اسلام آباد پشاور کو روکنے کی مشکل مہم پر

پی ایس ایل 7 کا پہلا ایلیمنیٹر آج کھیلا جائے گا

0 232

پاکستان سپر لیگ بالآخر ناک آؤٹ مرحلے میں آ گئی ہے، جس میں آج ایلیمنیٹر 1 میں پشاور زلمی اور اسلام آباد یونائیٹڈ کا آمنا سامنا ہوگا۔

قذافی اسٹیڈیم میں گزشتہ روز ملتان سلطانز اور لاہور قلندرز کے مابین کھیلا گیا کوالیفائر فائنل کی ایک ٹیم کا فیصلہ تو کر چکا ہے، جو دفاعی چیمپیئن ملتان سلطان ہے۔ اب باقی ماندہ ایک نشست کے لیے سہ طرفہ جدوجہد کا آغاز ہوگا، جس میں پشاور زلمی، اسلام آباد یونائیٹڈ اور لاہور قلندرز فائنل تک پہنچنے کی کوشش کریں گے۔ یہ زندگی اور موت کی کشمکش ہے کیونکہ دونوں ایلیمنیٹرز میں جو بھی ہارا، اعزاز کی دوڑ سے باہر ہو جائے گا۔

پشاور یہاں تک کیسے پہنچا؟

پہلے ایلیمنیٹر میں ہمیں پشاور کا پلڑا بھاری نظر آتا ہے کیونکہ وہ مسلسل چار کامیابیوں کے ساتھ یہاں تک آیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ زلمی سیزن کے ابتدائی 6 میں سے صرف 2 میچز جیت پایا تھا۔ آغاز تو کامیابی سے کیا لیکن پھر اسلام آباد اور لاہور کے ہاتھوں پے در پے شکستیں کھائیں۔ بے حال کراچی کے خلاف جیتے تو ملتان آڑے آ گیا، جس نے پہلے نیشنل اسٹیڈیم اور پھر قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے دونوں میچز میں پشاور کو بُری طرح ہرایا۔ 57 اور 42 رنز کی اِن بڑی شکستوں نے پشاور کے نیٹ رن ریٹ کو بُری طرح متاثر کیا۔ لگ رہا تھا کہ اگر آخر میں معاملہ اِس نہج پر آیا تو پشاور سب سے پہلے باہر ہو جائے گا۔

لیکن یہاں پشاور مقابلے کی دوڑ میں واپس آیا، بلکہ آیا کیا؟ آ گیا تے چھا گیا! پہلے کراچی کنگز کو 55 رنز سے اور پھر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 24 رنز سے ہرایا اور پھر آخر میں اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف کامیابی حاصل کر کے اپنا پرانا بدلہ بھی چکا دیا۔

پھر سیزن کا سب سے شاندار مقابلہ ہوا، جس میں پشاور زلمی کی صلاحیتیں کھل کر سامنے آئیں۔ 'فین فیورٹ' لاہور قلندرز کے خلاف لیگ مرحلے کا آخری مقابلہ آخری گیند اور آخری کھلاڑی تک گیا، جس میں لاہوری کپتان شاہین آفریدی نے ناقابلِ یقین بلے بازی کی اور میچ ٹائی ہو گیا۔

لیکن پشاور زلمی حواس باختہ نہیں ہوا اور سپر اوور میں با آسانی کامیاب ہو گیا۔ یہ سیزن کا سب سے شاندار مقابلہ تھا اور بلاشبہ زلمی کی سب سے نمایاں کامیابی بھی۔

مسلسل چار فتوحات ظاہر کرتی ہیں کہ تمام تر مسائل کے باوجود زلمی میں مقابلے میں واپس آنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں اور آنے والے ہر مقابل کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔

اسلام آباد کی داستانِ غم

اسلام آباد کے لیے یہ سیزن بس جلتا بجھتا ہی رہا ہے۔ ایک مقابلہ جیتتے، دوسرا ہارتے اُن کے 7 میچز گزر گئے اور اس کے بعد بھی بجائے اس کے کہ سنبھلتے، انہیں یکے بعد دیگرے تین شکستیں ہو گئیں۔ بڑی مشکل سے نیٹ رن ریٹ کے بل بوتے پر ایلیمنیٹر تک پہنچے ہیں۔

لیکن اب نازک ترین مرحلے پر یونائیٹڈ کے لیے کچھ خوش خبریاں ہیں: ایک تو ایلکس ہیلز کی واپسی کی اطلاعات ہیں جو کووِڈ ببل سے تنگ آ کر دستبردار ہو گئے تھے۔ پھر زخمی شاداب خان، حسن علی اور کولن منرو کی آمد کا امکان بھی موجود ہے۔ ان میں سے اگر دو کھلاڑی شاداب خان اور ایلکس ہیلز بھی ٹیم میں واپس آتے ہیں تو امید ہے کہ یہ مقابلہ بہت ہی تگڑا ہوگا، ویسے ہونا بھی چاہیے۔

ہیڈ ٹُو ہیڈ

پشاور زلمی اور اسلام آباد یونائیٹڈ نے رواں سیزن میں دو مرتبہ ایک دوسرے کا سامنا کیا۔ پہلا میچ اسلام آباد نے با آسانی 9 وکٹوں سے جیتا تھا جبکہ دوسرا مقابلہ زلمی نے 206 رنز بنانے کے باوجود بڑی مشکل سے 10 رنز سے جیتا، یعنی دونوں میں بہت ہی سخت ٹکر ہوتی ہے۔ اب دیکھتے ہیں بڑے مقابلے میں کون دباؤ کو جھیل پاتا ہے۔

آگے کیا؟

ایلیمنیٹر دراصل ناک آؤٹ مقابلہ ہوتا ہے جس میں ہارنے والا شکست کے ساتھ ہی eliminate یعنی باہر ہو جاتا ہے۔ اس لیے غلطی کی گنجائش کسی کے پاس نہیں۔ لیکن واضح رہے کہ جیتنے والا بھی براہ راست فائنل تک رسائی حاصل نہیں کرے گا بلکہ اس کے لیے لاہور قلندرز کی صورت میں ایک اور بڑا امتحان باقی ہوگا۔ لاہور کوالیفائر میں ملتان سے شکست کھانے کے بعد ایلیمنیٹر تک آیا ہے اور آج جیتنے والی ٹیم سے ایلیمنیٹر 2 میں کھیلے گا، وہ بھی قذافی اسٹیڈیم میں، جو ہر گز آسان نہیں ہوگا کیونکہ لاہور کی سپورٹ اِس وقت اپنے عروج پر ہے اور مقابلہ 11 کھلاڑیوں سے ہی نہیں، بلکہ 27 ہزار تماشائیوں سے بھی ہوگا۔