پی ایس ایل: وہ مقابلے جو سپر اوور تک گئے!

لاہور-پشاور مقابلے نے کئی پرانی یادیں تازہ کر دیں

0 748

ویسے سوچا نہیں تھا کہ پاکستان سپر لیگ 7 کے پہلے مرحلے کا اختتام اتنے شاندار انداز میں ہوگا؟ قلندروں اور زلمیوں نے آخری دن غضب ڈھا دیا اور لیگ مرحلے کا آخری میچ ہیجان خیزی کی تمام حدیں پار کرتا ہوا آخری گیند پر شاہین آفریدی کے چھکے کی بدولت برابری پر ختم ہوا اور سپر اوور میں چلا گیا۔

لاہور قلندرز کو آخری گیند پر 7 رنز کی ضرورت تھی، یعنی وہ جیت تو نہیں سکتا تھا، الّا یہ کہ کوئی نو بال ہو جاتی، لیکن اُس گیند پر مقابلہ برابر کرنے کا موقع ضرور تھا۔ تب شاہین نے محمد عمر کو چھکا رسید کیا اور قذافی اسٹیڈیم میں موجود تماشائیوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔

یوں اس سیزن کا پہلا میچ تو بنا کہ جو سپر اوور میں داخل ہو لیکن یہاں لاہور ویسی کارکردگی نہیں دہرا سکا۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ وہاب ریاض نے ان کی ایک نہیں چلنے دی۔ زلمی کپتان نے سپر اوور میں صرف 5 رنز دیے اور پھر 6 رنز کے تعاقب میں شعیب ملک نے ابتدائی دو گیندوں پر چوکے لگا کر میچ کا خاتمہ کر دیا۔

پلے آف سے پہلے یہ پشاور زلمی کی مسلسل چوتھی اور سب سے شاندار کامیابی تھی، جس نے حوصلے خوب بلند کیے ہیں۔


پاکستان سپر لیگ کی 7 سالہ تاریخ میں یہ صرف چوتھا میچ تھا کہ جس کا فیصلہ سپر اوور میں جا کر ہوا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے تین میچز لاہور قلندرز کے تھے۔

پی ایس ایل تاریخ میں پہلا مقابلہ جو سپر اوور تک پہنچا، وہ 2018ء کے سیزن کا لاہور-اسلام آباد معرکہ تھا۔ ایک لو-اسکورنگ تھرلر!

اسلام آباد نے لاہور کو صرف 122 رنز کا ہدف دیا تھا، لیکن قلندرز آخری اوور میں 121 رنز پر آل آؤٹ ہو گئے۔ انہیں دو اوورز میں صرف 15 اور اور آخری اوور میں صرف 7 رنز کی ضرورت تھی، لیکن یہاں محمد سمیع نے اپنے کیریئر کا سب سے شاندار اوور کروایا۔ سلمان ارشاد سے چھکا کھانے کے باوجود انہوں نے اپنے حواس پر قابو رکھا اور آخری گیند پر انہیں آؤٹ کر کے میچ ٹائی کر دیا۔

جس کے بعد پی ایس ایل میں پہلا سپر اوور پھینکا گیا۔ لاہوری کپتان برینڈن میک کولم نے کرارے چھکے سے آغاز لیا لیکن اگلی گیند پر وہ باؤنڈری لائن پر کیچ دے بیٹھے۔ نئے بلے باز عمر اکمل ایک گیند ضائع کرنے کے بعد قسمت کے بل بوتے پر ایک چھکا لینے میں تو کامیاب ہو گئے لیکن وہ اور فخر زمان مزید کوئی باؤنڈری حاصل نہ کر پائے۔

اسلام آباد کو سپر اوور میں 16 رنز کا ہدف ملا ۔ پہلی گیند پر صرف ایک رن ملا اور اگلی گیند پر جو ہوا، اس نے لاہور کی شکست پر مہر ثبت کر دی۔ آصف علی کا اٹھتا ہوا شاٹ لانگ آن پر میک کولم اور عمر اکمل کی غلطی سے کیچ کے بجائے چھکا بن گیا۔ لاہور کے ہوش ایسے ٹھکانے لگے کہ مستفیض الرحمٰن نے دو وائیڈز تک پھینک دیں۔ پانچویں گیند  پر ملنے والا چوکا اور آخری گیند پر آندرے رسل کے چھکے کی بدولت اسلام آباد نے یہ میچ جیت لیا۔

اس کے کچھ ہی دن بعد ہیں ایک اور سپر اوور دیکھنے کو ملا، ایک ایسے میچ میں جس میں سپر اوور گویا آگ لگا دے۔ جی ہاں! کراچی اور لاہور کے میچ میں۔

کراچی کے 163 رنز کے جواب میں لاہور ایک مرتبہ پھر آخری اوور میں پھنس گیا، جہاں اسے 16 رنز کی ضرورت تھی۔ یہاں آخری اوور ایسا تھا گویا کوئی ٹیم جیتنا نہیں چاہ رہی۔ پہلے عثمان شنواری نے ایک چوکا اور چھکا کھایا اور معاملہ تین گیندوں پر درکار 4 رنز تک آ گیا۔ لیکن مچل میک کلیناگن کے رن آؤٹ کے بعد کراچی بالا دست پوزیشن پر آ گیا۔

آخری گیند پر جہاں تین رنز کی ضرورت تھی، سہیل اختر کا شاٹ باؤنڈری لائن پر کیچ ہو گیا، لیکن یہ ایک نو بال تھی۔ جس کے بعد آخری گیند پر دوسرا رن دوڑتے ہوئے گلریز صدف رن آؤٹ ہو گئے اور میچ ٹائی ہو گیا۔

محمد عامر کے اوور میں لاہور 11 رنز بنانے میں کامیاب ہوا، جس میں محمد عامر کی دو وائیڈ گیندیں بھی شامل تھیں۔ یہ دو رن کراچی کو آخر میں بہت مہنگے پڑے کیونکہ اب ان کے بلے بازوں کا سامنا سنیل نرائن سے تھا۔ ایک ایسے باؤلر، جو سپر اوور میں قیامت ڈھاتے ہیں۔

پہلی دو گیندوں پر نرائن نے صرف ایک رن دیا اور تیسری گیند پر مچل میک کلیناگن نے ایک شاندار کیچ لے کر کولن انگرام کی اننگز کا خاتمہ کر دیا۔ اگلی دو گیندوں پر صرف ایک رن بنا اور آخری گیند پر شاہد آفریدی کا چھکا بھی کام نہیں آیا۔ کراچی ہار گیا اور لاہور نے کچھ دن پہلے اسلام آباد سے سپر اوور میں شکست کا بدلہ کراچی سے لے لیا۔

آج سے پہلے پی ایس ایل میں آخری بار 2020ء میں ایک سپر اوور دیکھنے کو ملا تھا اور اس مرتبہ پھر کراچی کنگز ہی اس مرحلے تک آیا تھا۔ بس اس بار حریف ملتان تھا اور میچ تھا بہت ہی اہم، یعنی کوالیفائر!

ملتان کے 141 رنز کے جواب میں کراچی کو آخری اوور میں جیت کے لیے صرف 7 رنز درکار تھے لیکن آخری گیند پر چوکا بھی میچ کو ٹائی ہی کر سکا۔

کراچی پہلے کھیلتے ہوئے ابتدائی تین گیندوں پر شرجیل کی وکٹ گنوانے کے باوجود سنبھل گیا۔ ردرفرڈ نے آخری گیند پر آؤٹ ہونے سے پہلے سہیل تنویر کو ایک چوکا اور ایک چھکا ضرور لگایا اور یوں 13 رنز بن گئے۔

ملتان کو روکنے کی ذمہ داری محمد عامر کو پھینکی، جنہوں نے 'سپر سے بھی اوپر' اوور پھینکا۔ ملتانی بلے بازوں کو ایک باؤنڈری تک حاصل نہیں کرنے دی اور کراچی جیت گیا۔ اس شاندار کامیابی کے ساتھ وہ پہلی بار پی ایس ایل کے فائنل میں پہنچا اور بعد میں چیمپیئن بھی بنا۔