[ریکارڈز] ٹی ٹوئنٹی میں مسلسل ہارنے والی ٹیمیں

کیا کراچی کنگز کی مسلسل 9 شکستیں ایک نیا ریکارڈ ہے؟

0 625

کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے، بالآخر کراچی کنگز نے اِس سیزن میں پے در پے 8 اور کُل ملا کر مسلسل 9 شکستوں کا سلسلہ توڑ دیا ہے اور ایک ایسے مقابلے میں کامیابی حاصل کر لی، جہاں بہت کم شائقین کو کنگز کی جیت کی امید تھی۔

لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں فُل ہاؤس تھا، کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی جب راشد خان کی تباہ کُن باؤلنگ کے سامنے کراچی صرف 116 رنز پر 8 وکٹیں گنوا بیٹھا۔ گرتے پڑتے کسی نہ کسی طرح کراچی کے باقی ماندہ بلے بازوں نے اننگز کو آخری اوور تک پہنچایا، جہاں پوری ٹیم 149 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔

تب شاید ہی کسی نے سوچا ہوگا کہ 150 رنز کا ہدف بھی ایسا ہوگا، جس کا دفاع کیا جا سکتا ہے۔ لیکن میر حمزہ کی تباہ کُن باؤلنگ کے سامنے لاہور قلندرز 127 رنز تک ہی پہنچ پائے۔

یوں کراچی کی شکستوں کا سلسلہ مزید دراز ہونے سے بچ گیا۔ پھر بھی مسلسل 9 شکستوں کا داغ ان کے دامن پر لگ چکا ہے، جو کم از کم پی ایس ایل تاریخ میں تو ایک نیا ریکارڈ ہے۔ اتنے تواتر سے لیگ میں کبھی کوئی ٹیم نہیں ہاری، یہاں تک کہ بدترین ایّام میں لاہور بھی نہیں۔

لیکن مسلسل 9 شکستیں؟ کیا ٹی ٹوئنٹی کی دنیا میں ایسا پہلے بھی کبھی ہوا ہے؟ حقیقت تو یہ ہے کہ اس سے بھی زیادہ بُرا ہوا ہے۔ یہ "اعزاز" آسٹریلیا کی بگ بیش کی ٹیم سڈنی تھنڈر کے پاس ہے۔

سڈنی تھنڈر، مسلسل 19 شکستیں

شکستوں کے اس ریکارڈ ساز سلسلے میں کرس گیل بھی سڈنی تھنڈر سے کھیلے تھے

سڈنی تھنڈر نے ‏2011-12ء میں بگ بیش کے پہلے سیزن کے تیسرے میچ میں شکست کھائی اور اس کے بعد تیسرے ایڈیشن میں اپنے ساتویں مقابلے تک انہیں ایک کامیابی بھی نصیب نہیں ہوئی۔ یعنی درمیان میں ‏2012-13ء کے تمام 8 میچز میں شکست بھی کھائی۔ انہوں نے مسلسل 19 مقابلوں میں ناکامی کا منہ دیکھا اور ایک ایسا ریکارڈ بنایا جو شاید ہی کوئی توڑ پائے۔

اس دوران کئی بڑے نام سڈنی تھنڈر کا حصہ بنے، جیسا کہ مائیکل ہسی، کرس گیل، مارٹن گپٹل، تلکارتنے دلشان، ایون مورگن وغیرہ۔

ویسے دلچسپ بات یہ ہے کہ ‏2014-15ء میں سڈنی تھنڈر نے بگ بیش ٹائٹل جیت لیا تھا، پہلی اور آخری بار!


سینٹ لوشیا زوکس، مسلسل 14 شکستیں

پھر دوسرا نام ہے کیریبیئن پریمیئر لیگ ( سی پی ایل) کی ٹیم سینٹ لوشیا زوکس کا، جس نے 2016ء سے 2018ء کے درمیان مسلسل 14 مقابلوں میں ناکامیاں سہیں۔ 2016ء میں وہ ایلیمنیٹر میں ٹرنباگو نائٹ رائیڈرز سے ہارے اور ایسے بے حال ہوئے کہ اگلی کامیابی کے لیے انہیں دو سال سے زیادہ کا انتظار کرنا پڑا۔

اگلے سیزن میں انہوں نے ٹیم کا نام بھی بدل کر زوکس سے اسٹارز رکھ لیا، لیکن وہ تو ایسا منحوس ثابت ہوا کہ پورا سیزن ہی نامراد گزرا: 9 شکستیں اور ایک مقابلہ بے نتیجہ۔ بالآخر 2018ء کے سیزن میں اپنے پانچویں میچ کے دوران انہیں کامیابی نصیب ہوئی، دو سال بعد پہلی کامیابی!

حیرانگی کی بات یہ ہے کہ ان کی قیادت ڈیرن سیمی کر رہے تھے، ایک ایسے کپتان جنہوں نے دو مرتبہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیتا اور پھر پاکستان سپر لیگ میں پشاور زلمی کو واحد ٹرافی بھی جتوائی۔


پونے واریئرز، مسلسل 11 شکستیں

اب ذرا انڈین پریمیئر لیگ کی طرف چلتے ہیں، جس میں ایسی دو "عظیم" ٹیمیں ہیں جنہوں نے مسلسل 11، 11 شکستیں کھائی ہیں۔ پہلی ہے پونے واریئرز۔ اس ٹیم نے 2011ء سے 2013ء کے دوران کُل تین سیزنز کھیلے اور اس دوران ناکامیوں کے انبار لگا دیے۔ 2012ء سے 2013ء کے سیزن کے دوران انہیں مسلسل 11 شکستوں کا "تمغہ" ملا۔

اس ٹییں سارو گانگلی، اسٹیون اسمتھ، مارلون سیموئلز، مائیکل کلارک اور اینجلو میتھیوز جیسے بڑے نام رہے۔

پونے کا مجموعی ریکارڈ بھی دیکھیں تو انتہائی مایوس کُن ہے۔ اپنے تین سالوں دوران انہوں نے صرف 12 میچز جیتے اور 33 میں ناکامی کا سامنا کیا، جو کسی بھی دوسری آئی پی ایل ٹیم سے زیادہ بھیانک ریکارڈ ہے۔


دہلی ڈیئرڈیولز، مسلسل 11 شکستیں

پھر ایک بڑا نام، دہلی ڈیئرڈیولز کا، جو اب دہلی کیپیٹلز کہلاتی ہے۔ نام بڑے درشن چھوٹے کے مصداق اس ٹیم نے بھی ایسے ایسے کارنامے انجام دیے ہیں کہ الامان الحفیظ۔ ایک تو یہ آئی پی ایل تاریخ کی واحد ٹیم ہے جس نے کبھی کوئی ٹائٹل نہیں جیتا۔ پہلے پانچ سیزنز میں پوائنٹس ٹیبل پر ٹاپ پوزیشن حاصل کرنے کے بعد ان کی یہ حالت ہوئی کہ مسلسل چھ سال تک ٹاپ 4 میں بھی نہیں آئے بلکہ 4 سال ایسے گزرے جن میں یہ آخری دو نمبروں پر پڑی رہی۔

‏2013ء سے 2015ء کے دوران تو دہلی نے حد ہی کر دی، 44 میں سے صرف 10 میچز جیتے اور 2014ء اور 2015ء کے دوران انہوں نے مسلسل 11 شکستیں بھی کھائیں۔ تب کپتان تھے انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے کیون پیٹرسن جبکہ ٹیم میں روس ٹیلر، عمران طاہر، جے پی دومنی اور یووراج سنگھ جیسے نام شامل تھے۔


اینٹیگا ہاکس بلز، مسلسل 10 شکستیں

کراچی کنگز کو ڈھارس دینے والی آخری ٹیم ہے کیریبیئن پریمیئر لیگ کی اینٹیگا ہاکس بلز۔ اس سابق ٹیم نے 2013ء اور 2014ء کے سیزنز کے دوران مسلسل 10 شکستیں کھائی تھیں۔

ویسے ہاکس بلز نے صرف سیزنز ہی سی پی ایل کھیلی اور اپنے 16 میچز میں صرف 3 کامیابیاں حاصل کیں۔ اپنے آخری سیزن میں تو انہوں نے مسلسل 8 میچز ہارے اور یوں پے در پے 10 شکستوں  کا کارنامہ انجام دیا۔

ویسے اس ٹیم میں کئی ایسے نام تھے جنہیں دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ یہ اتنی بری طرح کیسے ہار گئے؟ مثلاً مارلون سیموئلز، کارلوس بریتھویٹ، ڈیوڈ ہسی، بریڈ ہوگ اور سعید اجمل۔

تو کراچی کنگز کا حشر چاہے کتنا ہی برا کیوں نہ ہوا ہو، لیکن انہیں یاد رکھنا ہے کہ "آپ نے گھبرانا نہیں ہے!"