اظہر محمود، وسیم اکرم اور وقار یونس سے بہت سیکھا: محمد عباس

0 849

پاکستان نے پہلے ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ کو 9 وکٹوں سے پچھاڑ کر رکھ دیا۔ گرین شرٹس کی اس شاندار فتح میں تیز گیندبازوں کا اہم ترین کردار رہا جنہوں نے مجموعی طور پر 18 وکٹیں حاصل کیں اور صرف 2 اسپنرز کے ہاتھ آئیں۔

ان کامیاب تیز گیند بازوں میں سے جس بالر نے اپنی لائن لینتھ سے سب کو خوب متاثر کیا وہ محمد عباس تھے۔ انہوں نے مجموعی طور پر 8 وکٹیں حاصل کیں اور میچ کا بہترین کھلاڑی بننے کا اعزاز حاصل کیا۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے محمد عباس نے کہا کہ ’’تاریخی لارڈز میدان میں میچ وننگ کارکردگی دکھانا میرے لئے اعزاز کی بات ہے، یہ میرے لئے ایک بہت بڑا چیلنج تھا جو باولنگ کوچ اظہر محمود کی خصوصی توجہ سے ممکن ہو سکا میری اس کارکردگی کا کریڈٹ انہیں بھی جاتا ہے کیوں کہ کوچ اظہر نے ہر سطح پر میرے ساتھ بھرپور تعاون کیا، اور وہ چونکہ خود بھی انگلینڈ میں بہت عرصہ کاؤنٹی کھیل چکے ہیں اور یہاں کی کنڈیشن سے آگاہ ہیں اس لئے انہوں سمجھانے میں آسانی رہی۔’’

28 سالہ گیند باز نے مزید کہا کہ ’’میں خود اس میچ سے قبل یہاں لیسٹر کی جانب سے کھیلتا رہا ہوں تو مجھے بھی اس سے بہت فائدہ پہنچا، بلکہ اسی کاؤنٹی کے تجربہ کو بروئے کار لاتے ہوئے آئرلینڈ اوراب انگلینڈ کے خلاف اچھا پرفارم کیا جس پر میں بہت خوشی ہوں۔ اظہر محمود کے علاوہ وسیم اکرم اور وقاص یونس کی تعریف کرتے ہوئے کہا انہوں نے بھی ہمیشہ میرے ساتھ بھرپور تعاون کیا، خصوصاً پاکستان سپر لیگ کے دوران وسیم اکرم سے براہ راست بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔‘‘

محمد عباس نے لارڈز پچ کو بہت عمدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’پاکستان کے نوجوان دستے نے جس طرح تجربہ کار میزبان دستے کو انہں کے ہوم گراؤنڈ میں ٹکر دی ہے وہ بہت غیر معمولی اور یادگار ہے۔ بہرحال اب اس فتح سے نکل کر ہماری توجہ سیریز کے دوسرے میچ پر مرکوز ہیں ان شاء اللہ ٹیم بھرپور تیاری اور بلندحوصلوں کے ساتھ میدان میں اترے گی اور انگلش ٹیم کو ہراتے ہوئے سیریز اپنے نام کرنے کی کوشش کرے گی۔‘‘

سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے محمد عباس کو بین الااقوامی سطح پر ایک روزہ میچز میں ملک کی نمائندگی کا اعزاز تو حاصل نہیں ہوا تاہم 7 ٹیسٹ میچوں میں ملک کی نمائندگی کر تے ہوئے ابھی تک 40 وکٹیں کما چکے ہیں۔