں۔

اسد کو اس دورے کو سنجیدہ لیتے ہوئے اس کمی کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اچھی بات یہ ہے کہ دونوں رنزوں کے لئے محنت کرنے میں مصروف ہیں اور بریکٹس میچز میں دونوں نے فارم میں واپس آنے کی کوشش بھی کی، اظہر نے لیسترشائیر کے خلاف 73 رنز کی اننگ کھیلی جبکہ اسد نے شاندار سنچری جڑ دی۔

مکی آرتھر نے ایک سوال کے جواب میں دو ٹوک کہا کہ کچھ کمیوں کے باوجود میں ان دونوں سے ہرگز ناامید نہیں ہوں، ان کا ریکارڈ خود بول رہا ہے کہ یہ معیاری کھلاڑی ہیں، ان کا ٹیسٹ کیریئر نہایت شاندار ہے اور یہ دونوں بڑے میچ کے کھلاڑی ہیں اور ان کی فارم بھی بحال ہو رہی ہے۔