انگلینڈ اور آسٹریلیا کے کھلاڑی بھی فکسر! الجزیرہ کے تہلکہ خیز انکشافات

0 970

قطر کے معروف ٹیلی وژن چینل 'الجزیرہ' نے اپنی ایک دھماکا خیز دستاویزی فلم میں ٹیسٹ کرکٹ میں فکسنگ کے رازوں سے مزید پردے اٹھائے ہیں اور اس مرتبہ دو ایسے ٹیسٹ میچز زد میں آئے ہیں جو بھارت میں کھیلے گئے اور ان میں میزبان کا مقابلہ آسٹریلیا اور انگلینڈ کی ٹیموں کے ساتھ تھا۔

اس دستاویزی فلم میں جن ٹیسٹ میچز کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، ان میں دسمبر 2016ء کا انگلینڈ-بھارت چنئی ٹیسٹ اور مارچ 2017ء میں آسٹریلیا اور بھارت کے درمیان رانچی میں کھیلا گیا ٹیسٹ شامل ہیں۔ الجزیرہ کا کہنا ہے کہ ان دونوں مقابلوں کے مخصوص اوقات ميں انگلینڈ اور آسٹریلیا کے کھلاڑیوں نے فکسرز کی ہدایت کے مطابق رنز بنائے۔

تہلکہ خیز انکشاف کے بعد کرکٹ آسٹریلیا اور انگلینڈ کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اپنے کھلاڑیوں کے اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کے کوئی "قابل بھروسہ" شواہد موجود نہیں۔

کرکٹ آسٹریلیا نے الجزیرہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی دستاویزی فلم کی بغیر ایڈٹ کی گئی فوٹیج اور دیگر مواد فراہم کرے تاکہ ان الزامات کا جائزہ لیا جائے اور فیصلہ کیا جائے آیا تحقیقات کے قابل بھی ہیں یا نہیں۔ جبکہ ای سی بی کے چیف ایگزیکٹو کا کہنا ہے کہ جو محدود معلومات ملی ہیں، ان کو بنیاد بناتے ہوئے بورڈ نے تمام کھلاڑیوں سے رابطہ کیا ہے، جنہوں نے الزام کی واضح تردید کی ہے اور کہا ہے کہ یہ دعوے غلط ہیں۔ ادھر بھارتی کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ وہ آئی سی سی کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے وڈیو میں شامل سابق ٹیسٹ کرکٹر حسن رضا کے خلاف تحقیقات شروع کردی ہیں۔

اس فلم میں ایک بھارتی سٹے باز انیل منور انگلینڈ کے تین اور آسٹریلیا کے دو کھلاڑیوں کے نام بتاتا ہے کہ وہ ان کے کہنے کے مقابلے اسپاٹ فکسنگ کرتے ہیں۔ الجزیرہ نے ان کھلاڑیوں کے نام تو چھپا دیے ہیں لیکن ساتھ ہی اس کا کہنا ہے کہ یہ معلومات متعلقہ حکام تک ضرور پہنچائی گئی ہے۔ چینل کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کے جن دو کھلاڑیوں کے نام انیل نے لیے، جب ان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے جواب ہی نہیں دیا جبکہ انگلینڈ کے کھلاڑیوں نے الزامات کی واضح تردید کی۔

الجزیرہ کا دعویٰ ہے کہ ان کے انڈر کور رپورٹر نے 18 ماہ کی محنت کے بعد یہ رپورٹ تیار کی ہے۔ اس کے لیے ایک امیر کاروباری شخصیت کا روپ دھارا اور فکسنگ کے دھندے میں ملوث مختلف افراد سے ملاقات کی۔ ان ملاقاتوں میں انکشافات ہوئے کہ کس طرح ٹیسٹ کرکٹ جیسے کھیل تک میں فکسنگ ہوتی ہے۔ خفیہ کیمروں کے ذریعے سے ریکارڈ کی گئی ان ملاقاتوں سے دستاویزی فلم بنائی گئی۔ الجزیرہ کے مطابق انیل سے مذکورہ بالا مقابلوں کے مخصوص لمحات میں رنز بنانے کی رفتار کے بارے میں جو معلومات دیں، میچ میں بالکل ویسا ہی ہوا۔

کھلاڑیوں سے ہٹ کر دستاویزی فلم میں سٹے بازوں کی مرضی کے مطابق پچ بنانے کا انکشاف بھی ہوا ہے۔ فلم میں گال انٹرنیشنل اسٹیڈیم کے اسسٹنٹ مینیجر تھارنگا انڈیکا سے پوچھا گیا کہ آیا وہ مقابلہ کو نتیجہ خیز بنانے کی یقین دہانی کرا سکتے ہیں، تاکہ غیر قانونی سٹے بازوں کو شرطوں پر مدد ملے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ ایسا کر سکتے ہیں اور ایک ہفتہ قبل اس کی تصدیق بھی کر سکتے ہیں۔ انڈیکا نے صحافیوں کو بتایا کہ گال کے میدان میں عملے کے تین سے چار اراکین ان کی مدد کریں گے۔ "ہم وکٹ کو دو ہفتے کے لیے کھلا چھوڑ دیتے ہیں۔ پانی نہیں دیتے اور نتیجے میں پچ کو نقصان پہنچتا ہے۔" فلم میں بتایا گیا کہ انڈیکا نے جولائی 2017ء میں بھارت کے دورۂ سری لنکا کے دوران بھی گال کی پچ کو ایسا بنایا کہ مقابلے میں بہت رنز بنے اور مہمان ٹیم 304 رنز کے بہت بڑے فرق سے جیتی۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ گال کا میدان تنقید کی زد میں آیا ہو۔ جنوری 2016ء میں گراؤنڈز مین جیانندا ورناویرا کو تین سال کے لیے معطل کردیا گیا تھا کیونکہ وہ اے سی یو حکام کے ساتھ تعاون نہیں کر رہے تھے۔

اس دستاویزی فلم میں ہمیں انیل کے علاوہ ایک اور کردار ممبئی کے سابق کرٹر رابن مورس کا ملتا ہے کہ جنہوں نے بتایا کہ مرضی کی پچ بنانے پر گراؤنڈز مین کو اتنے پیسے مل جاتے ہیں جو اس کی آٹھ سال کی تنخواہ کے برابر ہیں۔

فلم کے آخر میں یہ بھی کہا گیا کہ گال میں نومبر میں طے شدہ انگلینڈ-سری لنکا مقابلے کی پچ بھی ایسی ہی بنائی جا سکتی ہے تاکہ مقابلہ سٹے بازوں کی خواہش کے مطابق نتیجہ خیز بنے۔